دوموچی

دوموچی

  



شاکر نے کہا عالی جاہ! محل میں داخل ہونے سے پہلے یہی میرا لباس تھا۔ یہ لباس پہن کر میرے دل میں غرور تکبر اور بڑائی پیدا نہیں ہوتی۔بادشاہ کو شاکر کا یہ جواب بہت پسند آیا۔ اس نے حکم دیا کہ آئندہ کوئی بھی شخص شاکر سے اس کی کرتی کے متعلق سوال نہیں کہے گا۔ اگلے سال کوئل پھر آئی۔ اس بار وہ فضل خان کے لیے سونے کے دو پتے لائی۔ اب شاکر کے لیے زیتون کا پتہ لانے کی ضرورت نہیں رہی تھی۔ فضل خان نے ایک سونے کا پتا فضول خرچیوں میں ختم کر ڈالا اور اس کی بیوی نے کہا کہ آخر ہم کب تک تنگی ترشی سے زندگی بسر کر تے رہے ہیں۔فضل خان نے اپنا سامان باندھا اور سونے کا پتا اسی رومال میں باندھا اور پھر دونوں سفر پر روانہ ہو گئے۔وہ بہت دیر تک چلتے رہے۔ دوپہر کے وقت وہ ایک جنگل میں پہنچے۔ وہ بری طرح تھک چکے تھے۔فضل خان کی بیوی بولی! ارے تم تو عقل سے بالکل پیدل ہو۔ تم نے سفر کے لیے کسی سواری کا انتظام کیوں نہ کیا؟ آخر یہ سونا کس دن کام آئے گا؟فضل خان نے رومال کھول کر سونے کا پتا دیکھا۔ ایک چالاک بڑھیا بہت دیرسے ا ن کا پیچھا کر رہی تھی وہ درخت کے پیچھے چھپی ہوئی تھی اس نے ا ن سب کی باتیں سن لی تھیں۔ اور سونے کے پتے کی جھلک دیکھ لی۔ وہ درخت کے پیچھے سے نکلی اور ان کے پاس پہنچی اور چاپلوسی سے بولی عالی قدر نواب صاحب اور محترمہ بانو صاحبہ کنیز کا سلام قبول فرمائیے۔فضل خان کی بیوی نے پوچھا! تم نے کیسے جانا کہ ہم نواب ہیں؟بڑھیا بولی عالی قدر بانو! آپ کی شکل و صورت سے ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ آپ خاندانی نواب ہیں۔ سرکار! کیا آپ مجھے اپنی میزبانی کی عزت بخشیں گے؟بڑھیا نے ایسی خوشامد کی کہ دونو ں اس کے جال میں آ گئے۔ وہ دونوں بھوکے پیاسے تو تھے ہی، انہوں نے بڑھا کی دعوت قبول کر لی۔ بڑھیا نے اپنا تھیلا کھو لا اور بولی حضور آپ نے ہمیشہ مزے مزے کے کھانے کھائے آج اس غریب بڑھیا کے پکے ہوئے پھیکے اور سادہ کھانے بھی کھائیے۔ سرکار مکھن لگی ہوئی روٹی کباب کوفتے اور آم کا اچار حاضر ہے۔فضل خان اور اس کی بیوی نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا۔ پھر بڑھیا نے انہیں شربت کا گلاس پیش کیا۔ ا س میں کوئی نشہ آور چیز ملی ہوئی تھی۔ اسے پیتے ہی ان کی آنکھیں بند ہونے لگیں۔ جلد ہی وہ خوابوں کی دنیا میں پہنچ گئے۔بڑھیا کے دو بیٹے ٹوٹو اور گو لی تھے۔ جب فضل خان اور اس کی بیوی سو گئے تو بڑھیا نے چیختی ہوئی آواز میں کہا اے مردارو! کہاں مر گئے ہو؟ وہ دونوں لپک کر بڑھیا کے پاس پہنچے۔ بڑھیا چیخ کر بولی نا مرادو! میرا منہ کیا دیکھ رہے ہو جلدی سے مال سمیٹو اور بھاگ لو۔پھر وہ ٹوٹو سے بولی! آج تمہاری کیا کارگزاری رہی؟ تم نے چوری چکاری کی یا یوں ہی خالی ہاتھ چلے آئے؟ٹوٹو نے کہا اماں! آج جب میں محل سرائے کے پاس سے گزر رہا تھا تو کسی نوکر نے یہ چمڑے کی کرتی اوپر سے پھینکی۔ یہ کرتی تو ہے بیکار ہی لیکن میں اسے آپ کے حکم کی تعمیل میں لیتا آیا۔ یہ کہہ کر اس نے ایک گٹھڑی بڑھیا کی طرف پھنکی بڑھیا تیوری چڑھا کر بولی ارے کم بخت یہ گدڑی میرے کس کام کی ہے۔ یہ کہہ کر بڑھیا نے وہ کرتی فضل خان پر ڈال دی بڑھیا نے جب سامان سمیٹا پھر وہ تینوں ہنستے ہوئے وہاں سے چل دیے۔ بہت دیر بعد فضل خان اور اس کی بیوی کی آنکھ کھلی اور معلوم ہوا کہ ان کی چیزیں اور سونے کا پتا سب چوری ہو چکا ہے۔ یہ دیکھ کر فضل کی بیوی چیخیں مار ما ر کر رونے لگے۔شام کے وقت خاصی سردی ہو گئی۔ فضل خان نے چمڑے کی وہ کرتی پہن لی جو اس کے نزدیک ہی پڑی تھی۔ جیسے ہی اس کرتی کے بٹن لگائے اس کی دلی کیفیت میں عجیب تبدیلی واقع ہو گئی۔ وہ رونے دھونے کی بجائے مسکرانے لگا۔ اس کی بیوی کے دل سے بھی رنج و ملال جاتا رہا۔ انہوں نے جنگل میں ایک گھر بنایا۔فضل خان ایک گھونسلے سے انڈے نکال لایا۔ اس کی بیوی نے انہیں بھونا اور پھر دونوں کھا کر گھاس کے ڈھیر پر لیٹ گئے اور سو گئے۔ وہ جنگل میں رہتے رہے۔ انہوں نے اپنی جھونپڑی کو کافی بڑا بنا لیا تھا۔ وہ پرندوں کے انڈے اور جنگل کے پھلوں پر گزارا کرنے لگے۔ ان کے دل سے دربار جانے کا خیال جاتا رہا۔ ادھر شاکر کا حال سنیے۔ جب وہ صبح کے وقت جاگا تو اسے معلوم ہوا کہ اس کی کرتی گم ہو چکی ہے۔ ا س نے نوکروں سے دریافت کیا مگر کسی نے جواب نہ دیا۔ محل کا کونا کونا چھان مارا لیکن کرتی نہ ملی۔ اس روز سے محل کے حالات اپنی پرانی ڈگر پر آ گئے۔ لڑائی جھگڑے ہونے لگے۔ وزیر ایک دوسرے سے حسد کرنے لگے۔ بادشاہ کی فکر اور پریشانی بڑھ گئی۔

