امریکہ نے سعودی عرب کو وہ کام کرنے سے روک دیا جو خود پوری دنیا میں کررہا ہے

امریکہ نے سعودی عرب کو وہ کام کرنے سے روک دیا جو خود پوری دنیا میں کررہا ہے
امریکہ نے سعودی عرب کو وہ کام کرنے سے روک دیا جو خود پوری دنیا میں کررہا ہے

  

نیویارک (نیوز ڈیسک) سعودی عرب کو یمن کی جنگ میں پھنسانے والے امریکہ نے جنگ کے شعلے پوری طرح بھڑکانے کے بعد اب مطالبہ کردیا ہے کہ سعودی عرب کو فوری طور پر یمن پر حملے روک دینے چاہئیں۔ اخبار دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق امریکہ پر ایک جانب یہ تنقید کی جارہی ہے کہ اس نے سعودی عرب کو جنگ کے شعلوں میں دھکیلا اور اس آگ کو بھڑکانے کے لئے اسلحہ بھی فراہم کیا، لیکن اب اس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی میٹنگ میں معصومانہ چہرہ بنا کر یہ مطالبہ کردیا ہے کہ سعودی عرب کو یمن پر فضائی حملے بند کردینے چاہئیں۔

دنیا کا سب سے خطرناک ترین ہتھیار کونسا ہے اور چند سیکنڈ میں ہی کتنی تباہی پھیلاسکتا ہے؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آگئیں

اقوام متحدہ میں امریکی سفیر سمانتھا پاور نے امریکہ کی امن دوستی کا ڈرامہ کرتے ہوئے سعودی عرب اور یمن پر زور دیاکہ خطے کے استحکام اور سلامتی کی خاطر دونوں اطراف کو جنگ بندی کرنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ تقریباً ڈیڑھ سال پر محیط لڑائی کے بعد یہ ظاہر ہے کہ اس مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سکولوں، ہسپتالوں اور دیگر سویلین اہداف پر کئے جانے والے فضائی حملے روکنا ہوں گے کیونکہ ان حملوں کی وجہ سے یمن کے مظلوم عوام تک امداد پہنچانا ممکن نہیں ہورہا۔

امریکہ کے دوغلے پن پر تنقید کرنے والوں کا کہناہے کہ اس کی جانب سے یمن کی جنگ جاری رکھنے کے لئے اسلحہ اور دیگر امداد اب بھی فراہم کی جارہی ہے لیکن دوسری جانب اقوام متحدہ میں امریکہ یہ مطالبہ کررہا ہے کہ جنگ فوری طور پر بند ہونی چاہیے۔ اقوام متحدہ کے ڈائریکٹر برائے ہیومن رائٹس واچ لوئی شاربونیو نے امریکی منافقت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی جانب سے جنگ بندی کے مطالبے میں کچھ وزن ہوتا اگر یہ خود اس جنگ کے شعلے بھڑکانے کے لئے اسلحہ فراہم کرنا بند کردیتا۔

مزید : بین الاقوامی