دو بیانیے اور چشم دیدگواہ!

دو بیانیے اور چشم دیدگواہ!
دو بیانیے اور چشم دیدگواہ!

  



جب سے پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا نے آنکھ کھولی ہے،ہر اہم مسئلے کے دو بیانیے قوم کے سامنے رکھ دیئے جاتے ہیں تاکہ بھگوان بھی ناراض نہ ہو اور رحمان بھی راضی رہے۔ گزشتہ ایک عشرے سے ہر پانچ سال بعد الیکشن ہورہے ہیں۔ ایک پارٹی اکثریت حاصل کرتی ہے اور دوسری اقلیت سے دوچار ہوتی ہے۔ سمجھا جاتا ہے کہ اکثریت حق پر ہے اس لئے فتح یاب ہوئی ہے اور اقلیت چونکہ کم حق پرست تھی اس لئے ہار گئی ہے۔یہ کوئی نئی بات نہیں، ابتدائے آفرینش سے یزداں اور اہرمن (نیکی اور بدی) موجود ہیں۔ دونوں کی باہمی کشمکش کتنی بھی طویل ہو جیت ہمیشہ یزداں (نیکی) کی ہوتی ہے۔ اسلام کی آمد کے بعد ایران کا یہ زرتشتی تصور، یزداں و اہرمن کی تقسیم سے نکل کر حق و باطل بن گیا! حق کو رحمان کا نام دیا گیا اور باطل نے شیطان نام پایا۔ حقیقت یہی ہے کہ دونوں ازل سے ایک دوسرے کے ساتھ ستیزہ کار رہے ہیں اور ابد تک رہیں گے۔ عصرِ حاضر کے میڈیا نے اسی تصور سے کیو (Cue) لیا ہے۔ جمہوری نظام کی دو پارٹیوں نے اکثریت اور اقلیت کا نام پایا ہے۔ چنانچہ اکثریت ہمیشہ حکمرانی کرتی ہے اور اقلیت ہمیشہ اس کی مخالفت کرتی ہے۔ یہ اکثریت و اقلیت گویا خیر و شر کی دو صورتیں ہیں۔ دورِ شاہی میں بھی شاہ اور غلام کا وجود ناگزیر تھا کہ غلام نہ ہو تو شاہی کس پر کی جائے؟ کاروبارِ حکمرانی میں ایک کو حاکم ہونا ہوتا ہے اور دوسرے کو محکوم۔ آمرانہ طرزِ حکمرانی میں بھی ایک کا آمر اور دوسرے کا نوکر ہونا شرط ہے۔ یہ آجر اور اجیر دونوں فطری حقیقتیں ہیں۔ میاں بیوی کے رشتے میں بھی ایک کا سکہ دوسرے پر چلتا ہے۔ محلے کا نمبردار، گاؤں کا چودھری، شہر کا کوتوال، صوبے کا حاکم اعلیٰ اور ملک کا بادشاہ / صدر/ وزیراعظم وغیرہ صرف مختلف نام ہیں، ان کے کام وہی ہیں جو یزداں اور اہرمن کے دور میں تھے۔

