وزیراعظم کل تک استعفا دیں ، عوام کا سمند ر انہیں گھر کے اندر سے گرفتار کرنے کی طاقت رکھتا ہے ، مولانا فضل الرحمن عوام کٹھ پتلی حکومت کو نہیں مانتے ہر پاکستانی کا ایک ہی نعرہ”گو نیا زی گو “ بلاول بھٹو، جادو ٹونے سے چلائی جانیوالی جعلی حکومت سے جان چھڑانے کا وقت آگیا : شہبا ز شریف

    وزیراعظم کل تک استعفا دیں ، عوام کا سمند ر انہیں گھر کے اندر سے گرفتار ...

  



اسلام آباد (سٹاف رپورٹر ، مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں)جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے وزیر اعظم کو مستعفی ہونے کےلئے دو دن کی مہلت دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان کے عوام کا سمندر اس بات کی قدرت رکھتا ہے کہ وزیراعظم کوان کے گھر کے اندر جاکر گرفتار کرلیں،کسی ادارے کے ساتھ تصادم نہیں چاہتے ،پاکستان پر حکومت کرنے کا حق عوام کا ہے ،کسی ادارے کا پاکستان پر مسلط ہونے کا کوئی حق حاصل نہیں،ہمیں کہا جاتا ہے سرحد پر تناﺅ ہے آزادی مارچ نہ کریں دوسری طرف راہداری کھول بھارت کے ساتھ دوستی کی پینگیں بڑھائی جارہی ہیں ،کوئی مائی لعل مستقبل میں پاکستان کی سر زمین پر ناموس رسالت کو چھیڑ نہیںسکے گا، ہمیں مذہب کارڈ استعمال کر نے کا کہا جاتاہے ،ہم آئین کے مطابق بات کرتے ہیں ، پاکستان اور اسلام ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوسکتے ،میں میڈیا کے ساتھ کھڑا ہوں ، میڈیا سے پابندی فوراً اٹھا لیں اگر نہیں اٹھائیں گے تو ہم بھی کسی پابندی کے پابند نہیں ہونگے،آپ کہتے ہیں نوازشریف اور کرپٹ ہے ،آپ کی پوری پارٹی فارن فنڈکھا گئی ، پورا ٹبر چور ہے ،ہم پر امن ہیں اور ہمارے پرامن ہونے کااحترام کیا جائے ،رحیم یار خان میں ٹرین حادثہ کی اعلیٰ سطحی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے،رہبر کمیٹی موجود ہے ،مشاورت کے ساتھ تجاویز طے کی جائیں گی ۔ جمعہ کو آزادی مارچ کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ یہ قومی اجتماع ہے ان کے جذبے اور ولولے کو سلام پیش کرتا ہوں ۔انہوںنے کہاکہ ہمار ے اجتماع میں تمام سیاسی قائدین موجود ہیں ،تمام جماعتوں کے قائدین کو خوش آمدید بھی کہتا ہوں ۔ انہوںنے کہاکہ تمام جماعتوں کا باہمی یکجہتی کا فیصلہ درحقیقت قومی یکجہتی کااظہار کیا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ ہمارا مطالبہ کسی ایک تنظیم یا ایک جماعت کا نہیں پوری قوم کا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ یہ سنجیدہ اجتماع ہے ،پوری دنیا سنجیدگی سے لے ۔ انہوںنے کہاکہ ہم فیصلہ کررہے ہیں ،ہم اس ملک میں انصاف پر مبنی نظام چاہتے ہیں ،جو عوام کی مرضی سے ہو ۔ انہوںنے کہاکہ یہ ربیع الاول کا مہینہ ہے ، رحمت کا مہینہ ہے ،اس کی نسبت رسول کے میلاد کی طرف ہے ، اس مہینے کو احترام کے نظریئے سے دیکھا جاتا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ ہم اجتماع کررہے ہیں اور اللہ کی طرف سے رحمت برس رہی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ یہ اجتماع کتنا مبارک وقت میں ہورہا ہے ۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ جب ہم نے دیکھا کہ یہاں ناموس رسالت کی توہین اور عقیدت ختم نبوت کے خلاف سازشیں کر نے والے میدان میں اتررہے ہیں تو کہنا چاہتاہوں ربیع الاول اور ناموس رسالت کا دفاع کےلئے مبارک اجتماع ہے ۔ انہوںنے کہاکہ ہم اس وقت پوری قوم کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کئے ہوئے ہیں ،مطالبہ ایک ہی ہے کہ 25جولائی کے الیکشن فراڈ الیکشن تھے ،وہ بد ترین دھاندلی کا شکار ہوئے تھے ،نہ نتائج کو تسلیم کر تے ہیں نہ حکومت کوتسلیم کرتے ہیں۔مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ ایک ہی فیصلہ کر نا ہے کہ اس حکومت کو جانا ہے ،ایک سال کی مہلت بہت مہلت ہے، مزید اس حکومت کو مہلت دینے کےلئے تیار نہیں ۔انہوںنے کہاکہ یہ قوم آزادی چاہتی ہے اس ملک میں نا اہلی کے نتیجے میں معیشت تباہ ہوگئی ہے جس ریاست کی معیشت بیٹھ جائے وہ ریاست اپنا وجود برقرار نہیں رکھتی ۔ انہوںنے کہاکہ اگر سویت یونین کا اپنا وجود برقرار نہیں رہا تو پاکستان بھی اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتا ہے۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان کے نا اہل حکمرانوں کو اعتراف کر تے ہوئے ریاست کی حاکمیت سے دستبر دار ہو جانا چاہیے ۔انہوںنے کہاکہ کشمیر کو بیچ دیا ہے ،کہتے ہیں ہم کشمیر کی بات کررہے ہیں ،ہمیں کہا گیا کہ آزادی مارچ نہ کریں ،ایل او سی کے اوپر بھارت اور پاکستان کے بیچ بڑی ٹیشن ہے، سرحد کے حالات پیچیدہ ہیں ،ہم نے کہا یہ ایک عجیب بات ہے ،کشمیرکی سرحد پر تناﺅ ہے جس کی وجہ سے جلسہ نہیں کر نا چاہیے لیکن دوسری طرف کر تار پورراہداری کھولنے کےلئے دوستی کی پینگیں بڑھائی جارہی ہیں ،ایک طرف کہتے ہیںٹینشن ہے او دوسری دوسرا درازہ کھولنے کےلئے بھارت کے ساتھ دوستی کی پینگیں بڑھا ئی جارہی ہیں۔ انہوںنے کہاکہ آج کشمیریوں کو تنہام چھوڑ دیا گیا ہے ،کشمیریوں کو حکمرانوں نے مودی کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ آج کا اجتماع تمام سیاسی جماعتوں کا اجتماع ہے ، یہ ایک آواز کےساتھ اعلان کرتا ہے حکومت کی پرواہ کئے بغیر عوام کشمیریوں کی جنگ لڑیں گے، ان کی حق خود ارادیت کی جنگ لڑیں گے اور کشمیری عوام کو کبھی بھی اپنے آپ کو تنہا محسوس نہیں کرینگے ۔