تین سہیلیاں

تین سہیلیاں

  



ایک جنگل میں ایک برگد کے بہت بڑے درخت پر تین گھونسلے تھے۔ ان گھونسلوں میں ایک ننھی سی مینا ایک مہربان سی فاختہ اور ایک شرارتی سی بلبل رہتی تھی۔ تینوں کی آپس میں بہت دوستی تھی۔ مل جل کر رہتیں ایک دوسرے کی مدد کرتیں دکھ سکھ میں ایک دوسرے کے کام آتیں۔ برگد کے اس درخت پر تینوں کی وجہ سے بہت رونق رہتی۔ وہ تینوں آپس میں بالکل نہ لڑتیں اور سکون سے رہتیں۔

ایک دن انہوں نے درخت پر ہلچل دیکھی تو وہ گھونسلوں سے باہر آ کر دیکھنے لگیں۔ انہوں نے دیکھا کہ ایک کالی چڑیا بھی اس درخت پر اپنا گھونسلہ بنا رہی ہے۔ وہ بھی خوش ہو گئیں کہ چلو ایک نئی ہمسائی کے آنے سے رونق بڑھ جائے گی۔ کالی چڑیا سارا دن گھونسلہ بناتی رہی اور تھک گئی۔ فاختہ نے سوچا کہ بے چاری کالی چڑیا کے بچے بھوکے ہونگے اور اسے دانا چگنے کا وقت نہیں ملا ہو گا۔ آج مجھے کالی چڑیا کو کھانا بھجوانا چاہیے۔ اس نے مونگ کی کھچڑی پکائی اور اسے کالی چڑیا کے گھر دینے چلی گئی۔ فاختہ کے پکارنے پر کالی چڑیا اپنے بال بکھیرے تھکی ہاری باہر آئی۔ فاختہ نے بہت پیار سے سلام کیا۔ مگر کالی چڑیا نے صرف سر ہلا کر سلام کا جواب دیا۔

میں آپ کے لئے کھانا لائی تھی۔ آپ تھک گئی ہونگی۔ فاختہ نے خوش دلی سے کہا۔ تو کالی چڑیا بولی اس کی کیا ضرورت تھی۔ نہ تو اس نے فاختہ کو اندر آنے کو کہا اور نہ ہی اس کا شکریہ ادا کیا۔ فاختہ شرمندہ سی لوٹ آئی۔ مگر اپنی سہیلیوں بلبل اور مینا سے کالی چڑیا کے رویے کا ذکر نہ کیا۔ ا گلے دن مینا اور بلبل نے کام سے فارغ ہو کر کالی چڑیا کو ملنے اور خوش آمدید کہنے کا فیصلہ کیا۔ گو فاختہ گزری رات کے واقعے کے بعد کالی چڑیا کے ہاں نہیں جانا چاہتی تھی مگر اپنی سہیلیوں کے سامنے انکار نہ کر سکی اور ساتھ چل پڑی۔ اس وقت کالی چڑیا سوئی پڑی تھی۔ جب انہوں نے دو تین دفعہ گھونسلے کے دروازے پر دستک دی تو کالی چڑیا کی آنکھ کھل گئی۔ نیند خراب ہونے پر وہ غصے کی حالت میں باہر آئی۔ کیا مصیبت ہے؟ وہ بلبل اور مینا کے مسکراتے چہرے دیکھ کر چیخی۔ وہ تینوں اس کے چیخنے سے سہم گئیں۔

