”قومی ویمن کرکٹ ٹیم کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک“

”قومی ویمن کرکٹ ٹیم کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک“
 ”قومی ویمن کرکٹ ٹیم کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک“

  



آج کل بنگلہ دیش کی ویمن کرکٹ ٹیم پاکستان کے دورے پر ہے۔سری لنکا کی قومی ٹیم کے دورے کے فوری بعد بنگلہ دیش کی ویمن کرکٹ ٹیم کا پاکستان آنا ایک خوش آئند بات ہے۔بلکہ اس کو پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کے ریوائیول کا ایک حصہ قرار دیا جائے تو یہ بالکل درست ہو گا۔دنیا کو اب یہ پیغام جانا شروع ہو گیا ہے کہ پاکستان اب کھیلوں کے حوالے سے ایک محفوظ ملک ہے۔ان کامیاب دوروں کے بعد پی ایس ایل کو مزید کامیاب بنانے میں بھی خاصی مدد مل سکتی ہے۔بنگلہ دیش کی خواتین کرکٹ ٹیم تین ٹی 20 میچوں کی سیریز میں وائٹ واش کی خفت سے دوچار ہو چکی ہے جو نہایت شاندار طریقے سے کھیلے گئے اور آج سے دو ایک روزہ میچوں کی سیریز کا آغاز ہونے جا رہا ہے لیکن اگر پی سی بی تھوڑی سی اور ہمت کا مظاہرہ کرتا تو اس کو اور شاندار بنایا جا سکتا تھا۔

پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان یہ مقابلے بین الاقوامی درجہ رکھتے ہیں۔دنیا کی کسی بھی ٹیم کا دورہ کھلاڑیوں میں ایک نئی روح پھونکتا ہے لیکن اس دورے کی تشہیر اس انداز میں نہ کی گئی جو کہ انٹرنیشنل مقابلوں کی شان ہونی چاہیے تھی۔اب اس کی وجہ سکیورٹی خدشات بھی ہو سکتے ہیں اوراسے پی سی بی کی کنجوسی بھی کہہ سکتے ہیں ویسے تو ہمارا بورڈ شاہ خرچیوں میں اپنی مثال آپ ہے جس کو نوازنے پر آتا ہے خوب نوازتا ہے۔اس سلسلے میں کس کس کا ذکر کیا جائے اب مصباح الحق کو دیکھ لیں ان کو کوچ کی تنخواہ دی جارہی ہے اور چیف سلیکٹر کی بھی،اس کو بھی تو نوازنا کہہ سکتے ہیں اور بھی کئی لوگ ہیں جو شاید اتنا کام نہیں کر رہے جتنا ان کو ادائیگیاں کی جا رہی ہیں اگر تھوڑے سے پیسے مزید ان بچیوں پر خرچ کر دیئے جاتے تو کوئی برائی کی بات نہیں تھی۔

ایک ایسا ملک جس کی قومی کرکٹ ٹیم پاکستان آکر کھیلنے کو تیار نہیں اس ملک کی قومی ویمن ٹیم کا پاکستان آنا کوئی بڑی اہمیت کا حامل ہے۔اب یہ ٹیم وطن واپس جا کر جو اچھا پیغام دے گی وہ مستقبل میں بنگلہ دیش کے پاکستان میں آکر کھیلنے میں مدد گار ہو سکتا ہے کیونکہ مرد خواتین کی بات کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔میری اس بارے میں پی سی بی کے کچھ ذمہ داروں سے بات ہوئی تو ان کا کہنا تھا کہ اس سے بہتر اور کیا کیا جا سکتا تھاان لڑکیوں کو تو ہم مرید کے اور دیگر گراؤنڈز میں کھلاتے ہیں آج ْقذافی سٹیڈیم ان کے حوالے ہے اور کیا چاہیے یہ بڑا عجیب جواب تھا۔ لاہور میں کئی بڑے کالجز اور تعلیمی ادارے خواتین کی کرکٹ کھیل رہے ہیں بلکہ قومی ٹیم میں ان اداروں کی کئی لڑکیاں کھیل رہی ہیں ان کالجز کو مدعو کیا جاتا تو سٹیڈیم کافی حد تک بھر سکتا تھا صرف ایک سٹینڈ میں چند بچوں کو بٹھا کر میچ دکھانا صرف اور صرف نا اہلی ہے،اب یہ کس کی ذمہ داری تھی اس کا مجھے تو علم نہیں۔