انہوںنے کہاکہ ملکی معیشت تباہ ہوگئی ہے ،مہنگائی نے گھیرکر لیا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ غریب آدمی صبح شام کےلئے راشن خریدنے کےلئے قابل نہیں رہے ،غریب مائیں اپنے روز گار کےلئے اپنے بچوں کو بیچنے پر مجبور ہوگئی ہیں نو جوان خود کشیاں کر نے پر آگئے ہیں ،رکشے والا اپنے رکشے کو آگ لگا رہاہے ،چھوٹا دوکاندار اپنی دوکان کو برباد ہوتا دیکھ رہا ہے ۔انہوںنے کہاکہ عوام جس کرب میں مبتلا ہیں کیاقوم کو ہمیشہ کےلئے ان نا اہل حکمرانوں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیں ۔انہوںنے کہاکہ ان لوگوں کو اپنی قوم کے غریبوں ، مسکینوں ، مزدورں ، کسانوں ، نو جوانوں ، روز گار وں کےساتھ مزید کھیلنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے ۔انہوںنے کہاکہ پچاس لاکھ گھر بنا کر دینگے ،پچاس لاکھ گھر بنانا تو دور کی بات ہے ،پچاس لاکھ سے زیادہ گرا چکے ہیں۔انہوںنے کہاکہ ان نا اہل حکمرانوں نے لوگوں کو بے گھر کر دیا گیا ہے، غریبوں کے روزانہ انٹرویو دیکھ رہے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ کہا گیا کہ ایک کروڑ نوکریاں دی جائیں گی، ایک کروڑ تو دو ر کی بات ہے ،بیس سے پچیس لاکھ بے روز گار ہو گیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ یہ بھی کہا تھا کہ پاکستان میں خوشحالی آئے گی ، لوگ باہر آئیں گے ،باہر سے دو بندے آئے ہیں ان میں ایک اسٹیٹ بینک کا گور نر اور ایف بی آر کا چیئر مین ہے ،ان دوکے علاوہ کوئی نہیں ہے اور وہ بھی آئی ایم ایف نے بھیجے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ جب پاکستان کی معیشت پر اس طرح کے سانپ بیٹھائے جائیں گے جو مغربی معیشت کو خوشحال بنائیں گے اور پاکستان کی معیشت کو ان کے آگے گروی رکھ دی گئیں ،ہم پاکستان کی غلام معیشت کو تسلیم نہیں کر تے ہیں اور جو پاکستان کی بنیاد بنی تھیں ۔ انہوںنے کہاکہ جب سٹیٹ بینک کا افتتاحی جلسہ ہورہاتھا ،قائد اعظم نے کہا تھا کہ مغربی معیشت نے سوائے جنگوں اور فسادات اور تباہیوں کے ہمیں کچھ نہیں دیا ،ہم مغربی معیشت کو تسلیم نہیں کر تے ہیں ،ہم قر آن و سنت کے مطابق معاشی نظام چاہیں گے قائد اعظم کی روح پوچھ رہی ہے کہاں وہ معیشت ہے ؟اور آپ نے میرے پاکستان کو غلام بنا دیا ہے ۔انہوںنے کہاکہ جس وقت پاکستان کی 1940میں قرارداد پاس ہورہی ہے قائد اعظم نے صرف پاکستان کا تصور پیش نہیں کیا تھا ،یہودی فلسطینیوں کی سر زمین پر بستیاں آباد کررہے تھے ،فلسطینیوں کی سر زمین پر یہودی بستیاں نا جائز ہیں ،ہم حقوق کی جنگ لڑیں گے ،یہ پاکستان کی پہلی تجویز ہے ،یہ پاکستان کے قائد اعظم کی کمٹمنٹ تھی ، پاکستان نے کہا ہم فلسطینیوں کےساتھ کھڑے رہیں گے۔ انہوںنے کہاکہ آج پھر اسرائیل کو تسلیم کرنے کی باتیں ہورہی ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ نیا پاکستان کس کا پاکستان ہے ؟