جمہوریت کا پرچار کرنے والے دھرنا دے کر حکومت گرانے کے درپے ہیں: فردوس عاشق

جمہوریت کا پرچار کرنے والے دھرنا دے کر حکومت گرانے کے درپے ہیں: فردوس عاشق

  



اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) وزیر اعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ جمہوریت کا پرچار کرنے والے اب دھرنے کے ذریعے حکومت گرانے کے درپے ہیں،اپوزیشن کے احتجاج کا مقصد حکومت کو عوام کی خدمت سے روکنا ہے،فضل الرحمن کی نظر اسلام سے زیادہ اسلام آباد کے22 نمبر بنگلے پر ہے، دنیا میں کرپشن کے خلاف احتجاج ہوتا ہے اور پاکستان میں کرپشن کے تحفظ کیلئے احتجاج ہورہا ہے،مولانا فضل الرحمان کو فائیو سٹار سہولتیں فراہم کی ہیں، ہم خوف زدہ ہوتے تو مولانا صاحب کو یہ سہولتیں کیسے دیتے، جمعرات کو ایک سیاسی نابالغ بچے نے کہا کہ ڈیڑھ سال میں عوام کو تباہ کردیا گیا جبکہ اصل میں ان باری لینے والوں نے عوام کو70 سال تک کوئی کام نہیں کیا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے عدالتی حکم پر اسلام آباد کی ضلع کچہری کا دورہ کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کی ہدایت پر ایف ایٹ کچہری کا دورہ کیا ہے اور میری سیاسی زندگی میں پہلا موقع ہے کہ کچہریوں کا دورہ کیا جبکہ میری سیاسی زندگی میں مجھ پر کوئی ایف آئی آر یا کیس نہیں بنا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بدقسمتی سے وفاقی دارالحکومت میں قائم ضلعی عدالتیں زبوں حالی کا شکار ہیں اور ضلع کچہری میں سائلین کیلئے کوئی سہولیات یسر نہیں ہیں اور یہ صورتحال ہم سب کیلئے لمحہ فکریہ اور چشم کشا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت بار کے صدر کو یقین دلاتی ہوں کہ میں حکومت کے سامنے ان کی ترجمان بنوں گی۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ میں تحریک انصاف کی واضح اکثریت نہیں ہے اور عوامی مسائل کے حل کیلئے مجبوراً آرڈیننس جاری کرنا پڑرہے ہیں۔بعدازاں آزادی مارچ میں شہباز شریف کے خطاب پر ردعمل دیتے ہوئے ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ جنرل جیلانی کی پیوندکاری سے اداروں کی حمایت کے شکوے باعث تعجب ہیں۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک بیان میں معاون خصوصی اطلاعات و نشریات نے کہا کہ شہباز صاحب! جس قدر اس ملک کے نظام اور اداروں نے آپ کی حمایت کی اس کی نظیر نہیں ملتی،مگر آپ نے ہمیشہ ان کی پیٹھ پر چھرا گھونپا اور قومی مفاد کے منافی عمل کیا۔مودی سے پگڑیاں تبدیل کیں اور جندال کو مری کی سیر کروائی۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ اب آپ ملک کو سیاسی عدم و استحکام سے دوچار کرنے کی گھنانی سازش کر رہے ہیں،عمران خان اور آپ میں فرق یہ ہے کہ آپ اپنی ذات، دھن اور اولاد سے آگے نہیں دیکھ سکتے۔ عمران خان پاکستان کا سچا سپوت اور قوم کا قابل فخر ہیرو ہے،وہ پاکستان کی آنے والی نسلوں کے مستقبل کی فکر کرتا ہے،اپنے بچوں کیلئے نہیں قوم کے بچوں کیلئے سوچتا ہے،وہ ماضی کے حکمرانوں کے برعکس اپنی جیبیں بھرنے کی بجائے قومی خزانہ بھر رہا ہے۔ٹویٹر پر ایک اور بیان میں ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ آزادی مارچ کی انتظامیہ کی جانب سے خواتین اینکرز اور رپورٹرز کو کوریج کی اجازت نہ دے کر پتھر کے زمانے کی یاد تازہ کر دی۔انہوں نے کہا کہ جمہوریت کا لبادہ اوڑھے انتہاء پسندانہ ذہنیت نے خواتین پر مشتمل پاکستان کی نصف سے زائد آبادی کے حقوق پر کاری ضرب لگا ئی۔انہوں نے کہاکہ جمہوریت کے نام لیوا جمہوری اصولوں کی نفی کر رہے ہیں، فضل الرحمان کے یہ اقدامات قائد کے پاکستان کے اصولوں کے منافی ہے، جمہوری روایات اور آئینی حقوق کو روندنے کے مترادف ہے۔

