بجٹ سمیت اہم امور پر صوبائی حکومتوں کیساتھ بات چیت کا سلسلہ جاری: عبد الحفیظ شیخ

بجٹ سمیت اہم امور پر صوبائی حکومتوں کیساتھ بات چیت کا سلسلہ جاری: عبد الحفیظ ...

  



 اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے کہا ہے کہ مالی و بجٹ انتظام و انصرام، ٹیکس کی متنوع شرح اور مداخل(ان پٹ)کی ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق، ہم آہنگی اوررابطہ کاری میں بہتری کیلئے وفاقی اورصوبائی حکومتوں کے درمیان مسلسل مذاکرات اورمکالمہ جاری ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز فنانس ڈویژن میں آئی ایم ایف پروگرام کے تحت صوبوں میں مالیاتی پالیسیوں کے اطلاق کے حوالہ سے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ پاکستان کے دورے پر آئے آئی ایم ایف مشن کے سربراہ رامیریزریگوارنسٹو، پنجاب کے وزیر خزانہ مخدوم ہاشم جوان بخت، پختونخواکے وزیرخزانہ تیمور سلیم خان جھگڑا، بلوچستان کے وزیر خزانہ ظہور احمد بلیدی، سیکرٹری خزانہ نوید کامران بلوچ، سپیشل سیکرٹری خزانہ حکومت سندھ باقر نقوی، وزارت خزانہ کے سینئر حکام اور آئی ایم ایف کے مقامی حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ ٹیکسوں میں یکسانیت اور ہم آہنگی اور دیگر مالیاتی امورکو آئینی دائرہ کار کے اندر اتفاق رائے اور مشاورت سے حل کرنا ایک مشکل عمل ہے تاہم مرکز اور صوبوں کے درمیان مسلسل مکالمے اوررابطہ کاری سے بجٹ اوراخراجات کے انتظام وانصرام کو بہتر بنایا گیا ہے، اسی طرح سروس اور ٹیکس کی شرح کی تعریف سے متعلق مسائل کو بھی باہمی اتفاق رائے سے حل کیا گیا۔پنجاب، خیبرپختونخوا، بلوچستان اور سندھ کے حکام نے بھی آئی ایم ایف مشن کے سربراہ کو متعلقہ صوبوں بارے اپنے تجربات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے مشن کے سربراہ کو بہتر بجٹ اورمالی پالیسیوں میں استحکام کیلئے اٹھائے جانے والے اقدامات اورحکمت عملی سے بھی آگاہ کیا۔ آئی ایم ایف مشن کے سربراہ رامیریزریگوارنسٹونے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ کے دائرہ کارمیں رہتے ہوئے اخراجات، مالیاتی انتظام وانصرام اوربحالی کیلئے اقدامات قابل تعریف ہیں تاہم انہوں نے ترقیاتی بجٹ کے مطلوبہ اہداف کو حاصل کرنے کی ضرورت پرزوردیا۔انہوں نے ٹیکس نظام میں یکسانیت اورواحد ٹیکس بنیاد کے قیام کی اہمیت کو بھی اجاگرکیا اورکہا کہ اس کے نتیجہ میں کاروبارکیلئے ماحول میں بہتری آئے گی جبکہ تاجروں اورسرمایہ کاروں کا اعتمادبھی بحال ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت مغربی یورپ کی طرح ایک بڑی معیشت ہے، مغربی یورپ میں ہر فردکیلئے ٹیکس کی تعریف و تشریح اور شرح یکساں ہے، پاکستان میں صوبوں میں دو یا تین ٹیکس مقتدرہ کی بجائے یکساں ٹیکس شرح اور ٹیکس ایڈمنسٹریشن کا حصول ممکن ہے۔ انہوں نے اس حوالہ سے مرکز اورصوبوں کے درمیان ہم آہنگی اور رابطہ کاری کو سراہا اوراس میں اضافہ کی ضرورت پرزوردیا۔

عبدالحفیظ شیخ

مزید : صفحہ اول


loading...