دکھ والا حادثہ اور محکمانہ غفلت، وزیر کا دعویٰ

دکھ والا حادثہ اور محکمانہ غفلت، وزیر کا دعویٰ
دکھ والا حادثہ اور محکمانہ غفلت، وزیر کا دعویٰ

  



ایک اور حادثہ، مزید جانوں کا اتلاف، محکمہ کا نقصان کروڑوں میں، زخمی بے حال، ہسپتالوں میں علاج کی کم سہولتیں، لیاقت پور (رحیم یارخان) کے قریب تیز گام کی بوگیوں میں لگنے والی آگ اتنی تیزی سے پھیلی کہ تبلیغ کے لئے جانے، اجتماع میں جا کر منظوری لینے والوں کے لئے جہنم کا نمونہ بن گئی اب تک کی اطلاع کے مطابق 74 افراد جاں بحق ہوئے، حادثہ اور آگ کے باعث ان کو شہدا ہی میں شمار کیا جائے گا، بیسیوں زخمی بھی ہیں۔

حادثات تو پہلے بھی ہوئے جانی نقصان اس سے بھی زیادہ ہوا، لیکن اس کی نوعیت بالکل مختلف ہے کہ آگ لگی اور تیزی سے پھیلی ایک سے تین بوگیاں متاثر ہوگئیں۔ اس حادثے کی حیرت انگیز بات وہ تحقیقات ہے جو آگ بجھنے اور پڑتال سے پہلے ہی مکمل ہو گئی۔

اس وقت تک تو کوئی شہادت بھی نہ لی گئی تھی، اعلان ہوا، آگ گیس سلنڈروں کے پھٹنے سے لگی۔ یہ کسی مسافر اور اہل کار کا نہیں وزیر ریلوے کا بیان تھا اور اب صرف بارہ گھنٹے بعد جو اعلان کیا گیا وہ بھی اسی کی تصدیق ہے کہ آگ سلنڈر پھٹنے سے لگی اور اب تو گاڑی کے ڈرائیور سے بھی تصدیق کرا دی گئی کہ چھ سلنڈر پھٹے تھے، ہم تب سے اب تک حیرت زدہ ہیں اور محکمہ کے ساتھ ساتھ وزیر موصوف کو بھی داد دے رہے ہیں کہ انہوں نے وزیراعظم کے حکم کی آواز کی گونج ختم ہونے سے بھی پہلے تحقیقات مکمل کروا لی اور اسی کے مطابق نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ بھی درج کرا دیا، مدعی تیز گام کے گارڈ صاحب ہیں، ایف آئی آر کے مندرجات دیکھنے سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ گارڈ موصوف عینی شاہد ہیں، اب ذرا میڈیا کوریج پر غور فرمائیں تو متعدد ایسے مسافروں کا بیان تو ہوا جو اس آگ سے کسی نہ کسی طرح بچ گئے تھے وہ کہتے ہیں، آگ شارٹ سرکٹ سے لگی، سپارک ہوا تو پنکھا گرا اور آگ بھڑک اٹھی۔ ان میں ایسے مسافر بھی ہیں جنہوں نے کود کر جان بچائی اور زخمی بھی ہوئے۔ تیز گام جو لاہور آ رہی تھی، اس کے ان تینوں ڈبوں کی پیشگی بکنک رائے ونڈ کے تبلیغی اجتماعی میں شرکت کے لئے آنے والوں نے کرائی تھی، دو بوگیاں اکانومی اور ایک بزنس کلاس کی تھی۔

جو بھی ہوا، انتہائی دکھ والا ہے اور وزیر موصوف کی پھرتیوں والا کمال افسوسناک ہے کہ فوراً ہی حادثہ کی وجہ بتا کر مسافروں کو ذمہ دار ٹھہرا دیا، بات سلنڈر کی کی گئی لیکن میڈیا نے جو دو ”سلنڈر“ دکھائے وہ گیس والے چولھے ہیں جو عام طو رپر سفر یا تفریح کے لئے جانے والے سالن وغیرہ گرم کرنے کے لئے لے جاتے ہیں، یوں سلنڈر کا تصور تو ختم ہو جاتا ہے ویسے بھی مسافر گاڑی میں چولھے تو آسانی سے لائے جا سکتے ہیں،لیکن سلنڈر لانا مشکل امر ہے اور نہ ہی اس کی ضرورت ہوتی ہے اس کے علاوہ قابل غور امر یہ ہے کہ یہ حادثہ یا مبینہ سلنڈر کیا تینوں بوگیوں میں پھٹا تھا کہ آگ بیک وقت تینوں بوگیوں میں لگی۔ اگر یہ نام نہاد سلنڈر اتنا ہی طاقتور تھا تو وہ سب آنکھیں اندھی تھیں جو مسافروں کو سوار ہوتے وقت دیکھ رہی تھیں اور بیشتر مسافر تو سوار ہی کراچی سے ہوئے تھے اس لئے اس جلد بازی کی تحقیقات اور تفتیش پر جائز اعتراضات کئے جا رہے ہیں اور یہ حقیقتاً سوالیہ نشان ہیں۔

