ایک سبق آموزحکایت 

ایک سبق آموزحکایت 

  



   کلام مجید میں اللہ رب العزّت نے باربار تنبیہ کی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ؐکے احکامات، نصیحتوں پر بلاچون وچرا عمل کرو۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی صاف صاف کہا ہے (سورۃ آل عمران، آیات 31-32) کہ ”اے پیغمبرؐ لوگوں سے کہہ دو کہ اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میری پیروی کرو اللہ بھی تمھیں دوست رکھے گا اور تمھارے گناہ معاف کردے گا اور اللہ بخشنے والا ہے۔ کہہ دو اللہ اور اس کے رسولؐ کا حکم مانو، اور اگر یہ نا مانیں تو اللہ بھی کافروں کو دوست نہیں رکھتا“۔ اللہ رب العزّت نے تو یہاں تک فرمایا ہے کہ ”جو شخص رسولؐ کی فرمانبرداری کرے گا تو بیشک اس نے اللہ کی فرمانبرداری کی اور جو نافرمانی کرے گا تو اے پیغمبر تمہیں ہم نے ان کا نگہبان بنا کر نہیں بھیجا ہے“ (سورۃ النساء آیت 80)۔ کلام مجید میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو ناشکرا، بے صبرا، جھگڑالو، کم عقل، مغرور وغیرہ قرار دیا ہے۔ ایک ایسا ہی واقعہ جو مولانا روم نے اپنی مثنوی میں بیان کیا ہے آپ کی خدمت میں پیش کررہا ہوں، ایک کم عقل، نابلد شخص نے رسولؐ کے ایک حکم یا فرمان جو آپ نے بنی ہذیل قبیلہ کے ایک نوجوان کو اسلامی لشکر کا سپہ سالار بنا دیا جو کافروں کے خلاف جنگ کے لئے روانہ ہورہا تھاکو نامانا۔ اس لشکر میں لاتعداد بڑی عمر والے جنگجو سپاہی تھے ہذیل عرب کا ایک مشہورقبیلہ تھا۔ سب کو علم تھا کہ سردار یا سربراہ لشکر کی جان ہوتا ہے اور بغیر سردار کی قوم بے سر والا جسم ہوتی ہے۔دراصل یہ ایک طرح کی بے حس، مردہ، پژمردہ قوم یا فوج ہوتی کہ اس نے سردار سے علیحدگی اختیار کرلی ہے۔ اے اعتراض کرنے والے توسستی، بخل اور انانیت کی وجہ سے مغرور و سرکش ہوتا ہے اور خود کو سردار تصور کرتا ہے۔ تیری حیثیت اس گدھے کی سی ہے جو بوجھ گرا کر پہاڑ کی جانب بھاگنا شروع کردیتا ہے اور گدھے کا مالک چلّاتا رہتا ہے کہ پہاڑ میں لاتعداد بھیڑیے ہیں جو تجھے مار ڈالیں گے اور تیری ہڈیاں گنّے کی طرح چبا ڈالیں گے۔مولانا رومی ؒکا مقصد یہ سمجھانا ہے کہ انسان کی نیکی کے کاموں میں سستی و کاہلی اس لئے ہوتی ہے کہ وہ کسی عالم، کسی شیخ کو اپنا سردار، پیر و مرشد نہیں بناتا اور شیخ یا صوفی سے گریز کرنے والے کی مثال اس گدھے کی سی ہے جو اپنے بوجھ سے گھبرا کر پہاڑ کی جانب بھاگ پڑے۔ شیخ بھی بھاگنے والے کو سمجھاتا ہے کہ بھاگنے میں ہلاکت ہے اور نعمتوں سے محرومی بھی ہے۔ مولاناکہتے ہیں کہ نفس گدھا ہے اور جب وہ انسان پر غالب ہوجائے تو انسان گدھا کہلایا جائے گا۔ اے گدھے تو ایسا نہ کر ورنہ گھاس سے محروم ہوجائے گااور بغیر ایندھن کے آگ تباہ و برباد ہوجاتی ہے۔ خبردار! اے گدھے میرا کام کرنے سے نہ بھاگ اور بوجھ لادنے سے جان نہ چْراکیونکہ میں تیری جان ہوں یعنی رزق کا ذمّہ دار ہوں۔ تْوتو گدھا ہے کیونکہ تیرا نفس، تیری روح پر غالب ہے اور سْن اے نفس پرست!حکم غالب، محکوم پر لگتا ہے۔ مولانا رومیؒکہتے ہیں کہ جن لوگوں پر نفس کا غلبہ ہوتا ہے ان کو اللہ تعالیٰ نے ازراہ کرم گدھا نہیں گھوڑا کہا ہے۔ عرب میں جب عربی نسل کے گھوڑے کو فقط ’تعال‘ آجاؤ کہہ کر بلاتے ہیں اسی طرح قرآن نے رسولؐ کو کہا ہے کہ ان لوگوں کو تعالو ا کہو۔ اللہ تعالیٰ نے ازراہ جذبہ کرم فرمایا کہ ”کہہ دو کہ آؤ“ تاکہ میں تم سے ریاضت کراؤں چونکہ میں ریاضت کرانے والا ہوں۔ میں نے جب سے نفسوں کو مرتاض بنا دیا ہے ان گھوڑوں کی بہت سی دولتیاں کھائی ہیں۔ جہاں کہیں بھی ریاض کرانے والا ہوا ہے اس کے لئے دولتیاں باعث تکلیف و درد نہیں ہیں۔لامحالہ یعنی تاریخ گواہ ہے کہ ہمیشہ پیغمبرانِ الٰہی ہی کڑی آزمائشوں سے گزرے ہیں۔ ہمارے پیارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ ہے آپؐ نے اللہ کا پیغام پہنچانے میں کس قدر تکالیف اْٹھائیں۔ اسی طرح اناڑیوں کو ریاضت کرانا خاصی مصیبت ہے۔ پیغمبر چونکہ قوم کی تربیت کرتا ہے لہٰذا اس کو بہت سارے مصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عوام سے کہا گیا ہے کہ تم سست رفتار گھوڑے ہو میری رفتار سے تیز چلو تاکہ نرم رفتار اور شاہ کی سواری بن جاؤ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا’کہہ دے آجاؤ کہہ دے آجاؤ، اے گھڑدوڑ میں عاجز گھوڑو! اللہ تعالیٰ نے فرمایا،’کہہ دے آجاؤ، کہہ دے آجاؤ اے سست رگ اور پٹھوں والے گھوڑو! اے نبیؐ اگر وہ نہ آئیں تو تم غمزدہ نہ ہونا ان دو (چار) بے وقعت کی وجہ سے غصّہ نہ کرو، بعض لوگ ان ’آجاؤ‘ کی آوازوں، نعروں سے بہرے ہیں، ہر گھوڑے کا دوسرا اصطبل ہے۔ یہاں مولانا رومیؒ کا مطلب ہے کہ اے نبی ؐلوگوں کو دعوت دیدو کہ وہ ہدایت (صحیح راہ) کی جانب آجائیں۔ اے نبی ؐ اگر وہ نہ آئیں تو غم زدہ نہ ہو کا تعلق قرآنی آیت ”اور جو شخص کفر کرے تو اس کا کفر تمہیں غمگین نہ کرے“۔ مولانا نے مزید تشریح کی ہے کہ ”ہر گھوڑا اپنے اَصطبل کی طرف جاتا ہے تو جو اہل شقاوت (سنگدل، بزدل) ان کا اصطبل وہ نہیں ہے جس کی طرف نبی اللہ دعوت دیتا ہے۔“

