دانشور،عوام اور چوپائے

دانشور،عوام اور چوپائے
 دانشور،عوام اور چوپائے

  



پاناما کے معاملات جب سے شروع ہوئے ہیں بہت سے حلقوں کا کام خوب چمکا ہے، اِن میں میڈیا سرفہرست ہے، جس سے منسلک افراد کے چہرے خوشی سے دمک رہے ہیں۔نئے موضوعات کی تلاش کی ضرورت نہیں، ایک سدا بہار موضوع ہاتھ آ گیا ہے، جس میں ہر طرح کی آسانیاں ہیں۔

جتنا مرضی مرچ مصالحہ ڈال لو، ذائقہ ہے کہ بڑھتا ہی جاتا ہے۔ سمجھ لیں کہ آپ جھولے پر بیٹھے ہوئے ہیں جتنا مرضی اچھالو۔رسیاں ہیں کہ ٹوٹ نہیں سکتیں اور پھر جتنا مرضی جھولو، نہ کوئی حد ہے اور نہ کوئی قید۔میڈیا کے بعد تجزیہ کاروں کی بھی خوب چاندی ہوئی ہے، سو ان کے ہاتھ ایک ایسا موضوع لگا ہے، جس پر تبصرہ کرنے کے لئے پڑھنے لکھنے کی ضرورت نہیں۔

آپ جو مُنہ میں آئے بول سکتے ہیں۔ زبان کے نشتر چلا کر کسی کو اَدھ موا کر سکتے ہیں اور ایسا زہریلا مواد پھینک سکتے ہیں، جو کوبرا سانپ کے زہر سے بھی زیادہ طاقتور ہے اور جس کے ڈسے کے جانبر ہونے کی کوئی امید نہیں۔اِس کے ساتھ ہی ہمارے دانشور حضرات ہیں، جن کی پاناما کی شکل میں غیبی مدد ہوئی ہے۔دانش کے ایسے موتی اُن کے منہ سے نکلتے ہیں کہ عش عش کرنے کو دِل کرتا ہے۔

اگر آپ پاناما کے بارے میں اظہارِ خیال کی طاقت رکھتے ہیں تو آپ بنے بنائے دانشور ہیں اور میڈیا آپ کے پیچھے ہو گا اور آپ آگے آگے اور جس نے آپ کو پکڑ لیا وہ خوش قسمت کہلائے گا۔پاناما ایک ایسا موضوع ہے، جس نے ایسے بہت سے افراد کو دانشور بنا دیا ہے،جن کی دانش سے اُن کے گھر والے اور عزیز و اقارب بھی پناہ مانگتے ہیں اور دور سے سلام کر کے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

گزشتہ کچھ عرصے سے دانشوروں کے بارے میں ہمارے تصور کو بہت ٹھیس پہنچی ہے۔دانشور ہمارے خیال میں کسی ایسی شخصیت کا نام تھا، جو علم و دانش کے موتی بکھیرے،جس کی شخصیت میں ٹھہراؤ ہو،منفی سوچ اور غرور و تکبر اُس سے کوسوں دور ہو، جو معاشرے میں اخلاقی اقدار کے فروغ کے لئے کوشاں رہے،انتہا پسندی سے اُس کا دور کا بھی واسطہ نہ ہو،اُس کی زبان سے زخم ہرے نہ ہوں،بلکہ مندمل ہو جائیں، حلم اور برد باری جس میں کوٹ کوٹ کر بھری ہو، چہرے پر مسکراہٹ ہو اور جسے دیکھ کر تنے ہوئے چہرے اور اکڑی ہوئی گردنیں نرم پڑ جائیں،جو سچ بولنے میں مصلحت کا شکار نہ ہو، جھوٹ بولنے میں کراہت محسوس کرے،جو جذباتی نہ ہو، اشتعال میں نہ آئے،غصے میں بھی بدیانتی نہ کرے اور جن کے شر سے مخلوق خدا محفوظ رہے۔۔۔لیکن ان دِنوں ٹیلی ویژن کی سکرینوں پر براجمان دانشور ایک دوسری تصویر پیش کرتے ہیں۔

فرشتہ صفت اور امانت و دیانت کے پیکر تجزیہ نگار اور دانشور روزانہ شام سات بجے ٹیلی ویژن سکرینوں پر نازل ہونا شروع ہوتے ہیں اور رات بارہ بجے تک ان کا نزول ہوتا رہتا ہے۔بعض تو دیکھنے میں بھی فرشتے لگتے ہیں۔باریش نورانی چہرے، جنہیں دیکھتے ہی قدم چومنے کو دِل کرے،لیکن بعض ایسے جنہیں دیکھ کر عزرائیل فرشتہ یاد آئے اور جن کے رعب اور جاہ و جلال کو دیکھ کر انسان تھر تھر کانپنے لگے۔