کیوں پاکستا ن کے تصورات کو تبدیل کیا جارہاہے ،آپ کا اجتماع مبارکباد اجتماع ہے ،عوامی سیلاب اعلان کررہا ہے ،کوئی مائی لعل مستقبل میں پاکستان کی سر زمین پر ناموس رسالت کو چھیڑ نہیںسکے گا ، مستقبل میں کوئی آئین پاکستان میں ختم نبوت کے عقیدت کو نہیں چھیڑ سکے گا ۔انہوںنے کہاکہ ہمیں مذہبی کارڈ استعمال کر نے کا طعنہ دیا جاتا ہے ،مذہب کی آئین پاکستان تحفظ دیتا ہے ،میں آئین میں رہتے ہوئے مذہب کی بات کرتا ہوں ،میں آئین کی بات کرتا ہوں تم روکنے والے کون ہوتے ہیں ؟ آپ مغرب کی چاپالیسیوں ،وظیفہ خوری کےلئے پاکستان کو مذہب اسلام سے جدا نہیں کیا جاسکتا ،اسلام ہے تو پاکستان ہے ، پاکستان تو اسلام ہے ۔انہوںنے کہاکہ آج نو جوانوں کا مستقل تاریک ہے ،کہا جاتا ہے ہم کرپشن کے خلاف لڑ رہے ہیں ، کہاجاتا ہے ،نوازشریف کرپٹ ہے ، زر داری کرپٹ ہے ہم چوروں کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں ۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ چند روز قبل ورلڈ اکانومک فورم کی رپورٹ پڑھیں ، جس میں کہاگیاکہ ایک سال کے دور ان کرپشن کم ہونے کی بجائے ایک سے دو فیصد کرپشن میں اضافہ ہوگیا ہے ،تم نے کرپشن میں اضافہ کیا ہے ،تم چوروں کے چور ہو ۔انہوںنے کہاکہ یہ پورے ملک سے آنے والا آزادی مارچ ہے، میڈیا پر پابندی ہے تاکہ دنیا کو پاکستان کے عوام کے جذبات سے آگاہ نہ کر سکیں ۔ انہوںنے کہاکہ میں میڈیا کے ساتھ کھڑا ہوں میڈیا مالکان اور اینکرز پرسن سے اپیل کرتا ہوں کہ آپ کھل کر آزادی مارچ کا حصہ بنیں ،ہم پابندیوں کے فیصلوں کے خلاف بغاوت کرتے ہیں ۔انہوںنے مطالبہ کیا کہ میڈیا سے پابندی فوراً اٹھا لیں اگر نہیں اٹھائیں گے تو ہم بھی کسی پابندی کو نہیں مانیں گے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ یہ ہماری پر امن صلاحیتوں کا اظہار ہے ،ہم پر امن لوگ ہیں ،ہم چاہتے ہیں کہ امن کے دائرے میں رہیں ورنہ اسلام آباد کے اندر عوام کا سمندر یہ قدرت رکھتا ہے کہ وزیر اعظم کو ان کے گھر جا کر خود گرفتار کریں ۔انہوںنے کہاکہ عوام کا فیصلہ آچکا ہے ، اب اس حکومت کو جانا ہی جانا ہے ۔انہوںنے کہاکہ اداروں کے ساتھ بات کر ناچاہتاہوں ، ہم تصادم نہیں چاہتے ہیں،اداروں کا استحکام چاہتے ہیں اداروں کو طاقتور دیکھنا چاہتے ہیں ،ہم اداروں کو غیر جانبدار بھی دیکھنا چاہتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ ہم اگر محسوس کریں اس ناجائز حکومت کی پشت پر ادارے ہیں ، نا جائز حکمرانوں کا تحفظ ہمارے ادا ر ے کررہے ہیں تو پھر دو دن کی مہلت ہے پھر ہمیںنہ روکا جائے اداروں کے بارے میں ہم کیا رائے قائم کر تے ہیں۔