    بعض لوگ اس آواز سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں ہر گھوڑے کا اصطبل جدا ہوتا ہے۔ بعض لوگ ان حکایتوں سے پریشان ہوتے ہیں کیونکہ ہر پرندے کا پنجرہ الگ ہے۔ مولانا رومیؒ کا مطلب اس سے یہ ہے کہ جس طرح انسانوں میں استعداد (قابلیت، صلاحیت) کا اختلاف ہے اسی طرح ملائکہ میں بھی ہے اس طرح ان کو مختلف صفوف میں رکھا گیا۔ اور اس وجہ سے آسمان پر صف صف ہوگئے۔ مولانا رومیؒ کا اس سے یہ مطلب ہے کہ ملائکہ اور انسانوں کی صلاحیت کے اختلاف کو اس مثال کی طرح سمجھو کہ سب بچے ایک ہی مکتب میں پڑھتے ہیں لیکن صلاحیت اور استعداد کے اعتبار سے بعض کو بعض پر فوقیت حاصل ہوتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ”بچے اگرچہ ایک ہی مکتب میں ہیں، مقابلے میں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر ہیں“ اور ”مشرق اور مغرب والوں کا حْسن مختلف ہیں اور آنکھ کی حس اس کا مقام کرتی ہے“۔”اگر لاکھوں کان اکٹھے ہوجائیں وہ پھر بھی روشن آنکھ کے محتاج ہیں اور پھر کانوں کی صف کا بھی ایک مقام ہے جس سے وہ قرآن کی روح اور قصّے سنتے ہیں“۔ اس کا مطلب مولانا رومیؒ کی نگاہ میں یہ ہے کہ کان میں جو سننے کی صلاحیت ہے وہ آنکھ میں نہیں اور آنکھ میں جو دیکھنے کی صلاحیت ہے وہ کان میں نہیں۔ اگر لاکھوں آنکھیں بھی اکٹھا ہوجائیں تو وہ ایک کان کی صلاحیت حاصل نہیں کرسکتیں، تمام حواس کا یہی حال ہے جو جس چیز کی صلاحیت رکھتا ہے وہ دوسرے میں نہیں ہے۔ آپؒ فرماتے ہیں کہ”پانچ ظاہری حواس اور پانچ باطنی صف باندھنے والوں (فرشتوں) کے قیام میں صف بستہ ہیں۔ جو شخص دین کی صف (اصولوں) سے سرکشی کرتا ہے وہ بْری صف کی جانب چلا جاتا ہے“۔ مطلب یہ ہے کہ اگر کسی فرد میں دین کو سمجھنے اور قبول کرنے کی صلاحیت نہیں ہے تو وہ بددینوں کی صف میں شامل ہوجائے گا۔ ”آپ آجاؤ کہنے میں تعامل و تاخیر نہ کریں چونکہ یہ کلمہ (تعالوا) بہت عجیب کیمیا ہے“۔ مطلب یہ ہے کہ پیغمبر کا کام ایمان کی جانب دعوت دینا ہے وہ منکرین (کافرین) سے تنگدل یا بددل ہوکر صحیح راہ کی جانب دعوت کو نہیں چھوڑتا۔

