مسائل کا حل، آئی ایم ایف، ورلڈ بنک نہیں، قرآن و سنت کے نفاذ میں ہے: سراج الحق

      مسائل کا حل، آئی ایم ایف، ورلڈ بنک نہیں، قرآن و سنت کے نفاذ میں ہے: سراج ...

  



لاہور (این این آئی)امیرجماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ مہنگائی سمیت ہمارے مسائل کا حل آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک نہیں قرآن و سنت کے نفاذ میں ہے، سودی نظام سے نجات کے بغیر معیشت بحال اور ملک وقوم ترقی نہیں کرسکتی کیونکہ خزانہ کا بڑا حصہ سود کی صورت میں قرض کی ادائیگی میں چلا جاتا ہے، پاکستان ایک نظریہ کی بنیاد پر قائم ہوا تھا مگر 72 سال میں ایک دن بھی اس نظریہ پر عمل نہیں ہوا۔ آج ملک میں سب سے زیادہ پریشان تاجرہیں جنہوں نے اپنے اتحاد واحتجاج سے متکبر حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا۔جماعت اسلامی تاجر برادری کے ساتھ ہے ہر فورم پر آپ کا مقدمہ لڑیں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے حیدرآباد چیمبرز آف کامرس کے استقبالیہ اور حیدر کے ارکان کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر مرکزی نائب امیر اسداللہ بھٹوایڈووکیٹ،امیر جماعت اسلامی سندھ محمد حسین محنتی، ممتاز سہتوچیمبرز آف کامرس کے صدر حاجی شاکر گلشن الٰہی ودیگر تاجر رہنما بھی موجود تھے۔قبل ازیں سینیٹر سراج الحق کا حیدر آباد پہنچنے پر تاجربرادری نے فیقد المثال استقبال کیا اورانہیں سندھ کاروایتی تحفہ ٹوپی اور اجرک پیش کیا۔ اس موقع پر تیزگام ٹرین حادثہ میں شہیدوں کے لیے فاتحہ خوانی اور زخمیوں کی صحتیابی کی دعا کی گئی۔سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ حکومت تاجروں کے مسائل کے حل کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کرے،ملکی معیشت اور عوام کی فلاح و بہبود میں ان کا بڑا ہاتھ ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں غربت و مہنگائی کے خاتمے کے لیے ملک میں عشر و زکواۃ کے نظام کو نافذ کیا جائے۔ اسلام کے نام پر حاصل کئے گئے ملک میں 72 سالوں سے ایک دن بھی اسلام کو نافذ نہیں کیا گیا۔ آج مہنگائی بیروزگاری دراصل حکومتی نااہلی کا نتیجہ ہے۔ عوام ایسے ظالم حکمرانوں کواپنی گردنوں پر سوار کرنے کی دوبارہ غلطی نہ کریں۔دریں اثنا سراج الحق نے حیدر آباد کے کارکنان سے خطاب میں کہا کہ آج ملک میں سیاسی و معاشی استحصال اورجمہوریت کے نام پرسیاسی دہشتگردی ہے۔ ملک میں جمہوریت کے نام پر بدترین شخصی آمریت مسلط ہے۔ظلم و جبر پر مبنی نظام ایک آمریت کے سائے تلے سانس لے رہا ہے یہی وجہ ہے کہ ملک میں افراتفری اور ادارے ناکام ہیں۔اس نظام میں انصاف نظر نہیں آتا۔ یہ وہ پاکستان نہیں جس کو قائداعظم نے بنایا اور علامہ اقبال نے جس کا خواب دیکھا تھا۔یہاں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا نظام چل رہا ہے۔ تبدیلی کے نام پر قوم کے ساتھ دھوکہ کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ میڈیا کے ذریعے ایک ماحول بناکر نا اہل لوگوں کو افلاطون بناکر پیش کیا گیا جس کا خمیازہ قوم مہنگائی بیروزگاری اور سیاسی انتشارکی صورت میں بھگت رہے ہیں۔

 سراج الحق

مزید : صفحہ آخر


loading...