ہم کہاں کھڑے ہیں،منزل کہاں ہے؟

ہم کہاں کھڑے ہیں،منزل کہاں ہے؟
ہم کہاں کھڑے ہیں،منزل کہاں ہے؟

  



جمعیت علمائے اسلام(ف) کی مرکزی قیادت نے اپنے وعدے کے مطابق کراچی سے کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کی ریلی نکالی اور اگلے روز حکومت کے خلاف آزادی مارچ کا روپ اختیار کر لیا۔ کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی کی ریلی اور حکومت کے خلاف آزادی مارچ میں جمعیت علمائے اسلام (ف)،پاکستان پیپلزپارٹی، مسلم لیگ(ن)، اے این پی،جمعیت علمائے پاکستان سمیت دینی و سیاسی جماعتوں کے قائدین اور کارکنوں نے شرکت کی۔ مولانا فضل الرحمن نے اپنے چارٹر آف ڈیمانڈ کے مطابق واضح کیا کہ ہم عمران خان کے استعفے کے مطالبے سے دستبردار نہیں ہوں گے،عمران خان کو آج نہیں تو کل جانا ہی پڑے گا۔عمران خان جبری اور دھاندلی کی بنیاد پر وزیراعظم بناہے،ہم نہ الیکشن کو تسلیم کرتے ہیں اور نہ اس کے نتائج اور وزیراعظم کو مانتے ہیں، ہم کشمیر کے حوالے سے موجودہ حکومت کے معاہدات اور سودے بازی کو تسلیم نہیں کرتے۔کشمیر کی آزادی تک جدوجہد جاری رکھیں گے۔

انہوں نے موجودہ صورتِ حال میں حکومتی فیصلوں کو انتہائی مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو اب خیال آیا ہے کہ حافظ حمد اللہ غیر ملکی ہیں،وہ نسلوں سے پاکستان کی خدمت کر رہے ہیں،اپوزیشن کی صفوں میں اشتعال پیدا کرنے کے لئے مفتی کفایت اللہ کو گرفتار کیا گیا ہے کہ ہم نے ساری زندگی ملک کے ساتھ وفاداری کی ہے۔ ہم نے شدت پسندوں کا مقابلہ کر کے جید علماء کی شہادتیں دی ہیں۔کراچی کی ریلی میں شرکاء کی تعداد عمران خان کے استعفے کے لئے کافی ہے،لیکن جب عوام کا یہ ٹھاٹھیں مارتا سمندر اسلام آباد پہنچے گا تو پھر کیا ہو گا؟ جے یو آئی(ف) کے رہنما مولانا عطاء الرحمن کے مطابق حکومت نے سینیٹر حمد اللہ کی شہریت منسوخ کر کے اور گرفتاریاں شروع کر کے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے، جس کے بعد ہم بھی معاہدے کے پابند نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معاہدہ انتظامیہ کے ساتھ ہوا تھا اور انتظامیہ کی ذمہ داری تھی کہ حکومت سے معاہدے کی پابندی کراتی۔ اگر وہ معاہدے کی پاسداری نہیں کرے گی تو اپوزیشن سے معاہدے کی پاسداری کی امید نہ رکھے۔

جمعیت علمائے اسلام کے رہنما حادفظ حمد اللہ کی شہریت منسوخی سے متعلق سینیٹر پروفیسر رشید نے سینیٹ میں تحریک استحقاق جمع کرا دی ہے۔ تحریک استحقاق میں کہا گیا ہے کہ نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی(نادرا) کی جانب سے حافظ حمد اللہ کی پاکستانی شہریت منسوخ کرنا پارلیمینٹ کی توہین ہے۔حافظ حمد اللہ ممبر سینیٹ اور بلوچستان کے وزیر صحت رہے ہیں۔رکن پارلیمینٹ ہونا بذاتِ خود پاکستانی شہری ہونے کا واضح ثبوت ہے۔ ارکان پارلیمینٹ میں اس اقدام سے تشویش پیدا ہو گئی ہے، استحقاق کمیٹی کا فوری اجلاس بُلا کر نادرا کی کارروائی کی منسوخی اور اس کے خلاف کارروائی کی جائے۔چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ سلیکٹڈ حکومت جلد گھر جائے گی،پھر الیکشن ہوں گے۔یہ رہبر کمیٹی کے اجلاس میں منظور ہونے والے چار نکات میں سے دوسرا نکتہ ہے، جسے مولانا فضل الرحمن چارٹر آف ڈیمانڈ کا نام دے رہے ہیں۔پہلا نکتہ عمران خان کا استعفا مولانا فضل الرحمن نے کراچی کی ریلی میں مانگ لیا ہے۔