    اگر کوئی آپ کے قول (ہدایت) سے متنفر ہو تو کیمیا (اس عادت) کو اس سے دور نہ کیجئے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی منکر ایک مرتبہ انکار کرے تو ہوسکتا ہے کہ وہ اپنی صلاحیت کے اعتبار سے آخر میں دعوت (اسلام) قبول کرلے۔ کلام مجید میں ارشاد اِلٰہی ہے، ”اللہ تعالیٰ سلامتی کے گھر کی دعوت دیتا ہے اور وہ جس کو چاہتا ہے سیدھے راستے کی جانب رہنمائی فرما دیتا ہے“۔ پھر مولانا رومیؒ نصیحت فرماتے ہیں کہ کسی شیخ (ولی اللہ) سے وابستہ ہو کر رہنمائی حاصل کرنا چاہئے۔ آپ آگے فرماتے ہیں کہ جس وقت کوئی بھی شخص متنفر ہوتا ہے اس وقت اس کا جادوگر نفس بہرا ہے۔ اس کے آخر میں آپ کی گفتگو اس کو فائدہ دے گی۔ اے نبیؐ آپ کہئے، ”آپ آجاؤ“ اے لڑکے! آگاہ ہو کہ بے شک اللہ تعالیٰ سلامتی کی جانب بلاتا ہے۔ اے شخص خودی اور سرداری سے باز آجا اور کوئی سردار، رہنما تلاش کرلے، سرداری کا طالب نہ بن۔

