عمران خان کی شطرنج پر حکومت کو شکست

عمران خان کی شطرنج پر حکومت کو شکست
عمران خان کی شطرنج پر حکومت کو شکست

  

خالد ارشاد صوفی

کارکن گرفتار اور رہ نما محصور کردئےے جائیں تو سڑکوں پر سونامی نکلنے سے قاصر رہتا ہے ۔پاکستان کی تاریخ کو پڑھے بغیر جو لوگ عمران خان کی گت بنارہے اور دھرنے کی ناکامی کے طعنے مارکر اس کو طیش اور غیرت دلارہے ہیں ،انہیں یہ بھولا ہوا سبق یاد رکھنا چاہئے کہ پرویز مشرف نے جب شریف برادران کو جیل میں ڈالا تو کتنے لوگ سڑکوں پر نکل پائے اور پھر جلاوطنی کے بعد شریف قیادت نے پاکستان میں واپسی کا اعلان کیا تو انکی حمایت میں سڑکیں بلاک کرنے والوں کی تعداد کتنی تھی۔اس سے پیچھے چلے جائیں۔بھٹو کو جب پھانسی دینے کا اعلان ہوا تو کیاپیپلز پارٹی کے جلسوں اور احتجاجی دھرنوں سے ہمالیہ تک آگ پہنچ پائی تھی؟ پیپلز پارٹی کو نہ یہ دور بھولا ہوگا نہ نون لیگ کی قیادت کو، کیونکہ حکمران چاہے فوجی ڈکٹیٹر ہوں یا عوامی ، وہ ریاستی مشینری اور ہتھکنڈے استعمال کرکے مخالفین کے دھرنے ناکام بنا سکتے ہیں لیکن بعض دفعہ حالات ایسے بھی پیدا ہوجاتے ہیں کہ حکومت خود ناکام ہوجاتی ہے لیکن یہ اس صورت میں ہوتا ہے جب کچھ ادارے غیر جانبدار ہوجائیں۔حکومت کو انکی مکمل سپورٹ نہ ہو تو وہ مخالفین کی تحریک کو دبا نہیں سکتی ۔

عمران خان نے دھرنے کی کال واپس لی تو اس پر سب سے بہترین تبصرہ چودھری نثار کا تھا کہ کسی کی ہارجیت نہیں ہوئی ۔یہ ایک شائستہ اور سلجھا ہوا بیان ہی نہ تھابلکہ عمران خان کے یاردیرینہ ہونے کے ناطے وہ بخوبی سمجھ گئے تھے کہ عمران خان کی یوٹرن میں حکمت ہوتی اور وہ کوئی نہ کوئی مقصد حل کرکے واپس پلٹتے ہیں۔ دوسری جانب طلال چودھری اور دانیال عزیز نے پی ٹی آئی کا تمسخر اڑانے اورناکام ہونے کا طعنہ مارکر غیر جمہوری رویہ کا اظہار کیا ہے ۔پی ٹی آئی کے چئیرمین عمران خان نے دھرنا ختم کرکے یوم تشکر منانے کا اعلان کیا تو اس پر حکومتی ترجمانوں نے دل کی بھڑاسیں نکالیں اور انہیں تاو¿ دلانے کی ناکام کوششیں کیں۔حالانکہ یہ بات سب کو معلوم ہوچکی ہے کہ عمران خان کے اس دھرنے کا بنیادی مقصد جزوی طور پر حل ہوچکا ہے۔وہ عدلیہ کو پانامہ لیکس کے کیس میں پیش رفت پر مجبور کرنا چاہتے تھے جس کے لئے عمران خان نے شطرنج بچھائی تھی اور وہ اس میں کامیاب رہے ہیں۔دوسری طرف ن لیگ والوں کا کہنا ہے کہ چونکہ دھرنا کے لئے لوگ پہنچ نہیں پارہے تھے اس لئے عمران خان نے بادل نخواستہ دھرنے کی کال واپس لی ۔اگر بغور جائزہ لیا جائے تو یہ بات کھل کر سامنے آگئی ہے کہ حکومت نے پورے پنجاب میں پکڑ دھکڑ کرکے اور کنٹینرز لگا کر اسلام آباد کی جانب جانے والوں راستوں کو بند کردیا تھا جس سے پی ٹی آئی کی فورس اسلام آباد پہنچنے میں مشکل محسوس کررہی تھی اور اسے پولیس تشدد اور گرفتاریوں کا بھی سامنا تھا۔احتجاج کی تحریک کو کامیاب کرانے کے لئے افرادی قوت کو کن کن وسائل کی ضرورت ہوتی ہے یہ ہر جماعت اچھی طرح سمجھتی ہے ۔پی ٹی آئی والوں کے راستے روک کرانہیں محصور بنی گالہ تک نہیں پہنچنے دیا گیا تو غور کیجئے کیادھرنا سے ایک ہفتہ قبل ہی حکومت کی پیدا کردرکاوٹوں سے دھرنا جزوی طور پر کامیاب نہیںہوگیا ۔عمران کو مزید قوت لگانے کی کیاضرورت تھی جب حکومت خود اس کا کام آسان کررہی تھی۔ کیونکہ عام مسافروں کو جب سڑکوں پر راتیں گزارنا پڑیں اور ان رکاوٹوں کے باعث کئی قیمتی جانیں بھی ضائع ہوئیں تو اس نقصان کا ذمہ دار ٹھہرایاگیا۔کیا حکومت نے دو نومبر سے ایک ہفتہ پہلے ہی حالات میں سنگینی اور دہشت پیدا کرکے پنجاب اور کے پی کے میں دھرنا کے نفسیاتی اور عملی تقاضے پورے نہیں کردئےے ۔عمران خان بھی تو یہی چاہتے تھے۔حکومت ہڑبڑا کر سخت اقدامات اٹھائے،ڈان لیکس اور پانامہ لیکس کا کوئی نہ کوئی رزلٹ ڈکلئیر کرے ۔عمران خان کی منشا کے مطابق ایسا ہوگیا۔پرویز رشید وزارت سے گئے،پانامہ لیکس کا کیس لگ گیا .

عمران خان کو بے وقوف اور پورس کا ہاتھی کہنے والوں کو اسکی شاطرانہ کھیل پر داد دینی چاہئے ۔

مزید : بلاگ