سموگ نے ایک بار پر سراٹھا لیا، شہریوں کو طبی مسائل کا سامنا، سرکاری حکام خاموش

سموگ نے ایک بار پر سراٹھا لیا، شہریوں کو طبی مسائل کا سامنا، سرکاری حکام ...

  



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) زہریلی گیسوں کے مجموعہ سموگ نے لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں ایک بار پھر سر اٹھا لیا، شہریوں کو  صحت کے مسائل کا سامنا ہے جبکہ سرکاری حکام نے خاموشی اختیار کرلی،بارشیں نہ ہونے کی صورت میں پانچ نومبر کے بعد سموگ کی شدت میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔تفصیلات کے مطابق صوبائی دارالحکومت سمیت مختلف شہروں میں سموگ کی آمد کے ساتھ ہی آنکھوں میں جلن اور سانس لینے میں دقت جیسی شکایات پیدا ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ماہرین کے مطابق انڈسٹری کا پھیلاؤ، گاڑیوں کی تعداد میں بے تحاشہ اضافہ اور فصلوں کی باقیات کو آگ لگانا سموگ کی وجوہات ہیں اور انہیں عوامل کے ساتھ جب موسمیاتی تبدیلیاں شامل ہوتی ہیں تو صورت حال مزید سنگین ہو جاتی ہے۔ غیر ملکی اداروں کی رپورٹ کے مطابق لاہور کے بعض علاقوں میں فضائی آلودگی کا تناسب 4 سو مائیکروگرام فی کیوبک میٹر تک پہنچ چکا ہے تو دوسری طرف متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ سوائے واہگہ ٹاؤن کے لاہور کے کسی علاقے میں آلودگی کا تناسب 190 مائیکروگرام فی کیوبک میٹر نہیں ہے۔واہگہ ٹاؤن میں یہ تناسب 340 تک ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ صورت حال میں بہتری کیلئے مسلسل اقدامات اْٹھائے جا رہے ہیں۔ طبی ماہرین کی طرف سے سموگ کی بڑھتی صورتحال کے پیش نظر شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ گھروں کے دروازے کھڑکیاں بند رکھیں اور ماسک کا استعمال کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ سموگ کے عفریت پر قابو پانے کیلئے عوامی سطح پر شعور کی بیداری کیلئے خصوصی مہم چلانے کی بھی ضرورت ہے۔

سموگ

مزید : صفحہ اول


loading...