ہم آپ سے ملنے آئی تھیں۔ بلبل نے ہمت کر کے کہا اور جنگلی پھولوں کا گل دستہ کالی چڑیا کی طرف بڑھایا۔ مینا نے بھی جنگلی پھلوں کی ٹوکری بڑھائی۔ کالی چڑیا نے پھولوں کا گل دستہ اٹھا کر دور پھینکا اور ٹوکری کو ٹانگ ماری۔ انگور اور جامن ادھر ادھر بکھر گئے۔ اور دھڑام سے دروازہ بند کر کے گھونسلے میں چلی گئی۔ تینوں اس برتاو¿ پر گھبرا گئیں اور شرمندہ ہو کر لوٹ آئیں۔ دن گزرتے گئے مگر کالی چڑیا کا غرور کم نہ ہوا۔ مینا، فاختہ اور بلبل نے بھی اس دن کے بعد دوبارہ کالی چڑیا سے کوئی رابطہ نہ کیا۔ کالی چڑیا جب دیکھتی کہ تینوں اتنی خوشی سے مل جل کر رہ رہی ہیں تو اسے بہت جلن ہوتی۔ وہ ان تینوں کو یوں ہنستا بستا دیکھ کر ان سے حسد کرنے لگی۔ وہ سوچتی کہ کسی طرح ان تینوں کی دوستی ختم کرا دی جائے۔ اس وقت بھی اسے ان تینوں کے قہقہے سنائی دے رہے تھے اور وہ اندر ہی اندر جل کڑھ رہی تھی۔

موسم بدل رہا تھا سردیوں کی آمد آمد تھی۔ ٹھنڈی ہوائیں برگد کے درخت کی ٹہنیوں سے ٹکرا ٹکرا کر گزر رہی تھیں۔ اسی خیال سے تمام پرندے خوراک اکٹھی کرنے میں مصروف تھے۔ تاکہ سرد موسم میں پریشانی نہ ہو۔ فاختہ کو کہیں سے تھوڑی سے نرم گرم کپاس مل گئی۔ وہ اس خیال سے کہ چلو بچوں کو سردی نہ لگے۔ وہ کپاس گھر لے آئی اور گھونسلے کے ایک کونے میں رکھ دی۔ کالی چڑیا اپنے گھونسلے کے سوراخ سے فاختہ کو کپاس لاتے دیکھ چکی تھی۔ اسے ایک سازش سوجھی۔ صبح جب تینوں سہیلیاں حسب معمول خوراک کی تلاش میں ادھر ادھر نکل گئیں تو کالی چڑیا چپکے سے فاختہ کے گھونسلے میں آ گھسی۔ اس نے وہاں سے کپاس اٹھائی اور جا کر بلبل کے گھونسلے میں چھپا دی اور اوپر سوکھے تنکے ڈال دیئے تاکہ کسی کی نظر نہ پڑے۔ فاختہ شام کو لوٹی تو گھونسلے میں سے کپاس غائب تھی۔ وہ بڑی پریشان ہوئی کہ میری کپاس کہاں گئی۔ اس نے باہر آ کر مینا اور بلبل کو آواز دی۔