میں نے سطور بالا میں عرض کیا ہے کہ عصرِ حاضر میں میڈیا نے اسی تصور سے کیو (Cue) لے کر ایک نیا طریقہء کاروبارِ حکمرانی رائج کیا ہے۔ اس نئے طریقے میں حاکم کو سر پر نہیں بٹھایا جاتا اور محکوم کو بالکل ہی کنڈم نہیں کیا جاتا۔ وجہ یہ ہے کہ جب جمہوری طرزِ حکومت میں، حکمرانی نے باریاں لینی ہیں تو بہترین راہِ عمل یہی ہے کہ رحمان کو بھی راضی رکھا جائے اور بھگوان کو بھی ناراض نہ کیا جائے کہ آج کا بھگوان کل کا رحمان یا آج کا رحمان کل کا بھگوان بن سکتا ہے تو مستقل دوستیاں اور مستقل دشمنیاں نہ پالی جائیں۔ عشق و محبت کی روائتی دنیا میں بھی عاشق اور رقیب کی باہمی دشمنی گویا چولی دامن کا ساتھ شمار ہوتی رہی ہے۔ کسی عاشق کو (موبائل کی ایجاد سے قبل) اگر اس کی محبوبہ اپنے کسی خط میں کسی غیر کفو کا سلام لکھ بھیجتی تھی تو عاشق فوراً یہ یقین کر لیتا تھا کہ ہو نہ ہو یہ ’نیا سلام‘ کسی رقیب ہی کا ہو سکتا ہے۔ وہ یہ باور کرنے کو تیار نہیں تھا کہ یہ ”نیا نام“ جس کا سلام خط میں لکھا گیا ہے، وہ اس کی محبوبہ کا کوئی سگا بھانجا یا بھتیجا بھی ہو سکتا ہے جس سے ’عاشقِ زار‘ کو قطعاً کوئی خطرہ نہیں ہو سکتا…… یہ روائتی کاروبارِ عشق و عاشقی اور داستانِ الفت و رقابت نہ جانے کتنے برسوں سے چل رہی تھی لیکن مرورِ ایام سے آخر تھک ہار کے عاشقِ صادق نے درمیان کی ایک ”جمہوری راہ“ نکال لی۔ اعتدال کی اس راہ میں عاشق نے بآوازِ بلند اقرار کر لیا کہ:

تم جانو تم کو غیر سے جو رسم و راہ ہو

ہم کو بھی پوچھتے رہو تو کیا گناہ ہو

یعنی اب وہ الفت و رقابت کی شدت پسندی ختم ہو گئی۔ عاشق نے اعتدال کا راستہ اختیار کیا اور علی الاعلان تسلیم کر لیا کہ اے محترمہ! جس کے ساتھ چاہو گھومو پھرو اور رنگ رلیاں مناؤ۔تاہم اگر کبھی کبھی ہمیں بھی ”گھاس“ ڈال لیا کرو تو اس میں کیا مضائقہ ہے؟

ہمارا میڈیا آج کل اسی روش پر گامزن ہے۔ وہ دونوں فریقوں کو یکساں Treat کرتا ہے۔ یقین نہ آئے تو اس کی 24گھنٹے کی نشریات کا تجزیہ کرکے دیکھ لیں۔ کسی ایک ٹاک شو میں حکمران کے قصیدے پڑھے جائیں گے تو اس سے اگلے ٹاک شو میں اسی حکمران کی ہجو میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دیئے جائیں گے…… مدح و ذم کے اس جدید کانسپٹ (Concept) کو عصرِ موجود کے شاعروں نے بھی بہ طیبِ خاطر تسلیم کر لیا اور صورتِ حال کی عکاسی یوں کی:

دن کو ہم ان سے بگڑتے ہیں وہ شب کو ہم سے

رسمِ پابندیء اوقات چلی آتی ہے

اما بعد تفنن برطرف…… لیاقت پور میں ٹرین کے حادثے کی بات کرتے ہیں۔جب یہ حادثہ رونما ہوا تھا (31اکتوبر صبح چار بجے) تو اس کے دو گھنٹے بعد ہی یہی اوپر بیان کردہ دوغلا کھیل شروع ہو گیا تھا۔ الیکٹرانک میڈیا کے سارے چینل آج کل اپنے مفادات کے پیش نظر دو کیمپوں میں تقسیم ہیں۔ ایک کو آپ پروگورنمنٹ اور دوسرے کو اینٹی گورنمنٹ کہہ سکتے ہیں۔ (لیکن دونوں پروسیلف ہیں!)یہ اس لئے ہوا ہے کہ سیاستدان دو طبقات میں منقسم ہیں۔ اور یہ بھی کوئی نئی یا بُری بات نہیں۔ ایسا ہونا ایک فطری تقاضا بھی ہے۔ لیکن بعض واقعات و حادثات مقتضی ہوتے ہیں کہ دونوں کیمپ ایک ہو جائیں۔ گو ایسا شاذ ہی ہوتا ہے مگر ہوتا ضرور ہے۔ انہی حادثات میں لیاقت پور کا ٹرین کا یہ حادثہ بھی تھا۔ لیکن اندازہ کیجئے کہ جونہی یہ خبر آئی کہ ریل (تیزگام) کی تین بوگیاں جل کر خاکستر ہو گئی ہیں اور درجنوں مسافر جل کر ہلاک ہو گئے اور درجنوں زخمی ہو کر نزع کے عالم میں گرفتار ہیں تو میڈیا کے وہ چینل کہ جن کو غیر جانبداری کا دعویٰ رہتا ہے، وہ بھی دوغلے پن کا شکار ہونے سے باز نہ رہ سکے……