پاکستان میں خواتین کھلاڑیوں کا خاصا پو ٹینشل موجود ہے اور مستقبل میں اچھے کھلاڑی میسر آسکتے ہیں لیکن یہ تب ہو گا جب ہم اس طرح کے دوروں کا بھر پور فائدہ اٹھائیں۔کتنے دکھ کی بات ہے کہ ہمارے ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ ہو رہی ہو اور ہمارا قومی ٹی وی سو رہا ہو پی ٹی وی نے ان میچز کو ٹیلی کاسٹ کیوں نہیں کیا، یہ لمحہ فکریہ ہے۔ہمیں اپنی ویمن ٹیم کو پاکستان میں کھیلتے ہوئے دیکھنے کے موقع ملتے ہی کہاں ہیں جب تک ہم ان لڑکیوں کو ایک اچھے ماحول میں کھیلتے ہوئے نہیں دکھائیں گے تو کس طرح ہم مستقبل کے لیے اچھے کھلاڑی تلاش کر سکیں گے۔

لڑکیوں میں کرکٹ کا شوق ابھارنے کے لیے ان مقابلوں کو دکھانا ضروری تھا،میچ کے اختتام پر پر یس کانفرنس میں،میں نے جب قومی ٹیم کی کپتان سے یہ سوال کیا کہ ان میچز کو جو کہ انٹرنیشنل کا درجہ رکھتے ہیں پی ٹی وی پر نہیں دکھایا جا رہا آپ کیا کہیں گی؟تو ویمن کپتان نے کہا کہ یہ بڑے دکھ بلکہ شرم کی بات ہے یہ میچز ٹی وی پر نہیں دکھائے جا رہے۔ہمارا خیال تھا کہ مقابلے ٹی وی پر دکھائے جائیں گے جس سے لڑکیوں میں اس کھیل کے حوالے سے شوق پیدا ہو گا۔

لیکن کیا کریں پی ٹی وی نے تو اپنے قومی کھیل کو بھی دکھانا ضروری نہ سمجھا۔ہالینڈ میں اولمپک کوالیفائنگ میچز بھی ہم نے ٹین سپورٹس پر دیکھے۔پی ٹی وی خواب خرگوش میں مبتلا رہا پھر کہتے ہیں ہاکی تباہ ہو رہی ہے۔یہ میچ قومی ٹی وی نے کیوں نہ دکھائے ہم میں سے کسی کی جرات نہیں کہ یہ سوال ہم ڈاکٹر نعمان سے کر سکیں۔ابھی ویمن ٹیم کا دورہ جاری ہے کوشش کریں کہ بقیہ میچز ٹیلی کاسٹ کیئے جائیں اس کے لیے اگر کچھ رقم خرچ کرنی بھی پڑجائے تو ہمارا بورڈ اس قابل ہے کہ وہ یہ کام کر سکتا ہے۔

ہماری ویمن ٹیم نے ماضی میں اچھی پرفارمنس دی ہے یہ ایشیا کی چیمپئن بھی ہے لہٰذا یہ ان کا حق بنتا ہے اور یہ ویمن کرکٹ کے لیے بھی بہتر ہو گا۔اور سعدیہ اقبال جیسی باصلاحیت لڑکیاں قومی ٹیم کا حصہ بن سکیں گی۔لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ ویمن کرکٹ کو چھوٹے شہروں تک پہنچایا جائے اور اس کا مو ثر ذریعہ ٹی وی ہی ہے۔

مزید : رائے /کالم


loading...