انہوںنے کہاکہ آج میرے استاد کو سڑکوں کے اوپر گھسیٹا جاتا ہے ،معمار قوم کو اسلام آباد کی سڑکوں پر گھسیٹا جاتا ہے ،خواتین استانیوں کے چہرے پر تھپڑے مارے جارہے ہیں ،تھانوں میں تذلیل کی جارہی ہے ،جو قوم کو سنوارنے والے لوگ ہیں آج سزا پارہے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ پشاور کا وہ ڈاکٹر جو لوگوں کے زخم پر مرہم پٹی کرتا ہے آج خود ان کے زخم سے خون رس رہا ہے ،سڑک کو رنگین کررہاہے ،ہسپتالوں میں پڑا ہے ،جہاںیہ لو گ علاج کےلئے جاتے ہیں وہ خود زیر علاج ہیں ،یہ ملک اس لئے بنا تھا کہ وہ ڈاکٹر بھی غیر محفوظ ہو ، وکیل بھی رورہا ہے ، استاد بھی رورہا ہے، میڈیا کا کارکن بھی رو رہا ہے اس کرب سے قوم کو نکالنا ہے تو دو دن کی مہلت ہے تو استعفیٰ دیں ، ہم نے اس سے آگے فیصلے کر نے ہیں ،ہم امن کے ساتھ ہیں ،امن کا احترام کیا جائے ،قوم کے امن کا احترام کیا جائے ،سیاسی جماعتوں کے امن کا حترام کیا جائے ،مزید صبر و تحمل کا مظاہرہ نہیں کر سکتے ہیں ۔ اس موقع پر آزادی مارچ کے شرکاءنے ڈی چوک کی طرف سے جانے کےلئے آوازیں لگائیں تو مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ آپ کی آواز میں نے سن لی ہیں ، بلاول بھٹو زر داری ، محمود خان اچکزئی ، خواجہ محمد آصف ، اویس احمد نور انی ،احسن اقبال نے بھی سن لی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ نوازشریف اور آصف علی زر داری نے بھی سن لی ہے اور ہم جن کو سنانا چاہتے ہیں وہ بھی سن لیں ۔انہوںنے کہاکہ ہم یہ تین دن اس لئے دیئے ہیں کہ تین دن رسول نے بھی غار میں پناہ لی تھی اس موقع پر جے یو آئی کے رہنما سومرو نے کہا ایک دن گزر گیا ہے اور آنے والے دو ن مزید ہیں ۔مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ میں اپنے تمام اکابرین کا شکریہ ادا کرتا ہوں ، بلاول بھٹو زر داری ، اسفند یار ولی خان کا شکریہ ادا کرتا ہوں ، ڈاکٹر عبد المالک ، محمود خان اچکزئی ، آفتاب خان شیر پاﺅ ، اویس احمد نورانی ، مسلم لیگ (ن)کے رہنما بھی موجود ہیں ،پروفیسر ساجد میر ، نوازشریف ، آصف علی زر داری سمیت تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں ۔ انہوںنے کہاکہ جو ہماری سیاسی قیادت جیلوں میں ہے اللہ تعالیٰ ان کو صحت کاملہ عطا فرمائے ۔اس موقع پر مولانا فضل الرحمن نے آزادی مارچ کے شرکاءسے پوچھا کہ آ پ استعفے سے کم راضی ہو سکتے ہیں تو مجھے بتا دیں جس پر شرکاءنے گو نیازی گو کے نعرے لگائے ۔مولانافضل الرحمن نے کہاکہ ڈاکٹرز، اساتذہ ، تاجروں کے مطالبات مانیں جائیں اور حکومت اپنے فیصلے واپس لے ،انہوںنے کہاکہ زمیندار اور کسانوں کے مطالبے بھی تسلیم کئے جائیں ۔ انہوںنے کہاکہ ٹرین حادثہ میں 75مسافر شہید ہوئے ہیں بہت سارے زخمی ہوئے ہیں وہ ہمارے تبلیغی جماعت کے بھائی ہیں،ان کے بھی دعا کریں ،اللہ تعالیٰ ان کے اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے ۔مولانا فضل الرحمن نے مطالبہ کیا کہ ٹرین حادثہ کی اعلیٰ سطحی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے یہ معلوم ہونا چاہیے یہ کوئی دہشتگردی کا واقعہ کا تو نہیں ۔