فائر فائیٹنگ نہیں، کارکردگی

فائر فائیٹنگ نہیں، کارکردگی
فائر فائیٹنگ نہیں، کارکردگی

  



تیز گام کا حا دثہ، بلکہ سانحہ، انتہائی افسوسناک واقعہ ہے۔ اس حادثے میں 74 سے زائد انسانی جانیں تلف ہوئیں اور در جنوں مجروح ہوئے ہیں، بہت سے مجروحین کی حالت تشویشناک ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق گزرے 14 ماہ کے دوران ریلوئے کے 80 سے زائد حادثے رونما ہو چکے ہیں، جن میں درجنوں نہیں، سینکڑوں انسانی جانیں ضائع ہو ئی ہیں۔ زخمیوں کا کوئی حساب و کتاب ہی نہیں ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق سابقہ حکومت کے دور میں 14 حادثے ہوئے، جن میں 40 ہلاکتیں ہوئیں اور 96 افراد زخمی ہوئے۔ یہ موازنہ شیخ رشیداور خواجہ سعد رفیق کے درمیان نہیں ہے۔ یہ نوازشریف حکومت اور عمران خان حکومت کا موازنہ بھی نہیں ہے، لیکن یہ محکمانہ کارکردگی کا نوحہ ہے۔ ریلوے،جو دُنیا میں ایک محفوظ اور مامون سفر سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان میں خوف کی علامت بنتا چلا جا رہا ہے۔ گزشتہ دور میں جب حادثہ ہوتا تھا تو وزیر ریلوے سے استعفے کا مطالبہ کیا جاتا تھا۔اب بھی شیخ رشید سے استعفے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔

میرے خیال میں سیاسی طور پر شاید ایسا کرنا درست ہے، لیکن عملاًاس سے زمینی حقایق تبدیل نہیں ہوں گے۔ مسئلہ وزیر صاحب کا نہیں ہے، ایشو تبدیلی کا بھی نہیں ہے کہ وزیر صاحب استعفیٰ دے دیں تو معاملات بھی تبدیل ہو جا ئیں گے۔ ایشو کا رکردگی کا ہے، معاملات میں بہتری لانے کا ہے اور وہ تبدیلی وزیر کی وزارت تبدیل کرنے سے آنے والی نہیں ہے۔ ایشو محکمہ جاتی کا رکردگی بہتر بنانے کا ہے،جو ہماری ترجیحات میں شامل نہیں ہے۔

ہماری تمام تر توجہ جاری معاملات پر مرکوز ہے، ہم سیاست سیاست کھیلنے میں مصروف ہیں ہر طرف سیاست ہی سیاست ہو رہی ہے۔ حکومت بھی فائر فایٹنگ میں الجھی ہوئی ہے۔ سب سے بڑی آگ معیشت کو لگی ہوئی ہے عالمی قرضوں کا بوجھ تقریباً ناقابل ِ برداشت ہو چکا ہے، قرضوں کی قسط ادا کرنے کے لئے بھی حکومت کو مزید قرض لینا پڑ رہا ہے۔ آئی ایم ایف حکومت کے سر پر سوار ہے۔وہ ہمیں قرضہ دیتا رہا ہے اور اب بھی دے رہا ہے، لیکن اس کی شرائط ہمارے عوام کے اعصاب پرسوار ہیں، قرض دینے والا اپنی رقم کی واپسی کو یقینی بنانے پر توجہ مرکوز رکھتا، اِس لئے وہ قرض دار پر اپنی شرائط نافذ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وصولیوں کے بلند اہداف کو پورا کرنے کے لئے ٹیکسوں کی وصولی، بلند شرح کے ساتھ یقینی بنانا ضروری قرار پاتا ہے،جس کے باعث عوام پر یشان ہیں،مشکلات کا شکار ہیں، لیکن حکومت مجبور دکھائی دیتی ہے، کیونکہ اس نے 5550 ارب روپے کے محصولات اکٹھے کرنے ہیں۔ آئی ایم ایف حکومت کے سر پر سوار ہے اور ٹیکس وصولیاں عوام کے سر پر۔