اے مینا بہن۔ اے بلبل میری بات سنو۔ نجانے میری کپاس کہاں گئی؟ وہ دونوں بھی فاختہ کی کپاس کی گمشدگی پر پریشان ہو گئیں اور ادھر ادھر ڈھونڈنے لگیں۔ کالی چڑیا سارا منظر دیکھ رہی تھی۔ جب کپاس کہیں سے نہ ملی اور تینوں تھک ہار گئیں تو کالی چڑیا چپکے سے فاختہ کے پاس آئی اور مکارانہ مسکراہٹ سے بولی۔ فاختہ آپا کیوں شور مچا رہی تھی؟ کیا ہو گیا؟ فاختہ نے ساری بات بتائی تو وہ بولی۔ آپا برا نہ مناو¿ تو کچھ کہوں مگر ڈرتی ہوں۔۔۔۔ فاختہ بولی۔ نہیں نہیں ڈر کیسا۔ کیا بات ہے؟ آج جب تم چلی گئی تھی تو میں اپنے ننھے چڑے کو کھانا کھلا رہی تھی باہر سے کھٹ پٹ کی آوازیں آئیں تو میں نے چپکے سے گھونسلے کے سوراخ سے دیکھا کہ تمہاری سہیلی بلبل دبے قدموں تمہارے گھونسلے میں گھسی اور وہاں سے کپاس اٹھا اٹھا کر اپنے گھونسلے میں لے گئی۔ میں چھپ کر سارا ماجرا دیکھتی رہی۔ اس نے گھونسلے کے پچھلے کونے میں وہ کپاس چھپا رکھی ہے۔ فاختہ حیران ہو کر کالی چڑیا کو دیکھنے لگی۔ کالی چڑیا بولی اے بھلا میں جھوٹ کیوں بولوں۔ اگر یقین نہ آئے تو جا کر دیکھ لینا۔ کالی چڑیا فاختہ کو پریشان کر کے چلی گئی۔ رات کو جب مینا فاختہ کے گھر آئی تو فاختہ نے کالی چڑیا کی بتائی ہوئی بات مینا کو بتائی۔ مینا بھی یہ سن کر پریشان ہو گئی۔ انہیں بلبل سے یہ امید نہ تھی۔ دونوں نے سوچا کہ پہلے بلبل کے گھر جا کر اس بات کی تصدیق کر لی جائے۔ اتفاق سے اس وقت بلبل ندی سے پانی لینے گئی ہوئی تھی۔ دونوں بلبل کے گھونسلے میں گئیں۔ کالی چڑیا کی بتائی ہوئی جگہ پر جا کر دیکھا تو تنکوں کے نیچے واقعی کپاس چھپی رکھی تھی۔ دونوں کو بلبل کی اس حرکت سے بہت افسوس ہوا۔ بلبل لوٹی تو فاختہ نے اس سے لڑنا شروع کر دیا۔ بلبل بیچاری حیران پریشان ہو کر فاختہ کو دیکھنے لگی اور معلوم کرنے لگی کہ معاملہ کیا ہے۔ جب اسے ساری بات پتہ چلی تو وہ رونے لگی اور قسمیں اٹھا اٹھا کر مینا اور فاختہ کو یقین دلانے لگی مگر چونکہ کپاس بلبل کے گھونسلے سے برآمد ہو چکی تھی۔ اس لئے مینا اور فاختہ کو بلبل کی ہر بات جھوٹی لگ رہی تھی۔ فاختہ اور مینا نے بلبل سے دوستی ختم کر لی۔ بلبل بیچاری تنہا رہ گئی۔ وہ ہر وقت اداس اداس پھرتی رہتی۔ جب بہت دل گھبراتا تو اپنے گھونسلے میں جا بیٹھتی۔

دن گزرتے گئے کالی چڑیا، فاختہ اور مینا سے بلبل کو جدا کر کے بہت خوش تھی لیکن اب اسے مینا اور فاختہ کا ساتھ کھٹکنے لگا تھا۔ وہ اس کوشش میں تھی کہ کسی طرح اب ان دونوں کو بھی جدا کر دے۔ آخر ایک دن اسے موقع مل ہی گیا۔ بارشوں کا موسم شروع ہو چکا تھا۔ مینا نے بڑی مشکل سے چاول اکٹھے کئے تھے کہ بارش میں اگر خوراک کے لئے باہر نہ جایا جا سکے تو گھونسلے میں بچوں کے لئے خوراک موجود ہو۔ آج خوب دھوپ نکلی تھی۔ مینا نے چاول دھوپ میں سوکھنے کے لئے رکھے تھے کیونکہ اس کے بچوں کو خشک چاول بہت پسند تھے۔ تھوڑی ہی دیر بعد کوا بھائی آیا تو اس نے مینا کو پیغام دیا کہ تمہاری نانی بہت سخت بیمار ہیں اور تمہیں بلایا ہے۔ مینا پریشان ہو گئی فاختہ نے کہا جا کر نانی کو دیکھ آو¿۔ مینا بولی میرا بھی کئی دنوں سے دل چاہ رہا تھا لیکن آج تو میں نے چاول باہر سوکھنے کے لئے ڈالے ہیں اور موسم کا بھی کوئی اعتبار نہیں اگر بارش ہو گئی تو چاول پھر سے گیلے ہو جائیں گے اور میں بچوں کو کھانے کو کیا دوں گی۔ فاختہ مینا کی بات سن کر بولی۔ پیاری مینا فکر کیوں کرتی ہو۔ میں ہوں نا۔ دھوپ ختم ہوتے ہی میں سارے چاول سمیٹ کر تمہارے گھونسلے میں رکھ دوں گی۔ تم بے فکر ہو کر نانی کا حال پوچھنے جاو¿۔ مینا نے بچوں کو ساتھ لیا اور نانی کے گھر چل دی۔