دوسرا نکتہ بلاول بھٹو نے لاہور میں ارکان اسمبلی احسان الرحمن مزاری ایم این اے، حاجی عبدالرؤف کھوسو کی جانب سے چائے کی دعوت میں گفتگو کرتے ہوئے پیش کر دیا ہے،جبکہ تیسرا اہم نکتہ نئے انتخابات کا انعقاد ہے،جس میں فوج کا عمل دخل نہ ہو اور چوتھا نکتہ آئین میں موجود اسلامی شقوں کا مکمل دفاع ہے،جو آزادی مارچ اسلام آباد پہنچنے تک بڑی شددو مد کے ساتھ پیش ہوں گے۔ زمانے کے اُتار چڑھاؤ کے ساتھ بہت کچھ بدلتا چلا جاتا ہے،جس طرح آج وزیراعظم عمران خان کے خلاف نو جماعتوں نے اتحاد کر کے رہبر کمیٹی کے اجلاس میں چار نکات پر اتفاق کیا ہے،اسی طرح 1977ء میں پاکستان قومی اتحاد کی جنرل کونسل کے اجلاس میں تین نکات پر اتفاق ہوا تھا،پہلا نکتہ تھا کہ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو مستعفی ہو جائیں، دوسرا نکتہ تھا ایک نیا الیکشن کمیشن قائم کیا جائے، جسے قوم کا اعتماد حاصل ہو اور تیسرا اہم نکتہ تھا کہ عدلیہ اور مسلح افواج کے تعاون سے ازسر نو انتخابات منعقد کرائیں جائیں اور یہ چارٹر آف ڈیمانڈ اس وقت صدرِ پاکستان قومی اتحاد مولانا مفتی محمود(مرحوم) نے ذوالفقار علی بھٹو(مرحوم) کے خط کے جواب میں ایک کھلے خط میں پیش کیا تھا، جو انہوں نے 24مارچ1977ء کو بابائے جمہوریت نوابزادہ نصراللہ خان (مرحوم) اور پی این اے کے دیگر رہنماؤں کے مشورے کے بعد 23 ڈیوس روڈ لاہور سے جاری کیا تھا۔

کچھ لوگوں کا یہ خیال اور رائے درست نہیں ہے کہ کاروبار سیاست ہمیشہ عوام کے حافظے کی کمزوری سے قائم ہے،ورنہ تو یہ بازار اب تک بند ہو چکا ہوتا،حالانکہ بات ایسے نہیں ہے، سیاست دان، سیاست دانوں کی غلطیوں سے سیکھتے ہیں اور آگے بڑھتے ہیں۔بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کو برسر اقتدار آئے 14ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر گیا ہے۔وزیراعظم عمران خان اس جمہوری گاڑی کے ڈرائیور اور ان کی کابینہ کے ڈبے تو اس ٹرین کے ساتھ لگے ہیں، مگر اپوزیشن جماعتوں کی بوگی اس ٹرین کے ساتھ لگائی ہی نہیں گئی۔ڈرائیور انجن کے کمرے اور کابینہ اپنے اپنے کمروں میں بیٹھی سمجھ رہی ہے کہ گاڑی جمہوریت کے ٹریک پر رواں دواں ہے۔اپوزیشن بوگی ساتھ ہوتی تو اپوزیشن ڈرائیور اور کابینہ سے رابطے میں ہوتی اور انہیں بتا دیتی کہ جمہوریت کی گاڑی آگے کی بجائے 42 سال پیچھے چلی گئی ہے۔ وہی دور ہے اب ریڈیو/ٹی وی براڈ کاسٹ کی بجائے مختلف چینلز اور ٹویٹس کے ذریعے اپوزیشن کے خلاف دن رات الزامات کی بارش،دھمکیاں اور واضح طور پر یہ موقف اختیار کرنا، کہ وزیراعظم عمران خان کے استعفے کے سوا دیگر امور پر بات ہو سکتی ہے۔ حکومت پہلے روز سے ہی مذاکرات کے دروازے بند کر چکی ہے،

جبکہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مرکزی قائد مولانا فضل الرحمن کا پہلے روز سے یہ موقف ہے کہ انتخابات میں زبردست دھاندلی ہوئی،ہم اس کے نتائج کو، ان دھاندلی زدہ حکومت کو، وزیراعظم اور کابینہ کو تسلیم نہیں کرتے۔مولانا نے مسلم لیگ (ن)،پاکستان پیپلز پارٹی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں سے اس وقت کہا تھا کہ تمام اپوزیشن جماعتیں صوبائی اور قومی اسمبلی سے استعفے دے دیں،دوبارہ الیکشن کا مطالبہ کیا جائے،مگر اپوزیشن اس نکتے پر متحد نہ ہو سکی، اور آج ان جماعتوں کی قیادت جیلوں میں بند پڑی ہے اور مقدمات کا سامنا کر رہی ہے۔یہ احتساب سے زیادہ انتقام دکھائی دے رہا ہے۔ حکومت کتنے ہی حسین الفاظ سے اِس بات کو جھٹلائے،لیکن یہ حقیقت ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کی قیادت زیر عتاب ہے، کچھ بھی نہیں بدلا،سب کچھ1977ء والا ہے، صرف اس میں تبدیلی یہ آئی ہے کہ مولانا مفتی محمود عدلیہ اور مسلح افواج کی نگرانی میں ازسر نو انتخابات کا مطالبہ کر رہے تھے اور آج مولانا فضل الرحمن نئے انتخابات کا انعقاد، فوج کے عمل دخل کے بغیر مانگ رہے ہیں،فیصلہ اداروں نے کرنا ہے،ہاں یا نہیں!

مزید : رائے /کالم


loading...