سینیٹ مواصلات ذیلی کمیٹی ٹول پلازہ فیس میں اضافے پر برہم، تفصیلات طلب

  سینیٹ مواصلات ذیلی کمیٹی ٹول پلازہ فیس میں اضافے پر برہم، تفصیلات طلب

  



اسلام آباد(آئی این پی)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کی ذیلی کمیٹی نے  ملک بھر میں ٹول پلازہ فیس میں اضافے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے تمام تفصیلات طلب کر لیں۔کمیٹی  کو آگاہ کیا گیا کہ گزشتہ5سال میں ٹول پلازوں سے89ارب روپے ریونیو اکٹھا کیا گیا۔ذیلی کمیٹی نیگزشتہ3سالوں میں ملک بھر میں شاہراوں کی  مرمت  کا ریکارڈ بھی طلب کر لیا۔گزشتہ روزذیلی کمیٹی کا اجلاس کنونیئر کمیٹی سینیٹر فدا محمد کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا۔ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹرز ڈاکٹر اشوک کماراور میر محمد یوسف بادینی کے علاوہ وزارت مواصلات اور این ایچ اے حکام نے شرکت کی۔ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں سانحہ تیز گام ایکسپریس میں جاں بحق ہونے والوں کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی۔ ذیلی کمیٹی سینئر جوائنٹ سیکرٹر ی وزارت مواصلات اور این ایچ اے حکام نے تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ پورے ملک میں ہائی ویز کے کل 76پلازے ہیں جن میں سے پنجاب میں 36،سندھ25،کے پی کے میں 8 اور بلوچستان میں 7واقع ہیں۔ذیلی کمیٹی نے بلوچستان میں قائم پلازوں اور ٹھیکداروں کی تفصیلات طلب کر لیں۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ بلوچستان میں زیادہ تر فنکشنل نہیں ہیں۔ سینیٹر ڈاکٹر اشوک کمار نے کہا کہ دبئی مسجد والا پلازہ کتنے عرصے سے کس ٹھیکدار کے پاس ہے اس سے کتنی آمدن حاصل ہوئی اور این ایل سی کے پاس کتنے ٹول پلازے ہیں اور کب سے ہیں۔ گزشتہ تین سالوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔ ذیلی کمیٹی کو بتایا گیا کہ ملک میں 64موٹر وے انٹر چینجز ہیں،ٹول پلازوں اور انٹر چینجز سے 2013-14میں 13.9ارب،2014-15میں 16ارب،2015-16میں 17ارب،2017-18میں 19ارب اور مالی سال2018-19میں 23ارب کی آمدن حاصل ہوئی۔ ذیلی کمیٹی کو بتایا گیا کہ لاہور اسلام آباد موٹروے کی مرمت پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت ہوتی ہیں۔انجینئرز سے تخمینہ بنتے ہیں اس کیلئے این ایچ اے کے طے شدہ ریٹس ہیں۔پیپرا رولز کے مطابق سب سے کم بیڈرز کو دینا ہوتے ہیں۔ اراکین کمیٹی نے کہا کہ کام کا معیار چیک کرنا وزارت اور متعلقہ ادارے کا کام ہے۔ معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے۔ سینیٹر ڈاکٹر اشوک کمار نے کہا کہ صوبہ بلوچستان میں سٹرکوں کی حالت انتہائی خراب ہے۔ این 40اہم شاہراہ ہے مگر اس کی حالت بہت خراب ہے یہ پاک ایران اہم روٹ ہے۔سینیٹر ڈاکٹر اشوک کمار کے سوال کے جواب میں کمیٹی کو بتایا گیا کہ ایم نائن بی اوٹی کے تحت بنا ہے۔11سال بعد آمدن ہوگی تین سالہ مرمتی مدت بھی ہے۔ کنونیئر کمیٹی فدا محمد نے کہا کہ لاہور موٹر وے جی ٹی روڈ سے2012سے اب تک کتنی آمدن حاصل ہوئی اور اس پر کتنا خرچ کیا گیا جو ٹھیکے دیئے گئے کیا وہ پیپرا رولز کے مطابق تھے آئندہ اجلاس میں اس کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔

سینیٹ کمیٹی

مزید : صفحہ آخر


loading...