فردوس عاشق اعوان

پشاور(این این آئی) وزیراطلاعات خیبرپختونخوا شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان اس وقت سے ڈرے جب عمران خان اپنے نوجوانوں کو نکلنے کی کال دیں گے،پندرہ لاکھ لوگ لانے کا دعویٰ کرنے والے 90 ہزار سے زیادہ لوگ نہ لا سکے، مودی کوخوش کرنا اورہندوستان کامقصدپوراکرنا مولانا کامشن ہے۔ہم جب دھرنہ دینے اسلام آبادجارہے تھے تو تاریخی شیلنگ کی گئی، قومی اسمبلی میں ایک سیٹ 12 ووٹوں سے جیتنے والا اسفندیار ولی بھی وزیر اعظم کا استعفیٰ مانگ رہے ہیں۔پشاورمیں خیبرپختونخواحکومت کے ترجمان اجمل وزیرکے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شوکت یوسفزئی کاکہنا تھا کہ آزادی مارچ کے حوالے سے کل کسی کو پتہ نہیں چلا کہ اپوزیشن جماعتیں اسلام آباد گئے ہیں یا نہیں،ہم جب دھرنہ دینے اسلام آبادجارہے تھے توریلی پر تاریخی شیلنگ کی گئی،خواتین کی سیاست کی بات کرنے والے خواتین پر پابندی لگارہے ہیں ان کا رویہ غیر ذمہ دارانہ ہے، خواتین اسمبلیوں میں بیٹھ سکتی ہیں تو جلسے میں کیوں نہیں، شوکت یوسفزئی کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی میں ایک سیٹ 12 ووٹوں سے جیتنے والا اسفندیار ولی بھی وزیر اعظم کا استعفیٰ مانگ رہے ہیں،اپوزیشن کو مینڈیٹ ملا ہی نہیں مولانا کو پارلیمنٹ سے باہر ہونے کا دکھ ہے، شوکت یوسفزئی کا کہنا تھاکہ جمہوریت نہیں مانتے تو منافقت کیوں کررہے ہیں، مودی کو خوش کرنا اور ہندوستان کا مقصد پورا کرنا مولانا کا مشن ہے۔ وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ اگرقانون کو ہاتھ میں لیا گیا، معاہدہ توڑا گیا تو سخت ایکشن لیا جائے گاپندرہ لاکھ لوگ لانے کا دعویٰ کرنے والے 90 ہزار سے زیادہ لوگ لا نہ سکے، کراچی سے مفت ٹرانسپورٹ انجوائے کرنے والے لاہور تک ساتھ آکر واپس چلے گئے، ایک لاکھ افراد لاکر کوئی سسٹم جام نہیں کرسکتا،صوبائی وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی کا کہنا تھا کہ مولانا کی دھمکیوں کی مذمت کرتا ہوں مولانا ڈریں اس وقت سے جب عمران خان اپنے نوجوانوں کو نکلنے کی کال دیں گے، قوم نے مولانا کا ایجنڈا مسترد کردیا ہے، شوکت یوسفزئی کا کہناتھا کہ وزیر اعظم کے استعفے کا سوال پیدا نہیں ہوتا حکومت چلتی رہے گی مولانا فضل الرحمن کومزید چار سال انتظار کریں کرنی ہوگی۔وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ عمران خان نے پہلے ہی کہا تھا کہ اپوزیشن میرے خلاف اکھٹی ہوگی ہم نے دھرنا دینے سے قبل الیکشن ٹریبونل اور سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھااسفندیار ولی، آفتاب شیرپاؤ اور مولانا کو ان کے حلقوں کے عوام نے مسترد کیا، ایک سوال کے جواب میں شوکت یوسفزئی کاکہنا تھا کہ کیا مہنگائی عمران خان لیکر آئے؟کیاوزیر اعظم کے استعفے سے مہنگائی کم ہو جائے گی؟ اخر میں شوکت یوسفزئی کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان منافق نہیں ہے، ان کے لوگوں کے بارے میں الفاظ نہیں بدلیں گے مولانا نے کشمیر اور تبلیغی اجتماع سے بھی عوام کی توجہ ہٹادی۔

شوکت یوسفزئی

مزید : صفحہ اول


loading...