سکھر ایکسپریس میں شارٹ سرکٹ سے آتشزدگی، مسافر محفوظ

سکھر ایکسپریس میں شارٹ سرکٹ سے آتشزدگی، مسافر محفوظ

  



شکارپور(این این آئی) سکھر ایکسپریس میں بھی آگ لگ گئی، پولیس کے مطابق 2 بوگیوں میں آگ شارٹ سرکٹ کے سبب لگی، کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔تفصیلات کے مطابق سکھر ایکسپریس کراچی سے جیکب آباد جا رہی تھی،شکار پور کے قریب لوڈرا کے مقام پر سکھر ایکسپریس میں لگی آگ کو علاقہ مکینوں نے اپنی مدد آپ کے تحت آگ پر قابو پا کر مسافروں کو ریسکیو کیا۔پولیس کے مطابق شارٹ سرکٹ کے سبب بوگیوں کے درمیان ربڑ کے پائیدان کو لگی جس نے بعد ازاں دونوں بوگیوں کو بھی لپیٹ میں لے لیا۔ ریلوے حکام نے بروقت اطلاع ملنے پر ٹرین روکی اور آگ سے متاثرہ بوگیوں کو ٹرین سے علیحدہ کر دیا۔ آگ بجھانے کے بعد ٹرین کو منزل روانہ کر دیا گیا۔ڈی ایس ریلوے سکھر کے مطابق آگ لگنے کے حوالے سے تحقیقاتی ٹیم روانہ کر دی گئی ہے، جو آتشزدگی کے اسباب کا جائزہ لے کرآج رپورٹ جمع کروائے گی۔ ریلوے حکام کے مطابق پہلے کبھی اس طرح کا واقعہ پیش نہیں آیا، تخریبی عنصر کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا۔دوسری جانب سانحہ رحیم یارخان  میں جاں بحق15 افراد کی میتیں ورثا کے حوالے کر دی گئیں۔ریلوے پولیس کی رپورٹ میں سلنڈر پھٹنے کو آتشزدگی کی وجہ قرار دیا گیا ہے۔ تحقیقاتی ٹیموں نے جائے حادثہ سے مزید شواہد بھی اکھٹے کرلئے ہیں۔ حکام کے مطابق لاشوں سے ڈین این اے نمونے حاصل کئے جائیں گے جس سے شناخت میں مدد حاصل ہوگی۔ پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف واقعہ کا مقدمہ درج کرکے حادثے میں جاں بحق اور زخمی ہونے والے افراد کی حتمی فہرست جاری کر دی۔چیف ایگزیکٹیو آفسر شیخ زید ہسپتال رحیم یارخان نے کہا کہ ٹرین سانحہ کے17 زخمی زیرعلاج ہیں جن میں سے 4 کی حالت تشویشناک ہے جبکہ تیزگام سانحے میں جاں بحق ہونے والے 58 افراد کی شناخت نہیں ہوسکی تاہم فرانزک لیب کی ٹیم نے لاشوں کے نمونے حاصل کرلیے ہیں جنہیں ممکنہ لواحقین سے میچ کیا جائے گا۔شیخ زید ہسپتال کے برن یونٹ کے سربراہ کا کہنا ہے کہ  2 زخمیوں کو برن یونٹ سے نشتر ہسپتال منتقل کیا گیا ہے جس کے بعد اب ان کے پاس 4 زخمی زیر علاج ہیں جبکہ ذرائع کا کہنا ہے کہ نشتر ہسپتال میں زیرعلاج زخمیوں کی تعداد پانچ ہے۔ترجمان ریلوے کے مطابق وزارت ریلوے کو تیزگام ٹرین سانحے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ بھیج دی گئی ہے۔رپورٹ میں بتایا کہ تیزگام ٹرین سانحے میں 74 مسافر جاں بحق اور47 زخمی ہوئے، 60 مسافر ٹرین کے اندرجھلس کر جاں بحق ہوئے اور  6 ہسپتال میں دم توڑگئے جبکہ 8 مسافر ٹرین سے چھلانگ لگاتے ہوئے جاں بحق ہوئے۔مزید برآں سانحہ رحیم یار خان کے متاثرین کیلئے امدادی پیکیج کا اعلان بھی سیاسی نکلا، شیخ رشید نے انشورنس کی رقم کو حکومتی کھاتے میں ڈال دیا۔ذرائع نے انکشاف کیا کہ پاکستان ریلوے اور پوسٹل لائف انشورنس کمپنی کے مابین مسافروں کی لائف انشورنس کا باقاعدہ معاہدہ ہے۔ پاکستان ریلویز کی ٹکٹ خریدنے والا مسافر انشورنس کی رقم بھی ادا کرتا ہے۔ وزیر ریلوے نے متاثرہ مسافروں کی انشورڈ رقم کو ہی حکومتی امداد قرار دے دیا۔سابق دور حکومت میں ریلوے اور انشورنس کمپنی میں معاہدہ ہوا جس کے تحت مسافروں کی ٹکٹوں میں انشورنس کی رقم بھی شامل کی جاتی ہے۔ حادثے کی صورت میں جاں بحق اور زخمی مسافروں کو انشورنس کی رقم دی جاتی ہے۔ انشورنس کمپنی جاں بحق افراد کو 15 لاکھ، شدید زخمیوں کو 5 لاکھ اور معمولی زخمیوں کو ایک سے 3 لاکھ روپے تک ادا کرے گی۔ذرائع کے مطابق محکمہ ریلوے اور وزارت ریلوے اپنے پاس سے کسی بھی جاں بحق اور زخمی مسافر کی امداد نہیں کر رہا۔ ترجمان ریلوے قرۃ العین فاطمہ نے کہا ہے کہ ریلوے نے اپنے مسافروں کی بہتری کے لیے انشورنس کمپنی سے معاہدہ کر رکھا ہے۔

سکھر ایکپریس

مزید : صفحہ اول


loading...