کہیں سے اڑتے ہوئے چند شرارتی بادل برگد کے پیڑ پر آ کھڑے ہوئے اور سورج کو اپنے اندر چھپا لیا۔ بادلوں کی آواز سن کر فاختہ کو مینا کے چاولوں کی فکر ہوئی۔ اس نے بھاگم بھاگ سارے چاول سمیٹے اور بارش برسنے سے پہلے ہی انہیں مینا کے گھونسلے میں پہنچا دیا۔ مینا موسم کی خرابی کی وجہ سے رات کو بھی نہ لوٹ سکی۔ کالی چڑیا نے اس موقع کو غنیمت جانا اور تمام چاول مینا کے گھونسلے سے نکال کر برستی بارش اور تیز ہوا میں لا ڈالے۔ چاول ادھر ادھر بکھر کر خراب ہو گئے اور بیچاری فاختہ کو خبر بھی نہ ہوئی۔ مینا صبح سویرے ہی لوٹ آئی۔ مگر جب ہر طرف اپنے چاول بکھرے دیکھے تو غصے سے پاگل ہو گئی اور فاختہ کے گھونسلے کا دروازہ پیٹنے لگی۔ فاختہ نے مینا کو یوں پریشان دیکھا تو بولی۔ مینا بہن کیا ہوا ہے؟ خیریت تو ہے نا؟ نانی کا حال سناو¿؟ مینا بڑے ہی غصے سے بولی۔ نانی کو چھوڑو۔ تم نے جو میرے ساتھ کیا ہے۔ مجھے اس کی تم سے ہرگز امید نہ تھی۔ اگر تم چاول سمیٹ نہیں سکتی تھیں تو مجھے اس وقت بتا دیتیں۔ میں اپنا کام نبٹا کر چلی جاتی۔ فاختہ نے مینا کو لاکھ یقین دلانے کی کوشش کی کہ تمہارے چاول سنبھال دیئے تھے مگر مینا نے اس کی کسی بات کا یقین نہ کیا۔ اور اس سے بولنا اور ملنا ملانا چھوڑ دیا۔ فاختہ بیچاری سوچتی رہتی کہ آخر وہ چاول بارش کی نذر کیسے ہو گئے؟ اب تینوں کی دوستی ختم ہو چکی تھی۔ سب الگ الگ، اداس اداس پھرتی رہتیں۔ جب ساتھ تھیں تو ایک دوسرے کا دکھ سکھ بانٹ لیتیں، ایک دوسرے کی مدد کر دیتیں مگر اب کچھ بھی ٹھیک نہ تھا۔

کالی چڑیا چاہنے کے باوجود مینا اور فاختہ کی لڑائی پر خوشی نہ منا سکی۔ کیونکہ اس برستی بارش میں مینا کے گھونسلے سے چاول نکال کر صحن میں پھینکتے ہوئے اسے سردی لگ گئی تھی۔ اسے شدید بخار تھا۔ اس کے پر گیلے ہو کر اڑنے کے قابل نہ رہے تھے۔ اور اس کے بچے بھوک سے نڈھال چلا رہے تھے۔ مگر کالی چڑیا میں اتنی سکت نہ تھی کہ وہ اُڑ کر ان کے لئے کھانے کا بندوبست کر سکے۔ بچے بھوک سے روتے ہوئے سو گئے۔ کالی چڑیا کو اپنی بے بسی پر رونا آ رہا تھا۔ وہ سوچنے لگی کہ کہیں میرے بچے بھوک پیاس سے مر ہی نہ جائیں۔ میں نے کبھی کسی سے دوستی نہ کی۔ میرا کوئی ہمدرد نہیں۔ میں کتنی تنہا ہوں۔ میں نے جو کچھ بلبل، مینا اور فاختہ کے ساتھ کیا مجھے اس کی سزا مل رہی ہے۔ اس کا دل گھبرانے لگا۔ وہ باہر نکل آئی کئی دنوں بعد آج پھر سورج نکلا تھا۔ سنہری گرم دھوپ برگد کے پیڑ پر پڑ رہی تھی۔ کالی چڑیا کو یاد آیا کہ جب دھوپ نکلتی تھی۔ تو مینا، بلبل اور فاختہ بچوں کو لے کر دھوپ میں آ بیٹھتیں۔ بچے خوب کھیلتے، شرارتیں کرتے اور ان تینوں کی آپس میں باتیں ہی ختم نہ ہوتیں اور اب ہر طرف ویرانی ہی ویرانی تھی۔ اسے اس خاموشی سے وحشت ہونے لگی۔ اسے احساس ہونے لگا کہ اس نے اس برگد کے درخت کی رونق ختم کر کے اچھا نہیں کیا۔ وہ زور زور سے چلانے لگی۔

