کشمیر سب سے پہلے 

کشمیر سب سے پہلے 

  



عین اس وقت جب پاکستانی قوم مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ سے لطف اندوز ہو رہی ہے، بھارت نے مقبوضہ کشمیر پر ایک اور کاری وار کیا ہے، رستے ہوئے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے ایک اور گہرے گھاؤ کا اضافہ کر دیا ہے۔اسے انتظامی طور پر لداخ اور جموں و کشمیر کے دو الگ الگ منطقوں میں تقسیم کرتے ہوئے دونوں کے لئے الگ الگ  لیفٹیننٹ گورنر مقرر کر دیئے ہیں۔ گویا مقبوضہ علاقے کی علیحدہ حیثیت ہی ختم کر ڈالی ہے۔اسے خصوصی درجہ تو حاصل کیا رہتا، کسی دوسرے صوبے کی طرح کی داخلی خود مختاری بھی اسے حاصل نہیں رہی۔اب ان دونوں علاقوں …… لداخ اور جموں و کشمیر……  کا نظم و نسق براہِ راست دہلی سے چلایا جائے گا۔ سری نگر اور  لیہہ میں لیفٹیننٹ گورنر مقرر ہوں گے، جو دہلی کے احکامات پر کورنش بجا لائیں گے،گویا مقبوضہ علاقے کی ہر طرح کی انتظامی خود مختاری کو سلب کر لیا گیا ہے۔یہ اس سلسلہ واقعات کا انجام ہے، جس کا آغاز 5اگست کو ہوا تھا۔وہ دن جائے اور آج کا آئے پورے مقبوضہ علاقے کو ایک بڑے قید خانے میں تبدیل کیا جا چکا ہے۔ وہاں معمولاتِ زندگی بحال نہیں ہو پا رہے۔کسی بین الاقوامی تنظیم یا ادارے کے نمائندے کو تو وہاں جانے کی اجازت کیا ملتی،بھارت کی اپوزیشن کا کوئی لیڈر  وہاں قدم رکھنے کی جسارت نہیں کر پا رہا۔کانگرس کے صدر  راہول گاندھی سری نگر پہنچے تو فوجی اہلکاروں نے انہیں سری نگر کے ہوائی اڈے ہی سے واپس بھجوا دیا۔ ایک لطیفہ یہ بھی سرزد ہو چکا ہے کہ یورپی یونین کے انتہا پسند دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے  چند ارکان پارلیمینٹ کا ایک وفد ترتیب دے کر بھارتی حکومتی انہیں سری نگر لے گئی،لیکن تھوڑی سی ڈھیل ملتے ہی کشمیری پابندیاں توڑ کر باہر نکل آئے، اور بھارت کے خلاف نعرہ زن ہو گئے۔بھارتی حکومت کی قلعی کھل گئی اور اس نے اپنا چہرہ اُجلا کر کے دکھانے کی جو سازش تیار کی تھی،اس کا بھانڈا پھوٹ گیا۔

پاکستان اور چین نے بھارت کے تازہ اقدام پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے۔ ہر دو ممالک کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے اسے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کہہ کر  ناقابل ِ قبول قرار دے دیا ہے۔معاہدہ شملہ کے تحت بھی کشمیر کی حیثیت میں کوئی یکطرفہ تبدیلی ممکن نہیں ہے۔بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر میں یک طرفہ اقدامات کے جو تیر چلا رہی ہے، بالآخر وہ خود اس کا نشانہ بنے گی، اور اس کے سامراجی عزائم تار  تار ہو کر رہیں گے۔وزیراعظم نریندر مودی نے کشمیر کے مسئلے کا جو ”حل“ تلاش کیا ہے،قابض ممالک اور قابض فوجیں اکثر اس طرح کے حل تلاش کرتی رہی ہیں۔افغانستان میں اولاً ماسکو نواز حکومت قائم کی گئی، ظاہر شاہ کا تختہ الٹ کر سمجھا گیا کہ قبضہ  ہو گیا ہے،لیکن جب کٹھ پتلیوں کے پاؤں زمین پر نہ ٹک سکے، تو پھر(بالآخر) سوویت فوجیں افغانستان میں داخل کر دی گئیں،جنہوں نے داخلے کے ساتھ ہی نئی کٹھ پتلیاں اقتدار کی کرسی پر بٹھا دیں۔اس کے بعد جو کچھ ہوا،زمانہ اس سے واقف ہے۔آج دُنیا کے نقشے پر سوویت یونین نام کا ملک موجود نہیں ہے۔افغانستان میں پسپائی نے دوسری ریاستوں کا بھی حوصلہ بڑھا دیا، اور سوویت وفاق کی اکائیاں اپنے پرچم لے کھڑی ہو گئیں۔نریندر مودی اور ان کے انتہا پسند رفقا کی خوش گمانیاں بھی ہوا میں اُڑ کر رہیں گی۔انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ آج کے بھارت کی کوئی تاریخی جغرافیائی حیثیت نہیں ہے۔اگست1947ء سے پہلے برصغیر میں برطانوی ہند کے ساتھ تاجِ برطانیہ کی بات ہو  تو ساڑھے پانچ سو سے زیادہ نوابی ریاستیں بھی موجود تھیں، جنہیں داخلی خود مختاری حاصل تھی۔ ان ریاستوں پر جس طرح قبضہ کیا گیا،تاریخ میں اس کی تفصیلات درج ہیں۔مختلف ریاستوں میں اب بھی آزادی کا جذبہ سرد نہیں پڑا۔مقبوضہ کشمیر پر قبضہ پکا کرنے کی خواہش، اور بہت کچھ  بھارتی حکمرانوں کے ہاتھ سے نکلنے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

بھارت  خواہ اُلٹا لٹک جائے، ریاست جموں و کشمیر اس کا حصہ نہیں رہ سکتی۔کشمیری اس صورتِ حال کو کبھی قبول نہیں کریں گے۔آج بھارت کے ساتھ الحاق کی حمایت کرنے والے مٹھی بھر عناصر بھی کانوں کو ہاتھ لگا رہے ہیں۔ کشمیریوں کو دوسرے درجے کا ”بھارتی شہری“ بنانے کا منصوبہ ناکام ہو کر رہے گا۔پاکستان کہ کشمیر کی تحریک آزادی جس کے وجود کا حصہ ہے،اسے البتہ اپنے معاملات کا جائزہ بھی  لینا ہو گا۔اہل ِ سیاست کو دستور کی حدود میں رہ کر زندہ رہنے کا ہنر سیکھنا ہو گا۔یہاں نہ آزادی مارچ کی نوبت آنی چاہئے، نہ اپوزیشن کو دیوار سے لگانے کی اجازت ملنی چاہئے۔ہمیں اپنی ساری توانائی ایک دوسرے کو  زچ کرنے اور ایک دوسرے کو شکست دینے کی خواہش پالنے کے بجائے، بھارتی عزائم کو خاک میں ملانے کے لیے وقف کر دینا ہو گی۔جو داخلی کشیدگی پاکستان میں پیدا ہو چکی ہے،اسے کم کرنا، حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف دونوں پر لازم ہے۔اگر ہمارے اہل ِ سیاست نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو ان دونوں کے ہوش اُڑ جائیں گے۔ آزادی کی قدر کیجیے، مقبوضہ کشمیر سے سبق حاصل کیجیے، اس کے لیے سوچیے، اس کے لیے اقدام کیجیے……سب سے پہلے کشمیر…… اس کے بعد کچھ اور۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...