وارث مان نہ کریں وارثاں دا

وارث مان نہ کریں وارثاں دا
وارث مان نہ کریں وارثاں دا

  



مفروضیبلاول بھٹو اپنے کہے پر کھڑے رہے ہیں کہ پیپلز پارٹی اٹھارویں ترمیم کو ریورس نہیں ہونے دے گی، نواز شریف کو سیاست اور ملک سے باہر دیکھنے والوں کے خواب چکنا چور ہو گئے ہیں، مریم نواز کو ڈرا نے دھمکانے والے تھک گئے ہیں اور آصف زرداری کی اس بات کا مذاق اڑانے والے کہ معیشت اور نیب ایک ساتھ نہیں چل سکتے، آج تاجروں کے مطالبات کے سامنے ڈھیر ہو چکے ہیں.....سال سوا سال میں پی ٹی آئی حکومت کمزورہو گئی ہے۔

جہاں شہباز شریف کو نواز شریف سے علیحدہ نہیں کیا جاسکا ہے وہیں مولانا فضل الرحمٰن کو کوئی دھونس یا دھمکی اسلام آباد مارچ کرنے سے نہیں روک سکی ہے، چودھری نثار ابھی تک دم دبا کر کہیں دبکے ہوئے ہیں اور چودھری شجاعت حسین کی پکار کہ حکومت نواز شریف کو علاج کے لئے ملک سے باہر جانے دے صدا بصحرا ثابت ہوئی ہے کہ نون لیگ والے کہتے ہیں کہ اس کا فیصلہ نواز شریف کریں گے اور نواز شریف کا فیصلہ آج پاکستان کے بچے بچے کو معلوم ہے۔ حکومت پچھلے ایک سال سے نواز شریف اور آصف زرداری کو کرپٹ ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگارہی ہے جبکہ اس کے برعکس ملک بھر میں ایک نیا اتفاق رائے پیدا ہوچکا ہے کہ ان دونوں کو انتقام کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ پی ٹی آئی والے اپنے کندھے پر رکھ کر جس بندوق سے ٹھاہ ٹھاہ کر رہے تھے، ٹھس ہوگئی ہے۔ اب تو بندوق والوں نے بھی اپنا اسلحہ واپس کھینچ لیا ہے کیونکہ پی ٹی آئی اقتدار میں آکر بھی ویسی ہی کارکردگی کا مظاہرہ کررہی ہے جیسی اقتدار میں باہر رہ کر کر رہی تھی، تب بھی اسے کندھے پر بٹھا کر اسلام آباد لانا پڑا تھا اور اب بھی اس کو کندھا دیئے بغیر گورنینس چلتی نظر نہیں آرہی ہے۔

فردوش عاشق اعوان اعلان کرتی ہیں کہ حکومت کمزور اور بیمار نواز شریف سے نہیں لڑنا چاہتی ہے۔ اس بیان کا مطلب ہے کہ نواز شریف ابھی بھی حکومت سے لڑرہا ہے، اس نے ہار نہیں مانی ہے، اس نے ہتھیار نہیں ڈالے ہیں، جب تک اس کی جان میں جان ہے اس نے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا ہے اور آج جب وہ بستر مرگ پر ہے اور حکومت پر عوامی دباؤ بڑھا ہے کہ وہ احتساب کے نام پر انتقام کا نشانہ بنا رہی ہے تو اسے چاروناچار نواز شریف کو ہسپتال منتقل کرنا پڑا ہے مگر نواز شریف ملک سے باہر جانے کو تیار نہیں ہے، وہ جانتا ہے کہ اگر مر بھی گیا تو پاکستانی عوام کے لئے سوا لاکھ کا ثابت ہوگا کیونکہ اس کی موت عوام کے حق حکمرانی کی گواہی بنے گی جس طرح بھٹو کی موت عوام کے حق حکمرانی کا ثبوت بنا تھا۔

اس میں شک نہیں کہ نواز شریف کے خلاف پراپیگنڈے میں جب میڈیا کے ایک حصے نے بھرپور حصہ ڈالا تو عوام کا ایک طبقہ انہیں واقعی کرپٹ سمجھ بیٹھا۔ لیکن آج لگتا ہے کہ اس پراپیگنڈے کے محرکین کا مفاد اب یہ پراپیگنڈہ نہ کرنے میں ہے، اب انہوں نے حکومت کے کندھے سے ہاتھ ہٹالیا ہے اور شہباز شریف کہنے لگے ہیں کہ اگر متحدہ اپوزیشن کے جلو میں انہیں موقع ملا اور چھے ماہ میں انہوں نے ملک کو صحیح ڈگر پر نہ ڈالا تو لوگ ان کا نام عمران نیاز ی رکھ دیں۔ حکومت کی انتہائی ناقص کارکردگی نے اسٹیبلشمنٹ کو الٹے قدموں لوٹنے پر مجبور کردیا ہے، اسی لئے آج مولانا کے دھرنے کی کوریج ٹی وی چینلوں پر ہو رہی ہے اور حکومت کے خلاف اپوزیشن لیڈروں کی تقاریر براہ راست نشر ہو رہی ہیں۔ آج یہ بات ثابت ہو رہی ہے کہ نواز شریف کو عوامی امنگوں کے برخلاف انتخابات سے باہر کیا گیا تھا اور انہیں امنگوں کے برخلاف عمران خان کو اقتدار میں لایا گیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرے کے ہر طبقے کو دبا کر رکھنے کے باوجود ملک میں سیاسی تبدیلی کی ہوا چل پڑی ہے، طبل جنگ بچ چکا ہے!

تبدیلی کے داعی صحافی آج عوام سے معافیاں مانگتے نظر آرہے ہیں کہ انہوں نے پی ٹی آئی کی حمائت کرکے غلطی کی تھی، کچھ ایسے بھی ہیں جو کہتے پائے جا رہے ہیں کہ خود اسٹیبلشمنٹ بھی کنفیوزڈ ہے کیونکہ وہ دیکھ رہے ہیں کہ ایک سال میں ہی اسٹیبلشمنٹ نے عمران خان سے نظریں پھیرلی ہیں اور آج بھی نواز شریف مقبولیت کے محاذ پر جم کر کھڑے نظر آتے ہیں۔ ایسے میں جن کو گمان ہے کہ کوئی طاقت اب بھی عمران خان کو بچالے گی، ان کی خدمت میں اتنا ہی عرض کیا جاسکتا ہے

وارث مان نہ کریں وارثاں دا

رب بے وارث کر ماردا اے!

مزید : رائے /کالم


loading...