حکومت مخالف مظاہرے

حکومت مخالف مظاہرے
حکومت مخالف مظاہرے

  



اس وقت کے عالمی منظر نا مے پر نظر ڈالی جا ئے تو لا طینی امریکہ کے ملک ”چلی“ سے لے کر مشرق وسطیٰ کے ملک لبنان تک ہمیں سیاسی نظاموں اور حکومتوں کے خلاف عوامی تحریکیں دکھائی دیں گی۔چلی، ایکواڈور، لبنان، عراق، ہانگ کانگ میں جہاں ایک طرف حکومت مخالف تحریکیں چل رہی ہیں تو وہاں دوسری طرف فرانس اور بر طا نیہ جیسے ترقی یا فتہ ممالک بھی سیاسی عدم استحکام کا شکار دکھائی دے رہے ہیں۔جس طرح آج سے نوسال پہلے مشرق وسطیٰ کے ملک ”تیونس“ میں زین العابد ین بن علی کے خلاف جو تحر یک چلی، اس سے مشرق وسطیٰ کے دوسرے ممالک بھی متا ثر ہوئے اور مشر ق وسطیٰ کی ان تحریکوں کو ”عرب اسپرنگ“ کا نا م دیا گیا۔اب گزشتہ چند ہفتوں سے ایشیا، یورپ، افر یقہ اور لاطینی امریکہ کے کئی ممالک میں سیاسی نظاموں اور حکومتوں کے خلاف جو تحر یکیں چل رہی ہیں،کیا ان میں کچھ مشترکہ عوامل بھی ہیں؟

پہلی نظر میں تو ان تمام سیاسی تحریکوں کی نوعیت ایک دوسرے سے الگ الگ ہے،مگر اسی کے ساتھ یہ تمام تحریکیں ایسے وقت میں ابھر رہی ہیں، جب ”آئی ایم ایف“ جیسا ادارہ بھی عالمی معیشت میں کساد با زاری کی پیش گوئی کر رہا ہے۔”آئی ایم ایف“ کے مطابق 2008ء کے بعد اب 2019ء میں بھی دنیا کو عالمی کساد با زاری کا سامنا ہے،حتیٰ کہ دنیا کے امیر ممالک بھی معاشی کساد بازاری سے متا ثر ہو رہے ہیں۔ ”آئی ایم ایف“ کے فنڈ منیجرجوز لوئیس ڈازاکے مطابق دنیا کے سات بڑے ممالک میں ترقی کی شرح گز شتہ دس سال میں نصف کے بر ابر رہی۔ یہ سات بڑے ممالک 20سال پہلے، جس شرح سے ترقی کر رہے تھے، اب اس کے نصف کے برابر ترقی کر رہے ہیں۔ ان ممالک کے مرکزی بینکوں نے شرح سود کو بھی بہت زیا دہ کم کیا، مگر اس کے باوجود یہ ممالک پرانی رفتار سے معا شی ترقی نہیں کر پا رہے۔جرمنی کو یورپ کا معاشی انجن ما نا جا تا ہے۔ اس کے مرکزی بینک کے مطابق جرمنی بھی کساد با زاری کا شکار ہو سکتا ہے۔

ظاہر ہے جب کساد با زاری آتی ہے تو اس کا سیدھا اثر مزدور طبقات کے ساتھ ساتھ متوسط طبقے کے حصوں پر بھی ہو تا ہے۔ان طبقات کی بے چینی میں اضافہ ہو تا ہے،خاص طور پر نچلے اور متوسط طبقات کے اندر جو با شعورحصہ ہو تا ہے، جب وہ یہ دیکھتا ہے کہ کیسے ایک طرف کرپشن کے ذ ریعے عوام کا حق لو ٹا جا رہا ہے اور حکمران طبقات کا منظور نظر ایک یا زیادہ سے زیادہ دو فیصد طبقہ ہی دولت سمیٹ رہاہے اور اکثر یت کو دولت کا عشر و عشیر بھی نہیں مل رہا تواس سے باشعور طبقے میں بے چینی جنم لیتی ہے اور اس کا اظہار احتجاج کی صورت میں سامنا آتا ہے۔عراق کی ہی مثا ل لیجیے، جہاں وزیراعظم عبدل مہدی اور عراقی سیاسی اشرا فیہ کے خلاف بھرپور احتجا ج جا ری ہے۔عراق تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم ”اوپیک“کا دوسرا سب سے بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہے، جبکہ عراق دنیا میں خام تیل پیدا کرنے والا پا نچواں بڑا ملک ہے۔عراق کی حکومت نے گز شتہ سال تیل ریوینو کی مد میں 100 ارب ڈالرز کمائے۔ اتنی بڑی رقم کا عشر عشیر بھی عراقی عوام کے حصے میں نہیں آیا، بلکہ یہ پیسہ عالمی تیل کی کمپنیوں اور عراق کے کرپٹ سیاستدانوں کے حصے میں آیا۔ ”ٹرانسپیرنسی انٹر نیشل“ کے مطابق عراق دنیا کا 12واں کرپٹ ترین ملک ہے۔ اسی طرح”چلی“کی مثال کو دیکھیں۔ 1990ء کی دہائی میں چلی کو لا طینی امریکہ کی”سٹار معیشت“ کہا جا تا تھا۔ اس کا ”جی ڈی پی“6فیصد سے اوپر ہو تا تھا۔ 2000ء کی دہائی میں یہ جی ڈی پی 4 فیصد پر آیا اور اب کرپشن اور سیاسی عدم استحکام کے باعث گزشتہ پانچ سال میں یہ جی ڈی پی2فیصد سے بھی نیچے ہے۔ ”آئی ایم ایف“ چلی سمیت لا طینی امریکہ کے اکثر ممالک کے لئے کساد بازاری کی پیش گوئی کر رہاہے۔