اے مینا، اے بلبل، آپا فاختہ کہاں ہو سب ذرا باہر تو نکلو۔ دیکھو کتنی اچھی دھوپ ہے۔ سورج بھی تمہیں ڈھونڈ رہا ہے۔ جب تینوں کے کانوں میں کالی چڑیا کی آواز پڑی تو وہ گھونسلوں سے باہر نکلیں اور کالی چڑیا کو دیکھنے لگیں۔ کالی چڑیا بولی مجھے معاف کر دو۔ میں ہی تمہاری مجرم ہوں میں نے ہی تم لوگوں کو آپس میں جدا کیا ہے ۔تینوں حیران ہو کر کالی چڑیا کو دیکھنے لگیں۔ کالی چڑیا نے کہا ہاں فاختہ آپا آپ کی کپاس بلبل نے نہیں چرائی تھی بلکہ میں نے خود جا کر اس کے گھونسلے میں چھپا دی تھی اور بلبل پر چوری کا الزام لگ گیا اور اس دن مینا بہن کے چاول بھی میں نے ہی برستی بارش اور تیز ہوا میں گھونسلے سے نکال کر رکھے تھے۔ جس سے چاول ضائع ہو گئے لیکن مجھے اس کی سزا مل گئی۔ میں بارش میں بھیگ کر سخت بیمار ہو گئی ہوں۔ بیماری کی وجہ سے میرے پروں میں اُڑنے کی طاقت ہی نہیں رہی اور میرے بچے آج کئی دنوں سے بھوکے ہیں۔ مجھے معاف کر دو۔۔۔۔ مجھے معاف کر دو۔۔۔۔ کالی چڑیا رو رہی تھی۔ وہ بہت بیمار اور کمزور بھی لگ رہی تھی۔

ہمیشہ کی مہربان فاختہ بولی کالی چڑیا فکر کیوں کرتی ہو جا کر گھونسلے میں آرام کرو۔ میں تمہارے بچوں کے لئے کھانے کا بندوبست کرتی ہوں۔ مینا نے کہا بلبل تم کالی چڑیا کو اس کے گھونسلے تک لے جاو¿۔ میں ذرا جا کر ڈاکٹر الو سے کالی چڑیا کے لیے دوا لے آو¿ں۔ یہ کہہ کر مینا اُڑ گئی۔

کالی چڑیا، مینا بلبل اور فاختہ کی دیکھ بھال سے کچھ دنوں ہی میں ٹھیک ہو گئی۔ بچوں کو بھی خوراک ملتی رہی۔ مینا بلبل اور فاختہ کی دوستی دوبارہ سے شروع ہو چکی تھی۔

آج جب سورج نکلا تو اس نے دیکھا کہ پہلے کی طرح مینا، بلبل اور فاختہ دھوپ میں آ بیٹھی ہیں۔ بچے بھی پہلے کی طرح ہنس کھیل رہے ہیں۔ مگر یہ آج ان تینوں کے ساتھ چوتھا کون ہے؟ سورج آنکھیں کھول کھول کر دیکھنے لگا۔ جی ہاں آج کالی چڑیا بھی ان تینوں میں بیٹھی اپنا سارا غرور بھول کر قہقہے لگا رہی تھی۔ وہ جان چکی تھی کہ مل جل کر رہنے میں ہی سب کا فائدہ ہے۔ بلبل، مینا اور فاختہ بھی نئی دوست کے ملنے پر بہت خوش ہیں۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...