دوسری طرف فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ہے، جس نے پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھا ہوا ہے، ٹاسک فورس نے ہمارے نظام کی کمزوریوں کی ایک لسٹ نکال کر ہمارے سامنے رکھی ہوئی ہے اور ہمیں کہا گیا ہے کہ ان کمزوریوں کو دور کریں، وگرنہ تمہیں بلیک لسٹ کردیا جائے گا۔ ہماری حکومت پاکستان کو بلیک لسٹ ہونے سے بچانے میں مصروف ہے۔ فائر فائیٹنگ کا کام کیا جا رہا ہے۔ تاجر ٹیکس وصولی نظام میں اصلاحات سے اتفاق نہیں کرتے،وہ ایک عرصے سے حکومت کے نئے ٹیکس نظام کو قبول کرنے سے ہچکچارہے تھے۔ حکومت کے ساتھ ان کے مذاکرات بھی ہوتے رہے۔ حکومت کو شاید یہ معلوم تھا کہ وہ جو کچھ کر رہی ہے، اس کے مثبت نہیں منفی نتائج نکل سکتے ہیں، لیکن 5550 ارب روپے کا ٹیکس اکٹھا کرنا بھی ضروری ہے۔ اسی کشمکش میں معاملات بگڑتے رہے ہیں۔ تاجروں کی دوروزہ ملک گیر ہڑتال نے حکومت کو جھکنے پر مجبور کر دیا۔ حکومت نے شناختی کا رڈ والی شرط کے نفاذ کو جنوری 2020ء تک موخر کر دیا ہے۔

حکومت مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں 1387 ارب کی وصولیوں کا ہدف حاصل نہیں کر سکی ۔ 4سہ ماہیوں کا مجموعی خسارہ کیسے پورا ہو گا؟ یہ ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ حکومت فائرفائیٹنگ میں مصروف ہے، کارکردگی دکھانے کی پوزیشن میں نظر نہیں آ رہی۔ دوسری طرف خیبر پختو نحوا اور پنجاب میں ڈینگی بے قابو نظر آ رہا ہے۔ ڈینگی وباکی شکل اختیار کر چکا ہے۔ موسم سرد ہو جانے کے باوجود ڈینگی کے حملوں میں کمی یا کمزوری نظر نہیں آرہی۔ صوبائی حکومتیں ڈینگی کے مقابلے میں کمزور اور بے بس نظر آتی ہیں۔ ڈاکٹر اور پیرامیڈیکس سٹاف ایک عرصے سے حکومتی پالیسیوں کے خلاف سراپا احتجاج تھے۔اب وہ لانگ بائیکاٹ کے راستے پر گامزن ہے۔گرینڈ ڈاکٹر ز الائنس کی اپیل پر ہسپتالوں کی اوپی ڈی اور وارڈیں بند کر دی گئی ہیں۔ حکومت ہاسپٹل مینجمنٹ کانیا نظام لانا چاہتی ہے،جو ڈاکٹروں کو کسی طور پربھی قبول نہیں، اِس لئے وہ ہڑتال پر چلے گئے ہیں۔

صوبہ سندھ کچرے کی سیاست پر چل رہا ہے۔ کراچی جو ہماری قومی معیشت کا مرکزومحور ہے۔ انتظامی مسائل کا شکارہے۔ وہاں کچرا چھایا ہوا ہے۔ یہ ایشوسیاسی نہیں ہے، بلکہ کارکردگی سے متعلق ہے۔ سیاست تو اس میں داخل ہوئی ہے،لیکن فی الاصل یہ ایک انتظامی معاملہ ہے، محکمانہ کارکردگی کا ایشوہے۔ ابھی تک یہ طے نہیں ہوا کہ کچرا اٹھانا کس محکمے کی ذمہ داری ہے کون شہر کی صفائی ستھرائی کا ذمہ دارہے،اُبلتے ہوئے گٹر،پھیلتا ہوا گندکس سرکاری محکمے کی ذمہ داری ہے؟ شہر کراچی پاکستان کی قومی معیشت میں ریڑ ھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں ہماری سب سے بڑی اکلوتی بندرگاہ ہے، جہاں ہماری بین الا قوامی تجارتی سرگرمیاں وقوع پذیر ہوتی ہیں۔ مجموعی ٹیکس کا نصف سے زائد کراچی سے اکٹھا ہوتا ہے۔