شاکر کی سب صلاحیتیں اس کرتی کی وجہ سے تھیں۔ جب وہ نہ رہی تو صلاحیتیں بھی جاتی رہیں۔ یوں لگتا تھا جیسے کہ اس کا ذہن بالکل ناکارہ ہو چکا ہے،درباریوں میں چہ میگوئیاں ہونے لگیں کہ اس موچی کا یہاں پر کیا کا م؟بادشاہ نے تحقیقات کا حکم دیا کہ یہ موچی یہاں کیوں آیا اوراس درجے تک کس طرح پہنچا۔ تحقیقات کے نتیجے میں یہ با ت سامنے آئی کہ موچی خواہ مخواہ محل میں ٹھہرا ہوا ہے۔ بادشاہ نے حکم دے دیاکہ موچی کو محل سے باہر نکال دیا جائے۔ اور اس کی ایک ایک چیز ضبط کر دی جائے۔ فرمان جاری ہوا اور ایک نوکر ضبطی کا حکم لے کر کمرے میں داخل ہوا اور قیمتی چیزوں پر قبضہ کرنے لگا۔ شاکر کھڑکی کی راہ سے بھاگ نکلا۔ اس کو بھاگتا دیکھ کر ایک راہ گیر بولا۔ کچھ دن پہلے اس کھڑکی سے ایک کرتی باہر گری اب کرتی کا مالک کھڑکی سے باہر کود رہا ہے۔

