ادویات قیمتوں میں 309فیصد اضافہ ‘ غریبوں کی سانسیں بند کرنیکا منصوبہ

ادویات قیمتوں میں 309فیصد اضافہ ‘ غریبوں کی سانسیں بند کرنیکا منصوبہ

  



کوٹ ادو(تحصیل رپورٹر) تبدےلی سرکار کے 14ماہ کے دوران ادوےات کی قےمتوں مےں307فی صد تک اضافہ، وزارت صحت و ڈرگ رےگولےٹری اتھارٹی کی ملی بھگت سے عوام کو اربوں روپے کا ٹےکہ لگا دےا گےا، ادوےات کی قےمتوں مےں 307فےصد ہونے والا اضافہ مشےر صحت مرزا محمد ظفر کے وعدے کے مطابق اب تک واپس نہ آ سکا، ادوےات ساز کمپنوں نے صرف 9فےصد اضافہ واپس لےا ہے، تفصیل کے مطابق دسمبر 2018 میں حکومت نے ادویات کی قیمتوں میں 20سے25 فیصد اضافہ کی اجازت دی تھی(بقیہ نمبر35صفحہ12پر )

اور 859 ادویات کی قیمتیں بڑھانے کی اجازت دی 464 ادویات 10 سے 15 فیصد جبکہ 395 ادویات کو بھی 25 فیصد اضافہ کی اجازت کے لیے دو علیحدہ ایس آر او جاری کیے گئے لیکن ادویات ساز کمپنیوں نے 20 سے 25 فیصد اضافہ کی بجائے6 ماہ کے دوران 300 فیصد اضافہ کرکے روزانہ کی بنیاد پر ادویات استعمال کرنے والے لاکھوں مریضوں کی کمر توڑ کر رکھ دی، شوگر، قلب، ٹی بی امراض نسواں کی ادویات کے ساتھ ساتھ بچوں کے بخار اور اینٹی بائیوٹک ادویات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کردیا،گزشتہ 3ماہ قبل وزیراعظم عمران خان نے ادویات کی قیمتوں کا فوری نوٹس لیا تھا اور قیمتیں واپس دسمبر 2018 کی سطح پر برقرار رکھنے کا حکم دیا تھااور وزیر صحت عامر کیانی کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیاتھا اور مشیر صحت مرزا ظفر کی تقرری کی گئی تھی جنہوں نے” ٹی وی پروگرام“ پر قوم سے وعدہ کیا تھاکہ وہ دواﺅں کی قیمتوں میں 75 فیصد تک کمی لائیں گے،مگر 14 ماہ گزرنے کے باوجود ادویات کی قیمتوں میں کمپنیوں نے صرف 9 فیصد تک کمی کی اور سابقہ ایس آر او منسوخ کرنے کی بجائے نئے ایس آر او نمبر577 جاری کرکے ادویات کی قیمتوں میں اضافے کو کمپنیوں کی ملی بھگت سے تحفظ فراہم کر دیا گیا اور اسی طرح عوام سے حکومت ہاتھ کر گئی اور اربوں روپے کے عوام کو ٹیکہ لگادیا گیا، اب دوبارہ کمپنیوں نے ادویات کی قیمتوں میں اسی ماہ 5 سے7 فیصد مزید اضافہ کرکے عوام کو مہنگائی کے منہ میں دھکیل دیا ہے جس سے ادویات عوام کی پہنچ سے دور ہو گئی ہیں،جن ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کیاگیا ہے ان میںبلڈ پریشر کی کی دواٹنورمین 25 ملی گرام 66 روپے سے 86 روپے، ٹنورمین50ملی گرام86 روپے سے105روپے جبکہ ٹنورمین100ملی گرام 135روپے سے 160روپے، انڈرال گولی 10ملی گرام کی ڈبی 66روپے سے83روپے، فلیجل گولی کا ڈبہ315 روپے سے 408 روپے، مٹیلیم شربت 50 روپے سے 104 روپے، ریجکس گولی 5 روپے سے 6 روپے،ا موڈیم کیپسول کا ڈبہ 193 روپے سے235روپے، ٹرائی فورج 186 روپے سے510 روپے اور سیفن انجکشن 672 روپے سے 853 روپے، سربکس زیڈ کی ڈبی 108 روپے سے 209 روپے، گلوکوفیج کا ڈبہ 84 روپے سے 96 روپے اور دیگر متعدد دوائیوں کی قیمتوں میں اضافہ کردیا گیا جس کی وجہ سے سینکڑوں مریض زندگی کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ دیسی ادویات ساز کمپنیوں نے انگریزی ادویات کی دیکھا دیکھی بھی قیمتوں میں اضافہ کردیا،وگورین 80روپے سے 90روپے، توت سیاہ چھوٹا شربت 55 روپے سے 65 روپے بڑا80روپے سے 90 روپے، عرق شیریں 70 پیسے80 روپے،عرق گلاب 25 سے 35 روپے، بڑا 35 روپے سے 40 روپے، نونہال60 روپے سے 70روپے، لال شربت 80روپے سے90 روپے کا کردیا گیا ہے جبکہ بجلی گیس کہ بلو ں اور پٹرولیم مصنوعات کےآئے روز قیمتوں میں اضافہ سے عوام کی زندگی اجیرن بن کر رہ گئی ہے، رہی سہی کسر ادویات نے پوری کر دی ہے، واضح رہے کہ پاکستان میں 600 سے زائد فارما سیوٹیکل کمپنیاں ہیں جو کہ 250 ارب روپے کا سالانہ بزنس کرتی ہیں جبکہ60 ہزار سے زائد ادویات رجسٹرڈ ہو چکی ہے جو کہ دنیا میں ایک ریکارڈ ہے, یہ واحد بزنس ہے جہاں نقصان کا تصور نہیں ہے ادویات پاکستان میں ہمسایہ ممالک بھارت, بنگلہ دیش, سری لگا, نیپال کے نسبت زیادہ مہنگے ہیں, روزانہ کی بنیاد پر ادویات استعمال کرنے والے لاکھوں مریض ادویات مہنگا ہونے کے باعث پریشان ہیں, انہوں نے وزیراعظم عمران خان, چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ ,چیئرمین نیب جاوید اقبال سے مطالبہ کیا کہ ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کے مرتکب افراد کے خلاف کارروائی کرکے ادویات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی جائے ۔

اضافہ

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...