نیب انکوائری سے پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر کا کیا نقصان ہے ؟ ہائی کورٹ نے رجسٹرار کی درخواست مسترد کردی

نیب انکوائری سے پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر کا کیا نقصان ہے ؟ ہائی کورٹ نے ...
نیب انکوائری سے پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر کا کیا نقصان ہے ؟ ہائی کورٹ نے رجسٹرار کی درخواست مسترد کردی

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے وائس چانسلر مجاہد کامران کے خلاف نیب انکوائری روکنے کی نظر ثانی کی درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کردی.

عدالت نے قرار دیا کہ عدالت نے صرف انکوائری کا حکم دیا ہے، انکوائری کرانے سے مجاہد کامران کا کیا نقصان ہوتا ہے۔جسٹس وقاص رﺅف مرزا کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے رجسٹرار پنجاب یونیورسٹی کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی، جامعہ پنجاب کے وکیل ملک اویس خالد نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ عدالت عالیہ نے ستائیس اکتوبر کو وائس چانسلر کیخلاف نیب کو انکوائری کا حکم دیا، عدالتی حکم حقائق چھپا کر لیا گیا، درخواست گزار کو پہلے چانسلر پنجاب یونیورسٹی سے مجاہد کامران کے خلاف رجوع کرنا چاہیے تھا، پنجاب یونیورسٹی کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ مجاہد کامران کے خلاف فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، دوران سماعت عدالت نے پنجاب یونیورسٹی کے وکیل ملک اویس خالد سے استفسار کیا کہ عدالت نے وائس چانسلر جامعہ پنجاب ڈاکٹر مجاہد کامران کے خلاف صرف انکوائری کا حکم دیا ہے،اگر مجاہد کامران کرپشن میں ملوث نہیں ہیں تو انکوائری کرانے سے مجاہد کامران کا کیا نقصان ہوتا ہے، نظرثانی کی درخواست ناقابل سماعت ہے.

عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر وائس چانسلر مجاہد کامران کے خلاف نیب انکوائری روکنے کی نظر ثانی کی درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کردی، لاہور ہائی کورٹ نے 27اکتوبر کو رفیق علوی کی درخواست پر نیب کو پنجاب یونیورسٹی میں 350 سے زائد غیرقانونی بھرتیوں کی انکوائری کا حکم دیا تھا، درخواست گزار کی جانب سے عدالت میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ مجاہد کامران نے سنڈیکیٹ اور سینیٹ کی منظوری کے بغیر بھرتیاں کیں،یونیورسٹی میں بھرتیاں قواعد و ضوابط سے ہٹ کر کی گئیں،نیب کو مجاہد کامران کے خلاف انکوائری کی درخواست دی مگر نیب مجاہد کامران کے خلاف انکوائری کی بجائے خاموش تماشائی بنا بیٹھا ہے، درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ نیب کو پنجاب یونیورسٹی میں غیرقانونی بھرتیوں کی انکوائری کا حکم دیا جائے۔

مزید : لاہور