شاکر نے راہ گیر کا ہاتھ پکڑ لیا اور منت بھرے لہجے میں بولا کیا تم بتا سکتے ہو کہ وہ کرتی کس کے پاس ہے؟ راہ گیر بولا ایک شخص اس کرتی کو اٹھا کر جنگل کی طرف بھاگ گیا ہے۔ شاکر بولا اگر تم مجھے اس شخص کے پاس لے چلو تو میں تمہیں بہت انعام دوں گا۔راہ گیر بولا تم اس راستے پر چلتے رہو۔ جہاں یہ ختم ہو جائے وہیں اس کا گھر ہے۔ شاکر نے اپنا بٹوہ اس کو انعام میں دیا اور راہ گیر کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے لگا۔ وہ جنگل میں داخل ہوا رات ہو گئی تھی۔ اندھیرے میں ہاتھ کو ہاتھ سجھائئ نہ دیتا تھا۔ دور کسی جگہ آگ جل رہی تھی اور اسی سمت میں وہ آگے بڑھتا رہا آخر وہ ایک مکان کے پاس پہنچا۔ مکان کا دروازہ آدھا کھلا تھا اس نے اندر جھانک کر دیکھا۔ وہاں اس کا بھائی فضل خان سو رہا تھا۔ اس کے سرہانے کرتی رکھی ہوئی تھی۔ ا س کے قریب ایک عورت بیٹھی ہوئی تھی۔ شاکر سمجھ گیا کہ یہ فضلو کی بیوی ہے۔ وہ مکان میں داخل ہوا اورآہستہ سے سلام کیا۔ فضلو کی بیوی نے اسے نہیں پہچانا۔ اس نے بہت اخلاق سے اسے خوش آمدید کہا اور بولی ذرا آہستہ گفتگو کیجیے۔ میر ے شوہر ابھی سوئے ہیں۔ شاکر نے کہا بی بی راستے سے بھٹک کر ادھر آ نکلا ہوں۔میں دراصل بادشاہ کے دربار میں ملازم ہوں۔ عورت نے پوچھا اچھا تو بتائیے کہ دربار کا کیا حال ہے؟ بہت دن پہلے میں بھی وہاں جانے کے خواب دیکھتی تھی۔ لیکن اب میں اپنے اس احمقانہ خیال پر ہنستی ہوں۔

شاکر نے پوچھا آپ وہاں کیوں جانا چاہتی تھیں؟ عورت نے کہا وہاں میرے شوہر کا بھائی دربار میں ملازم ہے،ہم بھی اپنی قسمت آزمانے نکلے تھے۔ لیکن ایک بڑھیا نے ہمیں نشہ آور شربت پلا کر بے ہوش کر دیا اور ہمارا سب کچھ چھین کر لے گئی اور جاتے وقت وہ یہ پرانی سی کرتی یہاں پھینک گئی ہے۔

شاکر نے اپنا قیمتی کوٹ اتار کر رکھ دیا اور بولا بی بی میرا خیال ہے کہ تمہارا شوہر اس پرانی کرتی کی جگہ اس قیمتی کوٹ کو ضرور پسند کرے گا۔ فضل خان نے آنکھیں کھول کر دیکھا اس کے سامنے اس کا بھائی شاکر کھڑا مسکرا رہا تھا۔ فضل نے آگے بڑھ کر بھائی کو گلے لگایا اور کہا!بھائی! تم ٹھیک تو ہو؟ تم نے دربار میں کیا کچھ دیکھا۔ وہاں کتنی ترقی پائی۔

شاکر بولا بھائی دربار کا عروج بھی دیکھا اور دربار کا زوال بھی، سچ پوچھو تو ان ہنگاموں سے میرا دل بھر چکا ہے۔ اب تو دل چاہتا ہے کہ اپنی جھونپڑی میں سکون سے رہوں۔ فضل خان اوراس کی بیوی بھی گاؤں جانے پر رضامند ہو گئے۔ دونوں بھائیوں نے ایک بار پھر اپنا پرانا کام سنبھال لیا۔ کوئل اب ہر سال موسم بہار میں ان سے ملنے کے لیے آتی اور دونوں کے لیے زیتون کے پتے لاتی۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...