انہوںنے کہاکہ ریلوے نے کیا کمزور ی دکھائی ان سے پوچھا جائے ایسی کوتاہی کیوں کی ؟۔ مولانا فضل الرحمن نے ایک بار پھر وزیر اعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ آپ کی پوری پارٹی پر الزام ہے کہ فارن فنڈنگ کھائی ہے آپ کہتے ہیں یہ چور ہے وہ چور ہے مگر آپ کا تو سارا ٹبر چور ہے ۔ انہوںنے کارکنوں کو ہدایت کی کہ آپ اس میدان میں استقامت کے ساتھ رہیں ،کوئی ساتھی یہاں سے نہیں ہلے گا اس میدان میں جمے رہناہے ،اگر استعفیٰ نہ دیا تو ملکر فیصلہ کر نا ہے ، اب فیصلہ آپ نے کر ناہے ،ووٹ آپ کی امانت ہے ،ووٹ آپ کی ملکیت ہے ،اس پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ ہم انشاءاللہ اس وقت تمام سیاسی رہنماﺅں کے ساتھ رابطے میں ہیں ،رہبر کمیٹی موجود ہے ،مشاورت کے ساتھ تجاویز طے کی جائیں گی ۔

پولانا فضل الرحمن

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر ، مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں )مسلم لیگ ن کے صدر اور اپوزیشن لیڈر میںشہباز شریف نے کہا ہے کہ مولانا کی دلیری اور کاوش کو سلام پیش کرتا ہوں، جعلی حکومت سے جان چھڑانے کا وقت آگیا، پاکستان کی معیشت دم توڑ رہی ہے چھ ماہ میں معیشت ٹھیک نہ کردوں میرا نام تبدیل کرکے عمران نیازی رکھ دینا۔ شہباز شریف نے کہا کہ، تبدیلی پہلے نہیں اب آئی ہے، کنٹینر کی سیاست عمران خان نے شروع کی تھی، کنٹینر کی سیاست آج دفن ہوگئی ہے، ناداروں سے ادویات بھی چھین لی گئی ہیں۔شہباز شریف کا کہنا تھا عمران خان ہمیں ڈینگی برادران کہتے تھے، ڈینگی کے دوران عمران خان کہیں نظر نہیں آتا، نواز شریف کے دور میں کینسر کے مریضوں کو مفت ادویات دی جاتی تھیں، آج طلبا سے وظائف چھین لیے گئے، کاروبار ختم ہوگیا، وہ پاکستان بہتر نہیں تھا جس میں ڈینگی کا خاتمہ کیا گیا ؟ رواں سال 50 ہزارافراد ڈینگی سے متاثر ہوئے۔لیگی رہنما نے مزید کہا نواز شریف کے دور میں مہنگائی نچلی ترین سطح پر آگئی تھی، ایک کروڑ نوکریاں تو دور، آج لوگوں کو بے روزگار کر دیا ہے، وزیراعظم عمران خان مغرور، دل پتھر کا ہے، عمران خان جادو ٹونے سے حکومت چلا رہے ہیں۔چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے کہا کہ اس ملک کے عوام آج بھی جمہوریت چاہتی ہے وہ اس سکیٹڈ حکومت اور نظام کو نہیں مانتے، میں پوچھنا چاہتا ہوں یہ کس قسم کی جمہوریت ہے کہ آج تک صاف و شفاف الیکشن نہیں کرا سکتے ہیں، انتخابات میں فوج کو اندر اور باہر کھڑا کر دیتے ہیں جن کا کام صرف سیکیورٹی کا ہوتا ہے لیکن وہ انتخابات میں مداخلت کرتی ہے، مشرف کے دور میں بھی دھاندلی ہوئی تھی لیکن اس وقت فوج پولنگ اسٹیشن کے اندر ہماری فوج کو کھڑا نہیں کیا گیا لیکن2018ءکے الیکشن مین فوج کو کیوں کھڑا کیا گیا