ظاہر ہے اس وقت جو کچھ دنیا کے مختلف ممالک میں ہو رہاہے،اس کی بہت سی وجوہات ہیں۔ ہر ملک کا اپنا سیاسی پس منظر ہے،مگر اس کے باوجود گز شتہ کئی بر سوں سے دنیا کے مختلف ممالک میں جس طرح تیزی کے ساتھ مقبولیت پسندی اور قو م پر ستی کی سیاست کو فروغ ملا ہے، اس عامل نے بھی مو جو دہ صورت حال میں اہم کر دار ادا کیا ہے۔مقبولیت پسندی کے جذبے کے تحت بننے والی حکومتوں نے دیرپا معا شی پالیسیوں کو اپنانے کی بجائے محدود نتا ئج حاصل کرنے کے لئے معاشی پا لیسیاں بنائیں،جن سے کلی طور پر معا شی صورت حال مزید ابتری کا شکار ہوئی۔یہ مسئلہ صرف جمہوری ملکوں تک ہی محدود نہیں،بلکہ چین جیسا ملک بھی اس سے متاثر ہو تا نظر آرہاہے۔

گزشتہ کئی سال سے امریکہ کے بعد چین کو ہی دنیا کی معاشی قوت کے طور پر مانا جا رہاہے۔ چین نے کئی عشروں کے دوران حیران کن ترقی کی،مگر 2013ء میں شی جن پنگ کے اقتدار میں آنے کے بعد انہوں نے معاشی پالیسیوں میں ترمیم کی اور مارکیٹ ریفا مز میں کمی کی۔پرائیویٹ سیکٹر پہلے کے مقابلے میں کمزور ہوا اور چین کی معاشی ترقی بھی ایک حد تک متاثر ہوئی۔ چین کی معاشی حیثیت اب صرف چین تک ہی محدود نہیں، بلکہ اس کے اثرات عالمی ہو چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چین کی معیشت کا اثر دنیا کے دوسرے ملکوں پر بھی پڑتا ہے۔ جیسے جرمنی کی اس وقت کی معاشی مشکلات میں ایک بڑ ی مشکل یہ ہے کہ چین کی منڈی میں اب جرمن اشیاء کے لئے طلب کم ہو ئی ہے۔چین کے بعد بھارت کی مثال کو دیکھیں، جہاں مودی نے اپنے آپ کو ایک ایسے سیاستدان کے طور پر متعارف کر وایا، جو معیشت میں اصلاحات کرے گا اور بھارتی منڈی کو مزید آزاد کرے گا، مگر مودی یہ سب کچھ کرنے میں نا کام رہا۔ اب بھارت کی معیشت بھی 6 فیصد تک ہی ترقی کر رہی ہے اور بھارتی معیشت میں مزید کساد بازاری کا امکان ہے۔

عالمی کساد با زاری اور دنیا کے مختلف ممالک میں حکومت مخالف احتجاج یہ بھی ثابت کر رہے ہیں کہ دنیا کے مختلف خطوں اور ممالک کے عوام ایک طرح سے عالمی سرمایہ داری نظام کو بھی چیلنج کر رہے ہیں۔ موجودہ عالمی سرمایہ داری نظام کا کردار ہی یہ ہے کہ امیر ترین افراد مزید امیر بننے کے لئے استحصال کرتے ہیں۔ ارب پتی افراد کی آمدینوں میں اس لئے بھی اضافہ ہو تا ہے،کیونکہ یہ ٹیکس چوری بھی کرتے ہیں۔ جیسے دنیا کے 50امیر ترین ارب پتی اگر اپنے ٹیکس کا1.5فیصد بھی ایمانداری سے ادا کریں تو اس رقم سے دنیا کے ہر بچے کو تعلیم فراہم کی جاسکتی ہے، اس لئے سیا سیات اور معیشت کے کئی ماہرین دولت کی غیرمنصفانہ تقسیم کا ایک حل یہ بھی تجویز کرتے ہیں کہ ارب پتی افراد سے زیادہ سے زیادہ ٹیکس لیا جائے، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس نظام میں رہتے ہوئے یہ ممکن ہی نہیں ہے، کیونکہ موجودہ عالمی سرما یہ داری نظام سراسر حرص، لالچ اور لوٹ کھسوٹ پر مبنی نظام ہے اور اس نظام نے سیاست کو بھی اپنے مفادات کے تحت ہی تر تیب دیا ہوا ہے۔

اس نظام کے غیر منصفانہ کردار کے باعث، جہاں ایک طرف اکثرممالک سیاسی عدم استحکام اور سما جی بے چینی کا شکار ہورہے ہیں تو دوسری طرف آج امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ جیسے مسخرے، بھارت میں مودی جیسے فاشسٹ ا ور یورپ میں دائیں بازو کی انتہا پسند قوم پرست جما عتیں عام لوگوں کے مسائل پر جذبا تیت کو بھڑ کا کر مقبول ہو رہی ہیں، حالانکہ عوام کے مسائل کا حل مقبولیت پسندی اور انتہا پسند ی پر مبنی قوم پرستی میں نہیں ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس نظام کو سمجھا جا ئے، جس کے اند ر رہتے ہوئے وسائل کی منصفانہ تقسیم ممکن ہی نہیں۔

مزید : رائے /کالم


loading...