    مولانا رومیؒ کے بارے میں یہ عرض کرنا ہے کہ حدیث نبوی ہے کہ ”اللہ تعالیٰ کے کچھ چھپے ہوئے اولیاء ہیں جن کے سر کے بال پراگندہ ہیں۔ ان کے چہرے غبارآلود ہیں اگر وہ کسی معاملے میں اجازت چاہیں تو ان کو اجازت نہیں دی جاتی ہے اگر وہ نہ ہوں تو ان کی لوگ جستجو نہیں کرتے اور اگر موجود ہوں تو ان سے خطاب نہیں کرتے، اگر وہ بیمار ہوجائیں تو ان کی عیادت نہیں کرتے اور اگر وہ رحلت فرمائیں تو لوگ ان کے جنازے میں شرکت نہیں کرتے اور وہ زمین میں گمنام ہیں لیکن آسمان میں مشہور ہیں“۔ دیکھو یہ لوگ لاکھوں حلم (بردباری) رکھتے ہیں۔ ان کا ہر ایک حلم (بردباری،چشم پوشی) سو پہاڑوں جیسا ہے۔ ان کی بردباری ایک بیدار مغز تک کو بے وقوف بنا دیتی ہے۔ سو آنکھوں والے ہوشیار کو اندھا کردیتی ہے۔ ان کی بردباری عمدہ اور بہتر شراب کی طرح ہے جو عمدگی میں دماغ پر چڑھ جاتی ہے۔ اس عجیب شراب سے مست شخص کو دیکھو، کہ اس نے شطرنج کے فرزین کی طرح، مست اور ٹیڑھا چلنا شروع کردیا ہے۔ (حلم، چشم پوشی کی) اس شراب سے جو ان شخص تک مدہوش ہو کر بوڑھے کی طرح گر پڑتا ہے۔ خصوصاً! یہ شراب جو کہ نبی ؐکے مسئلے کی ہے نہ کہ وہ شراب جس کا نشہ ایک رات کا ہے۔ یہ وہ شراب ہے کہ اصحاب کہف تین سو نو سال تک کھانے کی لذت اور سفر کرنے سے اپنی عقل کھو بیٹھے۔ اسی شراب (حسن) سے مصری عورتوں نے ایک جام پیا ہے (حضرت یوسف ؑ کو دیکھ کر) انہوں نے ہاتھوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر لیا۔ وہ جادوگر بھی (جنہیں فرعون نے سزا دی) حضرت موسیٰ علیہ السلام کا نشہ (عشق) رکھتے تھے۔ اسی لئے انہوں نے سولی کو پیارا سمجھا۔ حضرت جعفر طیارؓ اسی شراب سے مست تھے، اسی لئے بے خودی سے ہاتھ پاؤں قربان کرتے تھے۔

    ایک معترض نے رسول ؐپر ان کا ایک ہذیلی کو لشکر کا سردار بنانے پر اعتراض کرنا۔ لوگ کس قدر اندھیرے میں ہیں خباثت نفس میں غرق ہیں حالانکہ نور حق کی نہر ساتھ ہی ہے۔ دنیا سے فطری بے زاری اس بات کی دلیل ہے کہ عالم بالا سے روح کا ازلی تعلق ہے۔ وجود سے نکلنے کا چھپا ہوا راستہ لگاتار کوشش سے ملتا ہے۔ معترض کا کہنا کہ بزرگ صاحب عقل ہوتا ہے۔ حدیث بھی ہے کہ پیشوا بزرگ ہونا چاہئے۔ معترض کے نزدیک بزرگ کے سفید بال عقل کے پختہ ہونے کی نشانی ہوتے ہیں۔ بزرگوں کو عقل کے دو پر ملے ہوتے ہیں۔ جس سے بلندی پر اُڑتے ہیں بات یہ ہے کہ فرمان نبی ؐ کا راز جو نہ سمجھ سکے اس جاہل کی بات پر تو خاموشی اختیار کرلینی بہتر ہے۔ جاہل کی بات سے تو ہونٹ سی لینا بہترہے۔ اس کے آگے (مثنوی جیسے) رموز عیب بیان کرنے سے بھی حق روکتا ہے پھر یوں بھی جو ذات، کہ مشاہدہ میں ہو، اونچ نیچ دیکھنے والی ہو، اسے معلومات دینا اپنی جہالت کی نشانی ہے۔’انصتوا‘ خاموش رہو کا حکم اسی لئے ہے۔ پھر محبت میں وہ اگر بات کرنے کا حکم دیں تو اچھی اور مختصر بات کرو۔طول نہ دو۔ حسام الدین بھی مولانا کو محبت کے جذبے میں سینکڑوں طرح سے بولنے پر مجبور کرتے ہیں۔

(ترجمہ بشکریہ جناب قاضی سجاد حسین صاحب)

مزید : ایڈیشن 1


loading...