یہ عمران کی فوج نہیں ہے یہ ہماری اور عوام کی فوج ہے ہم اس کو متنازعہ نہیں بننے دینگے، ہماری حکومت کے ساتھ ہمارا میڈیا بی سکیٹڈ ہے، کلبھوشن کا انٹرویو چل سکتا ہے مگر اس ملک کے سابق صدر آصف علی زرداری، نواز شریف اور مولانا فضل الرحمان کے انٹرویوز نہیں چل سکتے یہ کس قسم کی آزادی ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہماری ملکی معیشت کے فیصلے باہر ہو رہے ہیں ہماری معیشت بھی آزاد نہیں یہ سکیٹڈ حکومت ملک کی معیشت کو تباہ کر رہی ہے یہ حکومت عوام کی وجہ سے نہیں بلکہ کسی اور کے اشارے پر حکومت میں آئے اور سلیکٹرز کی وجہ سے حکومت میں آئے ہیں، عمران کی معاشی پایسی یہ ہے کہ وہ امیروں کو ریلیف دے رہی ہے اور غریب کو زندہ درگور کر رہی ہے، مزور کسان اور غریب عوام کے مہنگائی اور ٹیکس کی بھرمار ہے ہمارا وزیراعظم نالائق ، نااہل اور سکیٹڈ وزیراعظم ہے، کٹھ پتلی وزیراعظم کے دور میں کشمیر پر تاریخی حملہ ہور رہا ہے ہمارا وزیراعظم کہتا ہے کہ میں کیا کروں؟ بے بسی کا اظہار کرتا ہے یہ صرف خالی تقریریں ہی کر سکتا ہے، کشمیر کا سودا ہمیں نامنظور ہے کوئی بھی پاکستانی کشمیر کا سودا قبول نہیں کرے گا،مسلم لیگ ن کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے پی ٹی آئی حکومت سے فارن فنڈنگ کا حساب مانگتے ہوئے کہا ہے کہ عمران نیازی نے غیر ملکی فنڈنگ لے کر پاکستان کی معیشت کو تباہ کیا ہے، اس بے شرم، نالائق اور اناڑی حکومت کو گھر بھیجنا ہے اور نئے شفاف انتخابات کے ذریعے عوام کی حکومت لے کر آنی ہے۔آزادی مارچ کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ نواز شریف ہسپتال میں زندگی کی جنگ لڑ رہا ہے لیکن اس کے خیالوں میں عوم ہے۔ یہ ملک پاکستان کے عوام کی ملکیت ہے لیکن 72 سالوں میں آج تک یہاں عوام کو حکمرانی نہیں کرنے دی گئی۔ ہندوستان ، بنگلہ دیش، سری لنکا ، نیپال ہم سے آگے نکل گئے، ہم کیوں پیچھے رہ گئے؟ کیونکہ ہمارے ملک میں ووٹ کو عزت نہیں ملی، کبھی کسی نے ووٹ کو بوٹوں کے نیچے کچل دیا اور کبھی کسی نے ووٹ کو عدالت کے فیصلے سے نکال کر باہر کردیا۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اس قوم کو ایک مضبوط قوم بنانا ہے، جب تک اس ملک میں الیکٹڈ اور عوام کی نمائندہ حکومت نہ ہو تب تک ملک ترقی نہیں کرسکتا، ہم پاکستان کے آئین کی بالا دستی دیکھنا چاہتے ہیں۔ محمود خان اچکزائی،نیئر حسین بخاری،شاہ اویس نورانی،میاں افتخار احمد،غلام بلور و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا موجودہ حکمران ڈیلی ویجزہیں ، عوام کاسمندر انہیں بہاکر لے جائے گا،اسمبلیاں تحلیل کر کے ملک میں فوری نئے انتخابات کروائے جائیں،آزادی مارچ کے شرکاء سرپرکفن باندھ کرآئے ہیں،اگر ان کے خون سے کھیلو گے تو عمران نیازی کوپھانسی کے تخت پر چڑھنا ہوگا،وزیر داخلہ کی عقل تو پہلے ہی فارغ تھی اب نظر بھی کمزور ہوگئی ،اگر ہمارے مطالبات پورے نہ ہوئے تو پورے ملک کو جلسہ گاہ بنادینگے،ہم قبریںنہیں کھودیں گے ہم کفن نہیں لہرائیں گے ہم آئین کے تحت چلیں گے۔