غرور اور تکبر جن میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا نظر آئے،بات کریں تو ساتھ غرانے کی آوازیں نکلیں، بات گھما پھرا کر کریں اور اِس مقصد کے لئے زبان کو اوپر نیچے حرکت دیں،آواز میں اتنا غصہ کہ دِل دہل جائیں، بس چلے تو مخالفین کو تہہ تیغ کرنے میں دیر نہ کریں،اپنی مرضی کی بات سننا پسند کریں اور اگر اکیلے پروگرام کرنا مقصود ہو تو مرضی کا کمپیئر ہونا چاہئے، جو اِن کی اُوٹ پٹانگ گفتگو سُن کر واہ واہ کرے اور جواب میں زبان سے کوئی نو نو ادا نہ کرے۔

فرشتہ صفت یہ دانشور اور تجزیہ نگار جو ایمانداری کے پیکر اور صادق و امین ہیں،روزانہ شام کے وقت پانچ گھنٹے تک گنہگاروں سے حساب کتاب لیتے ہیں۔اُن کو پتھر مارتے ہیں اور اِس کے بدلے ثواب دارین اور بھاری بھر کم چیک لینے کے مستوجب ٹھہرتے ہیں۔

یہ مضرات پانچ گھنٹوں میں اتنا ثواب کما لیتے ہیں کہ بقیہ انیس گھنٹے انہیں مزید کوئی اچھا کام کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ثواب ہی اتنا ہوتا ہے، جو ختم ہونے کا نام نہیں لیتا۔پانچ گھنٹے گنہگاروں کو پتھر مارنے کے بعد یہ اپنے روزمرہ اشغال میں مصروف ہو جاتے ہیں۔

اپنے پسندیدہ مشروب سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں، جھوٹ بول سکتے ہیں،کسی پر تہمت لگا سکتے ہیں، لگائی بجھائی کر سکتے ہیں، اگر کسی گناہ کبیرہ کی ضرورت محسوس ہو تو اُس میں بھی کوئی مضائقہ نہیں،کیونکہ شام کے وقت گنہگاروں کو پتھر مارنے کا کام تو روزانہ ہی مل جاتا ہے۔اِس کام کے ذریعے یہ دوبارہ گنہگاروں کو پتھر مار کر پاک صاف ہو جاتے ہیں۔

یہ ایک ایسا کام ہے،جس کی بدولت انہیں توبہ کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی، اِس لئے آپ نے ہمارے تجزیہ نگاروں اور دانشوروں کو بہت کم توبہ کرتے دیکھا ہو گا۔ اِن میں سے بعض تو ایسے ہیں جو احساس برتری کی بلندیوں پر پائے جاتے ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ عوام اُن کی مرضی اور سوچ کے مطابق چلیں۔ اِسی طرح کی صورتِ حال گزشتہ الیکشن میں این اے 120 لاہور کے موقع پر نمودار ہوئی۔

ایک دانشور جو ایک خاص پارٹی کو جتانے کے خواہشمند تھے،الیکشن کے نتائج پر آگ بگولہ ہو گئے۔ ایک لحاظ سے وہ گالم گلوج پر اُتر آئے۔اُن میں سے ایک صاحب نے ایک ٹیلی ویژن پروگرام میں عوام کو چوپائے قرار دے دیا۔

جب ساتھی دانشوروں نے اِس بات پر تشدید ردعمل کا اظہار کیا تو فرمانے لگے کہ یہ تو فلاں دانشور کا قول تھا۔بہرحال بات اُن کے دِل کی تھی، جو اچانک زبان پر آ گئی۔اب این اے 4پشاور کا رزلٹ آ چکا ہے اور اُن کی پسندیدہ پارٹی کامیاب ہو گئی ہے۔

ہو سکتا ہے کہ اُس نتیجے سے وہ راحت محسوس کریں اور اُن کا عوام یعنی چوپایوں پر غصہ ٹھنڈا پڑ جائے۔ اگر افاقہ محسوس کریں تو ٹھنڈے دِل سے سوچیں کہ اُن کو دانشور کا درجہ کس نے دیا ہے؟اگر عوام اُن کی مایوس اور غصیلی سوچ پر توجہ نہ دیں اور اُن کے وعظ سے اپنے آپ کو دور کر لیں، ٹیلی ویژن چینل اور پرنٹ میڈیا اُن کو لفٹ نہ کرائے اور اُن کے فرمودات اُن تک ہی محدود رہیں، تو کیا وہ پھر بھی دانشور کہلائیں؟ واقعی عوام چوپائے ہیں، جن کی وجہ سے بہت سے غیر مستحق افراد بھی دانشور کے درجے پر فائز ہیں۔

مزید : کالم