ایک کیمپ کا بیانیہ ہے کہ یہ آگ ایک گیس سلنڈر پھٹنے سے لگی اور دیکھتے ہی دیکھتے تیز ہوا کے جھونکوں کی وجہ سے تین بوگیوں تک پھیل گئی اور جب ان بوگیوں کو ڈی لنک (De-Link) کیا گیا تو تب تک سب کچھ جل کر بھسم ہو چکا تھا…… دوسرے کیمپ کا بیانیہ تھا کہ آگ کسی سلنڈر کے پھٹنے سے نہیں بلکہ سلیپر کے ایک پنکھے میں شارٹ سرکٹ کی وجہ سے بھڑکی اور پھر اس حادثہء”جانکاہ کی شکل میں جا منتج ہوئی…… ہمارا میڈیا ان دونوں کیمپوں کی یکساں کوریج کرتا رہا اور ناظرین و سامعین پریشان ہوتے رہے کہ کون سا بیانیہ درست اور کون سا غلط ہے…… آیئے ان دونوں بیانیوں کا ٹیکٹیکل تجزیہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں …… پہلے یہ بیانیہ سامنے رکھتے ہیں کہ یہ حادثہ سلنڈر پھٹنے کی وجہ سے پیش آیا۔ اس بیانیے کی سپورٹ میں درج ذیل دلائل دیئے جا سکتے ہیں:

1۔ تبلیغی جماعت والے ہمیشہ ہفتے دس دن کا خشک راشن ساتھ لے کر چلتے ہیں۔ اس راشن کے علاوہ ان کے ساتھ ہفتے بھر کے کپڑے، بستر اور ایک عدد لوٹا بھی ہوتا ہے۔ حیدرآباد سے روانگی کے وقت تبلیغی جماعت والے تمام مسافروں کے سلنڈر چیک کرنا ممکن نہ تھا۔ ویسے بھی سلنڈر آج کل جس دھات سے بنائے جاتے ہیں وہ کوئی معیاری دھات نہیں ہوتی۔ اس لئے سلنڈر کا پھٹنا عین ممکنات میں سے ہے۔ جس وقت یہ حادثہ پیش آیا، صبح کے چار ساڑھے چار بج رہے تھے۔ پانچ بجے صبح کی اذان ہو جاتی ہے۔ اس لئے عین ممکن ہے کہ رائے ونڈ جانے والے مسافروں نے نماز فجر سے پہلے ناشتہ کرکے نماز پڑھنے کا پروگرام بنایا ہو اور اس دوران کوئی سلنڈر پھٹ گیا ہو۔

2۔ لیکن سلنڈر سے پھٹنے کی آواز تو دبائی نہیں جا سکتی، ہاہا کار مچ جانی چاہیے تھی۔ آگ لگنا تو حقیقت تھی کہ سلنڈر جلتی ہوئی آگ کے دوران ہی پھٹا ہو گا۔ لیکن اس پھٹے ہوئے سلنڈر کے ٹکڑے میڈیا کو نہیں دکھائے گئے۔ جو ایک دو سلنڈر دکھائے گئے، وہ پنکچرشدہ لگتے تھے، پھٹے ہوئے نہیں تھے۔ لہٰذا حادثے کی وجہ سلنڈر کا پھٹنا ایک بعید از قیاس امکان کہا جا رہا ہے۔ لیکن اس بیانیے کا ایک سیاسی پہلو بھی ہے جو یہ ہے کہ اگر سلنڈر پھٹنے کی وجہ سے حادثہ پیش آیا تو اس کی ذمہ داری کسی انفرادی مسافر پر عائد ہوتی ہے، محکمہ ریلوے کی کسی غفلت پر نہیں۔