اکثر کمپنیو ں کے دفاتر اسی شہر میں واقع ہیں۔ سرمائے کی منڈی کے مراکز و محور بھی اسی شہر میں واقع ہیں۔ انشورنس کمپنیاں اور ان کے مرکزی دفاتر، بینکاری نظام کے اعصابی مراکز، زر کی منڈی اور معیشت کے دیگر اہم ادارے اسی شہر سے آپریٹ کرتے ہیں …… اس حوالے سے یہ شہر پاکستان کے کسی بھی دوسرے شہر سے زیادہ اہم ہے۔ہمارے موجودہ صدرِ مملکت اور صوبہ سندھ کے گورنر کا تعلق بھی اسی شہر سے ہے۔ کئی وفاقی وزراء بھی اسی شہر سے تعلق رکھتے ہیں، گویا شہر کراچی ہر لحاظ سے اہمیت کا حامل ہے، لیکن یہ ایک عرصے سے صفائی کے شدید بحران میں گھرا ہوا ہے۔ ہر طرف تعفن کا راج ہے، کسی بھی معقول انسان کے لئے یہ شہر نا قابل ِ رہائش ہوتا چلا جا رہا ہے۔یہ محکمانہ عدم کارکردگی کی روشن نہیں خوفناک مثال ہے۔حکومت فائر فائیٹنگ بھی کرتی نظر نہیں آرہی۔

اخباری اطلاعات کے مطابق سندھ میں ”ایڈز“وبا کی صورت اختیار کرتا چلا جا رہا ہے، اس کا مرکزو محور نوڈیرو ہے۔ ہمیں شاید اس بارے میں پتہ نہ چلتا، لیکن نو ڈیرو کے ایک مقامی صحافی کے بچے کو بخار ہوا اور وہ اس میں مسلسل مبتلا ہوا تو اسے پریشانی ہوئی۔ ہسپتال پہنچا تو پتہ چلا اس میں HIV وا ئرس پایا جاتا ہے،وہ بیچارہ انتہائی پریشان ہوا۔ شور شرا با کرنے کے بعد پتہ چلا کہ جس عطائی ڈاکٹر سے وہ بچے کے لئے دوائی وغیرہ لیتارہا ہے،اس کی سرنجوں کے ذریعے یہ وائرس بچے میں منتقل ہوا ہے، جب میڈیا میں شور مچا تو تحقیقات کے ذریعے پتہ چلاکہ درجنوں نہیں،سینکڑوں بچے اور بڑے اس عطائی ڈاکٹر کے ہاتھوں ایڈز جیسے مہلک مرض میں مبتلا ہو چکے ہیں،پھر ایک بین ا لا قوامی ادارے کے تعاون سے یہاں مہم چلائی گئی تو خوفناک حقائق سامنے آئے کہ یہاں ایڈز وائرس پھیل چکا ہے جس کا مرکز وہ عطائی ڈاکٹر ہے جو علاقے میں لوگوں کو طبی سہولیات / خدمات فراہم کرتا ہے۔ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ دراصل وہ کون شخص ہے جو ایڈز کا مریض تھا،

جس کے باعث یہ مرض باقی لوگوں تک استعمال شدہ سرنجوں کی وجہ سے پہنچا۔محکمانہ عدم کارکردگی کی خوفناک مثال حکومت ِ سندھ ہو یا پنجاب اور خیبر پختونخوا، معاملہ عدم کا رکردگی کا نظر آ رہا ہے۔ محکمانہ کا رکردگی، ڈلیوری، کہیں نظر نہیں آرہی، ہم اگر گہری نظر سے دیکھیں تو ایسا لگتا ہے کہ عوامی خدمات سے متعلق معاملات، بہت پستی کا شکار ہوچکے ہیں،محکمانہ کا رکردگی کہیں نظر نہیں آتی، حالات بگاڑ سے نکل کر پستی اور مجرمانہ غفلت کی عکاسی کر رہے ہیں۔ معاملہ سابقہ حکمرانوں پر ڈال کر موجودہ حکمران اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش نہیں ہوسکتے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ایک دوسرے پر الزام تراشیوں سے آگے بڑھیں اور اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برأ ہونے کی سنجیدہ کاوشیں کریں۔کہیں معاملات حد سے آگے نہ نکل جائیں اور پھر کف ِ افسوس ملنے کے سواکوئی اور چارہ نہ رہے۔

مزید : رائے /کالم


loading...