اسلام آباد دھرنا کے سلسلہ میں 847 افراد نظر بند، 293 گرفتارکئے گئے ،ہائی کورٹ میں حکومت کا اعتراف

اسلام آباد دھرنا کے سلسلہ میں 847 افراد نظر بند، 293 گرفتارکئے گئے ،ہائی کورٹ ...
اسلام آباد دھرنا کے سلسلہ میں 847 افراد نظر بند، 293 گرفتارکئے گئے ،ہائی کورٹ میں حکومت کا اعتراف

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائی کورٹ نے اسلام آباد دھرنے کو روکنے کے لئے شہریوں کی پکڑ دھکڑ اور سٹرکوں پر رکاوٹیں کھڑی کرنے کے خلاف دائر تحریک انصاف کی درخواست واپس لینے کی بنا پرنمٹا دی.

پنجاب حکومت عدالت میں 847 نظر بندیوں اور 293 گرفتاریوں کا اعتراف کرلیاہے جبکہ پنجاب حکومت کی طرف سے عدالت کو یقین دہانی کروائی گئی کہ ایم پی او کے تحت گرفتار اور نظر بند تمام افراد کو رہا کردیا جائے گا تاہم جن کارکنوں کے خلاف فوجداری مقدمات درج ہیں ،انہیں رہائی کے لئے عدالتوں سے رجوع کرنے پڑے گا۔جسٹس شاہد حمید ڈار کی سربراہی میں فل بنچ نے تحریک انصاف کی درخواستوں پر سماعت کی، تحریک انصاف کی جانب سے عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ تحریک انصاف ملک سے کرپشن کے خاتمے کے لئے مسلسل جدوجہد کررہی ہے، پاناما لیکس میں وزیراعظم اور ان کے خاندان کے بیرون ملک اثاثوں کا انکشاف ہوا ہے،تحریک انصاف نے ہر ایک فورم پر پانامالیکس کے حوالے سے تحقیقات کا مطالبہ کیا، چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی جانب سے 2نومبر کو اسلام آباد میں دھرنے کا اعلان کیا گیا جس کو ناکام بنانے کے لئے پنجاب حکومت کریک ڈاو ¿ن کرکے گرفتاریاں اور نظر بندیاں کررہی ہے،پرامن احتجاج، ہر سیاسی جماعت کا قانونی اور آئینی حق ہے.

تحریک انصاف کی جانب سے عدالت سے استدعا کی گئی کہ حکومت کو خلاف قانون ہتھکنڈے استعمال کرنے سے روکا جائے اور گرفتار کارکنوں کو فوری رہا کرنے کا حکم دیا جائے،ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے پنجاب حکومت کی جانب سے عدالت میں رپورٹ پیش کی گئی، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب شکیل الرحمن نے عدالت میں اعتراف کیا کہ صوبے بھر میں 847 افراد کو نظر بند کیا گیا جن میں سے 147 افراد لاہور میں نظر بند کئے گئے، تحریک انصاف کے کارکنوں کے خلاف 86 مقدمات درج کیے گئے، مقدمات کے تحت 293 افراد کو گرفتار کیا گیا، عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب شکیل الرحمن خان سے استفسار کیا کہ عدالت کو آگاہ کیا جائے کہ سڑکوں سے کنٹینرز اور رکاوٹیں ہٹائی گئیں یا نہیں، ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ سڑکوں سے تمام رکاوٹوں کو ہٹا دیا گیا ہے، ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ عدالتی حکم کے تحت سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی نہیں کی گئیں، عدالتی سماعت کے موقع پر تحریک انصاف کی جانب سے دائر درخواست واپس لینے کی استدعا کی گئی جس پر عدالت نے درخواست واپس لینے کی بنا پر نمٹا دی، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت کو یقین دہانی کروائی کہ نظر بند اور گرفتار افراد کو فوری طور پررہا کردیا جائے گا جبکہ دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر درج مقدمات میں گرفتار کارکنوں کی ضمانت کے لئے درخواست گزار عدالت سے رجوع کریں۔

مزید : لاہور