ہم ہر امتحان میں استقامت سے کامیاب ہونگے۔شاہ اویس نورانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمارے اباو اجداد نے 1973کا آئین بنایا تھا،اس آئن کے تحفظ ،قانون کی بالادستی اور ووٹ کی عزت کے لیے یہ جنگ لڑ رہے ہیں ، یہ جنگ ہم جیت چکے ہیں ۔کراچی سے اسلام آباد تک ایک پتہ نہیں ٹوٹا ،یہ قیادت کی بات ہوتی ہے۔ہم قبریںنہیں کھودیں گے ہم کفن نہیں لہرائیں گے ہم آئین کے تحت چلیں گے۔ہم ہر امتحان میں استقامت سے کامیاب ہونگے۔۔پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل نیئر حسین بخاری نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے نیازی سے جان چھڑائیں،عمران خان 2کروڑ نوکریاں کہاں ہیں؟لاکھوں نوجوانوں بے روزگارہو گئے ہیں،معیشت کا برا حال ہوگیا ہے، ہم نے ضیا الحق اور مشرف ڈکٹیٹر کا مقابلہ کیا،عمران خان تم اور تمہاری کابینہ جعلی ہے ہم اس کو نہیں مانتے،شوکت عزیز اس ملک سے بھاگ گئے ہیں عمران تم بھی اس ملک سے بھاگ جاﺅگے ،اے این پی کے غلام احمد بلور نے کہا کہ آزادی مارچ کے شرکا ءوزیراعظم کااستعفی لینے آئے ہیں،یہ سرپرکفن باندھ کرآئے ہیں،یہ واپس جانے کے لیے نہیں آئے ہیں،اگر ان کے خون سے کھیلو گے تو تمہیں پھانسی کے تخت پر چڑھنا ہوگا،۔پختوانخوا ملی عوامی پارٹی کے محمود خان اچکزئی نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ اس ملک کی تعمیر و ترقی میں سب قوموں نے اہم کردار ادا کیاہے۔ہم سب مسلمان ہیں، یہ پروپیگنڈہ بہت غلط ہے کہ مولانا مذہبی کارڈ استعمال کررہا ہے۔ہم مسلمان ہیں،ہم کسی طاقت ور کو نہیں مانتے ۔عوام اور آئین پاور فل ہیں ۔آئین میں ہے کہ آرمی اپنی مقرر کردہ حدود میں رہے۔ہم مولانا کیساتھ ہیں ۔کیا ججز یا جرنیل کہہ سکتے ہیں کہ الیکشن میں دھاندلی نہیں ہو ئی ہے۔ادارے قابل احترام ہیں ۔لیکن قانون سب کیلئے ہے۔اورہم قانون کیساتھ ہیں،وزیر داخلہ کی عقل تو پہلے ہی فارغ تھی اب نظر بھی کمزور ہوگئی ہے۔کہتا ہے کہ مولانا فضل الرحمن صاحب کیساتھ عوام نہیں ہے۔اگر کوئی ہماری رائے کا احترام نہ کرے توہم پھر پورے ملک کو جلسہ گاہ بنادینگے۔اے این پی میاں افتخار حسین نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ عمران نیازی نے کہا تھا کہ میرے دھرنے کا چوتھائی بھی لوگ میرے خلاف آئے تو میں چلا جاوں گا ۔اب تو کئی سو گنا زیادہ لوگ تمہیں گو عمران گو کہتے ہیں تو اب غیرت کا تقاضا ہے کہ جاﺅ۔افسوس میڈیا پر ہمیںنہیں دکھایا جا رہا ۔یہ توہین عدالت ہے۔

شہباز/ بلاول

مزید : صفحہ اول


loading...