اس حادثے کا دوسرا امکان یہ بیان کیا جاتا ہے کہ آگ سلیپرز کے ایک پنکھے کے شارٹ سرکٹ ہونے کی وجہ سے لگی۔ اس امکان کے قبول یا رد ہونے کے سلسلے میں درج ذیل نکات قابل غور ہیں:

1۔ ایک سے زیادہ مسافر اس بات کے چشم دید گواہ ہیں کہ یہ آگ سلیپر والی بوگی کے ایک پنکھے کے شارٹ سرکٹ ہونے کی وجہ سے لگی۔ کئی مسافر میڈیا پر آکر یہ بیان کر رہے تھے کہ یہ حادثہ حکومت (ریلوے) کی کوتاہی اور لاپرواہی کی وجہ سے پیش آیا۔ ریلوے والوں نے بوگیوں کے پنکھوں کی وائرنگ چیک نہیں کی تھی اور ان کی یہی غفلت حادثے کا سبب بنی۔ لیکن اس استدلال کو یہ بات سپورٹ نہیں کر رہی کہ یہ چشم دید گواہ بار بار حکومت کو ذمہ دار ٹھہرا رہے تھے جس سے یہ تاثر ملتا تھا کہ یہ لوگ اپوزیشن کے کیمپ والے ہیں ……

2۔اور مزید یہ کہ اگر انہوں نے دیکھ لیا تھا کہ کوئی پنکھا سپارک (Spark) کر رہا ہے تو اس کی اطلاع فوری طور پر ٹرین گارڈ کو کیوں نہ دی۔

3۔اور تیسری وجہ اس آپشن کو رد کرنے کی یہ ہے کہ اگر وہ چشم دید گواہ تھے تو لامحالہ اسی بوگی میں موجود ہوں گے جو آتش زدگی کی زد میں آئی۔ اگر ایسا تھا تو وہ خود کس طرح بچ گئے؟…… ان کو تو خراش تک نہ آئی جبکہ ان کی بوگی جل کر خاکستر ہو گئی!

بعض حلقے یہ دلیل بھی دیتے ہیں کہ جب سے شیخ رشید نے ریلوے کا محکمہ سنبھالا ہے یکے بعد دیگرے کئی حادثے رونما ہو رہے ہیں۔ بعض چینلوں پر ان حادثات کی تعداد 80بتائی جا رہی ہے۔ اس لئے کہا جا رہاہے کہ ان پر لازم ہے کہ مستعفی ہو جائیں۔ اس کے بعد اس حادثے کی جوڈیشل انکوائری کروائی جائے جس کے سربراہ ہائی کورٹ کے ایک حاضر سروس جج ہوں۔ اس انکوائری میں اگر شیخ رشید بے قصور پائے جائیں تو ان کو دوبارہ یہ قلمدان سونپ دیا جائے اور اگر ان کے محکمے کی طرف سے کسی لاپرواہی کا ارتکاب سامنے آئے تو شیخ صاحب کو یہ ذمہ داری قبول کر لینی چاہیے۔

اس حادثے کے یہ دو بیانیے وہی خیر و شر والے بیانیے ہیں جن کا ذکر کالم کی ابتدائی سطور میں کیا گیا۔ اگر اس کی کوئی انکوائری کروا بھی لی جائے تو پھر بھی عوامی تاثر بٹا رہے گا۔ بظاہر میڈیا، دونوں بیانیوں کو ساتھ ساتھ چلاتا رہا ہے اور چونکہ پاکستانی عوام کی سیاست دو طبقات میں بٹ چکی ہے اس لئے اس حادثے کی وجہ کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو سکتا۔ سارا پاکستان جس سیاسی تقسیم کا شکار ہے اس کے ہم سب چشم دید گواہ ہیں۔ لیاقت پور میں تیز گام کا یہ حادثہ اس حادثے کے سامنے پرِکاہ بھی نہیں جس سے 22کروڑ پاکستانی دوچار ہیں۔ کیا ہمارے لئے آزادی مارچ کا ڈرامہ چشم کشا نہیں؟…… لیکن اس مارچ سے ایک نیا پنڈورہ باکس کھل جائے گا اس لئے بقول چودھری شجاعت ”مٹی پاؤ“۔

مزید : رائے /کالم


loading...