پٹرولیم کے نرخ، اشیاء خوردنی اور عوام!

پٹرولیم کے نرخ، اشیاء خوردنی اور عوام!

  



حکومت نے ماہ نومبر کے لئے پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں معمولی ردوبدل کیا،جس کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا،نئے نرخ اوگرا کی سفارشات کے مطابق ہیں جو حکومت نے منظور کر لی ہیں،اِس سلسلے میں شائع ہونے والی ایک خبر بھی غلط ہی ہو گی،جس کے مطابق وزیراعظم نے ہدایت کی تھی کہ نرخوں میں سابقہ ماہ کی طرح کوئی تبدیلی نہ کی جائے۔ماہ ستمبر کے لئے پٹرولیم مصنوعات سستا کرنے کی سفارش تھی جسے قبول نہ کرتے ہوئے اگست والی قیمتیں برقرار رکھی گئی تھیں۔اب جو نئی قیمتیں مقرر کی گئی ہیں ان کے مطابق پٹرول کے نرخ ایک روپیہ فی لیٹر بڑھا دیئے گئے، ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 27 پیسے فی لٹر اضافہ کیا گیا،جبکہ مٹی کے تیل کے نرخ2.39 روپے فی لٹر کم کئے گئے ہیں۔پٹرولیم مصنوعات عالمی منڈی میں مندے کا شکار ہیں کہ سعودی عرب نے نہ صرف متاثرہ ریفائنری جلد درست کر کے تیل کی بہمرسانی مکمل بحال کی، بلکہ نرخ بھی کم کئے، حتیٰ کہ اپنے ملک کے اندر بھی پٹرول سستا کیا تھا، اسی بناء پر گزشتہ ماہ کمی کی سفارش کی گئی جو رد کر دی گئی اور سفارش شدہ رقم قومی خزانے میں جمع کرانے کی غرض سے سیلز  ٹیکس میں اضافہ کر دیا گیا، چنانچہ عام شہری تب سے پوچھ رہے ہیں کہ سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور آج کے مشیر خزانہ کے عمل میں کیا فرق ہے، تنقید کرنے والوں نے کہا کہ ڈار تو ایسا کرتے،پٹرول جوں کا توں رہتا لیکن روپے کی بے قدری نہ ہوتی اور ڈالر سر نہیں چڑھتا تھا۔ یوں مہنگائی بہت زیادہ نہیں تھی،لیکن آج صورت حال مختلف ہے، پٹرولیم مصنوعات کے نرخ کئی گناہ بڑھ گئے۔ ڈالر مہنگا روپیہ سستا ہوا تو مہنگائی کا طوفان آ گیا۔ان دنوں عوام گرانی کے ہاتھوں چیخ رہے ہیں کہ سبزی، دالیں ان کی پہنچ سے باہر ہیں، پھل دوا کے طور پر بھی استعمال نہیں ہو پا رہے، درآمدی بل کم کرنے کے لئے بعض اشیاء کی درآمد بند کی تو قابل ِ برداشت، لیکن درآمدی اشیاء پر ڈیوٹی میں جو بے تحاشا اضافہ کیا گیا، اس سے تو بچوں کے پیمپر بھی حد سے باہر ہو گئے، حتیٰ کہ بچوں اور بوڑھوں کے لئے خوراک والی بعض اشیاء چار چار گنا مہنگی ہو گئیں،جس کی ایک مثال زیتون کے تیل سے بنا مکھن ہے،اس کے نرخ چار گنا بڑھے تو دِل کے امراض والوں نے خریدنا بند کر دیا۔یوں جو تھوڑی بہت انرجی ملتی اس سے محروم ہوئے، اسی طرح گھریلو خوراک کی مہنگائی نے بے حال کر دیا، سبزی اور دالیں بھی مشکل سے پکائی جا سکتی ہے، اندازہ لگائیں کہ کوئی بھی سبزی ایک سو روپے کلو سے کم میں نہیں، مٹر ہماری اپنی پیداوار ہیں، جو پرچون میں 200 روپے سے زائد پر مل رہے ہیں، اب اگر حکومت عالمی منڈی سے ملنے والی اعانت بھی عوام تک نہیں پہنچنے دیتی تو لوگ کیا کریں اور کیا کہیں،حکومت کے کارپرداز امیر لوگ ہیں، ان کو بازار سے کیا غرض! بہتر عمل ہے کہ وزیراعظم اپنے احکام اور ہدایات پر عمل کرائیں، انہوں نے قیمتوں کو کنٹرول کرنے کا کہا ہے تو عمل کے بارے میں بھی دریافت کریں۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...