تاجروں سے معاہدہ حکومتی گھبراہٹ  کا نتیجہ، جسٹس وجیہہ الدین

  تاجروں سے معاہدہ حکومتی گھبراہٹ  کا نتیجہ، جسٹس وجیہہ الدین

  



کراچی(این این آئی) عام لوگ اتحاد کے چیئرمین جسٹس (ر) وجیہ الدین نے تاجروں سے کیا جانے والا معاہدہ حکومت کی گھبراہٹ کا نتیجہ قرار دیدیا۔ وجیہ الدین احمد نے ایک بیان میں کہا کہ حکومت اور تاجروں کے درمیان معاہدہ غیر حقیقی اور غیر فطری ہے۔ حکومت نے ایسی مراعات دی ہیں جن کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ ایک ہزار مربع فٹ رقبے (50X20 فٹ) کی دکان کو مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہزار مربع فٹ رقبے تک کی دکان سیلز ٹیکس سے اگر مستثنیٰ ہوگی تو پھر کتنی دکانیں سیلز ٹیکس کیلئے بچیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کا خون چوسنے والے آڑھتیوں کو بھی لائسنس وغیرہ دینے کی بازگشت ہے۔ یہ بھی واضح نہیں ہے کہ جو تاجر سیلز ٹیکس بلاواسطہ وصول کرتا ہے وہ ایف بی آر کو پہنچے گا یا نہیں۔ جبکہ اس حوالے سے ایف بی آر کے احکامات یہ تھے کہ جیسے ہی کسی دکان، سْپر اسٹور، ہوٹل یا ریسٹورنٹ پر سیلز ٹیکس وصول ہوگا وہ اسی وقت ایک نظام کے تحت ایف بی آر کو منتقل کر دیا جائے گا۔ اور خریدار کو دی جانے والی رسید سے بھی اس کی تصدیق ہو سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی عجیب و غریب معاہدہ ہے۔ حکومت جو اس وقت آزادی مارچ کے نرغے میں ہے، نے شاید یہ معاہدہ حالتِ مجبوری میں کیا ہے۔ مجھے اس بات کا یقین ہے کہ ملک، مہنگائی سے چھٹکارے اور غریب کے خاتمے کیلئے تاجر برادری سے ہونے والے اس معاہدے کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔ بلکہ بڑے بڑے چوہدری، خوانین، وڈیرے اور ملک صاحبان جو ہزاروں ایکڑ زمینوں کے مالک ہیں، ان پر بھی کپیسٹی ٹیکس لگایا جائے گا، تاکہ ملک کے حالات کو بہتر کیا جائے۔

جسٹس وجیہہ

مزید : صفحہ آخر


loading...