ٹیکس دہندگان سے زیادہ ریونیو حاصل کرنیکی پالیسی ملکی مفاد کیخلاف ہے‘ میاں زاہد حسین

    ٹیکس دہندگان سے زیادہ ریونیو حاصل کرنیکی پالیسی ملکی مفاد کیخلاف ہے‘ ...

  



ملتان(نیوز رپورٹر)پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م کے صدر اوربزنس مین پینل کے سینئر وائس چیئر مین میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ کاروباری سرگرمیوں میں مسلسل کمی کے باوجودموجودہ ٹیکس دھندہ طبقے سے زیادہ سے زیادہ (بقیہ نمبر19صفحہ12پر)

ریونیوحاصل کرنے کی پالیسی ملکی مفادات کے خلاف ہے۔ ٹیکس آمدنی بڑھانے کیلئے موجودہ ٹیکس دہندگان پر ضرورت سے زیادہ فوکس سے سرمایہ کار بد دل ہورہے ہیں اور اسکا نتیجہ ملک سے سرمائے کے فرارمیں تیزی کی صورت میں نکل سکتا ہے جو ملکی معیشت کے لئے نقصان دہ ہو گا۔ میاں زاہد حسین نے بز نس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ چھوٹے تاجروں کے عدم تعاون کی وجہ سے ٹیکس ہدف کا حصول نا ممکن ہے۔جب معیشت ترقی نہیں کر رہی بلکہ سکڑکر5.8سے3فیصدپر آگئی ہے توکاروباری برادری پر زیادتی سے محاصل نہیں بڑھائے جا سکتے۔ڈیمانڈ کم کرنے کی پالیسی سے مقامی صنعت و کاروبار متاثر ہوئے ہیں اور درآمدات بھی 10ارب ڈالرکم ہوئی ہیں جس سے تجارتی خسارہ کم ہوا ہے مگر اس سے ایف بی آر کے ٹیکس ہدف کا حصول ناممکن ہو گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان نے 60 کی دہائی میں جو حیران کن ترقی کی تھی اس میں بنیادی کردار مقامی سرمایہ کاروں نے ادا کیا تھا اور اب دوبارہ بھی تاریخ کو دہرایا جا سکتا ہے اس لئے دیگر ممالک سے سرمایہ کاری کی درخواستیں کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے سرمایہ کاروں پر اعتماد کیا جائے اور انکے لئے کاروباری ماحول کو سازگار بنایا جائے۔ پاکستان کے مسائل غیر ملکی سرمایہ کار نہیں بلکہ مقامی بزنس مین ہی حل کر سکتے ہیں کیونکہ انکا جینا مرنا یہاں ہے جبکہ غیر ملکی سرمایہ کار کو منافع کے علاوہ کسی چیز میں کوئی دلچسپی نہیں ہو تی لہٰذا بیرونی کے ساتھ مقامی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کی پالیسی بنائی جائے اور اس سلسلہ میں اولین ترجیح زراعت سے وابستہ صنعتوں اور ہائی ٹیک صنعتکاری کے عمل کو دی جائے تاکہ محاصل اور روزگار بڑھایا جا سکے۔سالہا سال تک ایسی غلط پالیسیاں بنائی گئی ہیں جس کے نتیجہ میں سرمایہ کاروں نے صنعتی عمل کے مقابلہ میں پراپرٹی، سٹے بازی اور ٹریڈنگ کو ترجیح دینا شروع کر دی جس سے ملکی معیشت کو بڑا نقصان پہنچا ہے۔

ریونیو

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...