وزیر ریلوے شیخ رشید کافی وزنی (جسمانی طور پر)ہونے کے باوجود سمارٹ اور گفتگو کے بادشاہ ہیں، انہوں نے پل بھر میں امداد کا بھی اعلان کر دیا، بھلا ہو ان تحقیق والے رپورٹر حضرات کا جنہوں نے بتا دیا کہ یہ امداد کوئی سرکاری نہیں بلکہ انشورنس کی وہ رقم ہو گی جو اب ہوائی جہاز کے ٹکٹ کی طرح ریلوے کے ٹکٹ پر بھی مسافروں سے انشورنس کے عوض وصول کی جاتی ہے اور انشورنس کمپنی اس کے لئے اپنے ضابطے پورے کرے گی کہ کیا یہ تخریب کاری تو نہیں۔ حادثہ ہے تو جاں بحق ہونے والے کون تھے؟اور ان کی شناخت کی تصدیق کے علاوہ جائز ورثاء کی بھی شناخت اور تصدیق ہو گی کہ ادائیگی کرنا مقصود ہے اور اتنی اموات اور زخمیوں کی تعداد کے حوالے سے یہ بڑی رقم ہو گی یوں یہ تاخیر معمول کے حوالے سے ہو جائے گی۔

ہم تو اس سانحہ کے باعث ریلوے کے ادارے کی مجموعی کارکردگی کی بات کریں گے، محترم فرزند راولپنڈی تو فرماتے تھے ایک سال کے اندر خسارہ پورا کرکے ریلوے نظام کو اول درجہ پر پہنچا دیں گے۔ موصوف کے عزم کی یہ کیفیت ہے کہ حادثات پر حادثات ہوئے۔ چلیں اسے تقدیرکا لکھا کہہ لیں، لیکن ابھی تک کسی بھی حادثے کی حتمی رپورٹ، اس کی سفارشات اور ان پر عمل درآمد کا معاملہ سامنے نہیں آیا، وزیر موصوف نے ایک سے بڑھ کر ایک نئی ٹرین چلائی، خسارہ ہوا تو کئی بند کر دیں، ان کی اپنی حالت یہ ہے کہ پرل کانٹی نینٹل (اس سے پہلے یہی انٹرکانٹی نینٹل) ان کا پسندیدہ ہوٹل ہے وہ جب بھی آئیں یہاں ٹھہرتے اور پہلے یہیں میڈیاکو مہمان بنا کر بات کیا کرتے تھے اب یہ ضرورت ریلوے ہیڈکوارٹر میں پوری ہو جاتی ہے اور ہر بار محکمانہ کارکردگی پر کم سیاست پر زیادہ بات ہوتی ہے انہوں نے بہت بڑے بڑے دعوے کئے، ان میں ریلوے کارکردگی کے اندرونی حالات بھی درست کر دینے کا دعویٰ تھا۔

ورکشاپوں کو اعلیٰ معیار پر لانے کی بات کی ایسا کچھ نہیں ہوا، ریلوے کی کارکردگی سوالیہ نشان، ٹرینیں مسلسل تاخیر در تاخیر کا شکار اور بوگیوں کی حالت خراب، سہولتوں کی کمی، بکنگ میں مشکلات، یہ سب ویسے کا ویسے چل رہا ہے، انہوں نے ورکشاپوں کو درست کرنے کو کہا، ہم نے ایک ملاقات میں یاد دلایا کہ راولپنڈی / اسلام آباد میں نئی کیرج شاپ بنائی گئی تھی تو یہاں نئی بوگیاں تیار ہوتی تھیں، بیرون ملک سے آرڈر ملتے تھے، اب یہاں اپنی بوگیاں مرمت بھی نہیں ہو پاتیں، محترم یہاں بھی کچھ نہ کر پائے، نہ ہی انجنوں کی دیکھ بھال اور مرمت کا کام زیادہ بہتر کر سکے، پٹڑی کاتو پہلے سے اللہ حافظ ہے، اس لئے ان کو سہولت ہے کہ وہ سارا ملبہ سابقین پر ڈال دیں، کبھی یہ تجزیہ نہیں کریں گے کہ خواجہ سعد رفیق کی دوڑدھوپ کے نتائج بہتر تھے، آپ ان کے خلاف جو بھی الزام لگائیں، ریلوے کی حالت موجودہ سے کافی بہتر تھی، محترم شیخ صاحب، خود ہی اپنی اداؤں پر غور فرمائیں۔

ریلوے کی حالت تو حادثات کے باعث سامنے آ جاتی ہے لیکن دوسرے سرکاری محکموں کی بدترین کارکردگی سامنے نہیں آ رہی کہ لوگ عادی ہو چکے، تجاوزات ہوں یا ملاوٹ،صفائی کی حالت ہو یا سڑکوں، گلیوں کی ٹوٹ پھوٹ، ٹریفک کے مسائل ہوں یا جرائم کی بڑھتی شرع کسی شعبہ میں بھی کام نہیں ہو رہا، بلدیاتی اداروں سے محکمہ جنگلات، فشریز سے ماحولیات اور کھیلوں سے لے کر باغبانی کے شعبے تک ہر جگہ کاہلی، سستی اور حرام خوری کا راج ہے۔ کچہریوں کی بات کرنا فضول کہ وہاں کا کلچر کئی کتابیں چاہتاہے۔ محکموں پر تنقید کرنے اور اصلاحات کا دعویٰ کرنے والی جماعت بتائے گی کہ برسراقتدار آکر کیا کیا گیا؟

مزید : رائے /کالم


loading...