دہشت گردی، امریکہ صدارتی سوچ

دہشت گردی، امریکہ صدارتی سوچ
دہشت گردی، امریکہ صدارتی سوچ

  



امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے حلف برداری کی تقریب کے بعد پہلے خطاب میں کہا کہ اسلامی دہشت گردی کے خاتمے کےلیےآخری حدتک جائیں گے انہوں نے یہ بات پہلی مرتبہ نہیں کہی تھی وہ اد سےپہلے بھی اپنی انتخابی مہم اورکامیاب ہونے کے بعد مسلم و غیرمسلم ممالک میں اپنے سرکاری دوروں کے دوران کئی فورمز پر متعددبار ان خیالات کااظہار کرچکے ہیں ان کی اس سوچ سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ وہ صرف مسلمانوں کو ہی دہشت گرد سمجھتے ہیں جبکہ یہ درست نہیں ۔دنیا کو دہشت کے حوالے سے دوبارہ ایک سنجیدہ مکالمے کی ضرورت ہے یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ شدت پسندی اور انتہا پسندی میں میں اضافہ کیوں ہورہاہے وہ کونسے عوامل ہیں جو اس میں روزبروز شدت پیدا کرہے ہیں امریکی صدر کی اس سوچ سے ہمارےخیال میں شدت پسندی اور انتہا پسندی میں کمی کی بجائے اضافہ ہونے کاامکانات زیادہ ہیں اسکو اسلام اور مسلمانوں سے جوڑنا انتہائی نامناسب ہے ہمارے ہمسایہ ملک بھارت کی موجودہ حکومت پیچھلے72 برسوں اور بالخصوص گزشتہ تقریبآ تین ماہ سے مقبوضہ کشمیر میں جس ڈگر پر چل رہی ہے اسکی پالیسیوں سے خودبھارت میں شدت اور انتہا پسندی میں اضافہ ہورہا ہے بھارت میں مسلمانوں سمیت تمام اقلیتوں کے ساتھ جو سلوک روا رکھا جارہا ہے وہ سب کےسامنے ہے بھارت کی ایک انتہا پسند تنظیم دیگر مذاہب کے لوگوں کو زبردستی ہندو بنارہی ہے اور دھمکی دی جارہی ہے کہ اگر آپ کو ہندوستان میں رہنا ہے تو ہندو بن کررہنا پڑےگا ورنہ ملک چھوڑ دو سبکے علم میں ہے کہ بمبئی میں مسلمان فنکاروں کو نہ تو گھر خریدنے دیاجاتاہے اور نہ ہی کرائے پرلینے دیاجاتاہے اس بارے میں امریکی صدر کیاکہیں گے ؟

بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ انتہائی امتیازی سلوک رکھاجاتا ہے مسلمان بچہ تعلیم قابلیت کے باوجود نوکری سےمحروم ہے اسطرح تعلیمی اداروں میں داخلے اور کاروباری مواقع مسلمانوں کےلیے نہ ہونے کے برابر ہیں مسلمان کا مطلب ہندوستان میں انتہائی غیراہم لوگ ہیں وہ مذہب اسلام کو مذہب دین کی بجاےء قومیت کے طور پر دیکھتےہیں اسطرح کشمیر میں نہتے مسلمانوں پر جو گولیاں برسائی جارہی ہیں اسکو کیا کہا جائےگا؟ افغانستان میں امریکہ اور اسکے اتحادی افواج نہتے شہریوں پر بمباری کرکے انہیں شہید کرتے ہیں کیا یہ دہشت گردی نہیں کشمیر میں گزشتہ ایک دہائی سے جو خون کی ہولی کھیلی جارہی ہے اسکو ڈونلڈٹرمپ کیا کہیں گے ؟ اسرائیل میں جو نہتےفلسطینیوں کا آےء دن قتل عام کیا جارہا ہے اسکو کونسی دہشت گردی کا نام دیا جائے گا ؟شام کے ہزاروں مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتاردیاگیا اسکے بارے میں امریکی صدر کیا رائے رکھتے ہیں ؟ سوال یہ ہے کہ دنیا کو دہشت گردی ہے اگراسکوایک مذہب کے ساتھ جوڑ دیاجائے گا تو ایسا کرنے سے دنیا میں بین المذہب ہم آہنگی کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے امریکی صدر کے اس نظریے سے القاعدہ اور داعش جیسی تنظیموں کو تقویت حاصل ہوسکتی ہے امریکہ بلاشبہ دنیا کی بڑی طاقت ہے اسکی زیادہ زمہ داری ہے کہ وہ دنیا میں بسنے والے لوگ اور مذاہب میں خلیج بڑھانے کی بجائے انکو قریب لانے کےلیے سنجیدہ کوشش کرے ایسا کرنا نا صرف دنیا بلکہ امریکہ کے مفاد میں بھی ہے بلاشبہ دہشت گردی دنیا کا سب سے بڑا مسلہ ہے اس سے نمٹنے کےلیے اقوام عالم کو مربوط اور سنجیدہ کوشش کرنے کی ضرورت ہے اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ یہ آگ اسکے گھر تک نہیں پہنچےگی لہذا اسکو اس پچیدہ اور اہم مسلے میں کردار ادا کرنے کی ضرورت نہیں تو یہ درست نہیں کیونکہ یہ آگ کبھی بھی اسکے گھر تک پہنچ سکتی ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ دنیا میں ہر طرح کی ناانصافی ختم کرنے کےلیے عملی اقدامات کا آغاز کیا جائے اور دہشت گردی کو کسی رنگ و نسل اور مذہب سے جوڑنے کی بجائے اسکی اصل وجوہات کی نشاندہی کی جائے اور یہ بھی جاننا ضروری ہے کہ دہشت گردوں کے ہاتھوں میں پڑھے لکھے اور مغربی معاشرے میں رہنے والے نوجوان کیوں کھیل رہے ہیں یہ امر انتہائی تشویش ناک ہے کہ جو مغربی تہذیب میں پڑھے لکھے نوجوان جو جوق در جوق داعش میں شامل ہوتے ہیں ایسی تنظیموں کے پیچھے وہ کون سے ہاتھ ہیں جو دنیا کے امن کو تباہ کرنا چاہتے ہیں غیرمعمولی شخصیت کے مالک امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دہشت گردی جیسے انتہائی خطرناک اور سنجیدہ مسلے کوحل کرنے کےلیے فرنٹ پر آکر کام کرنے کی ضرورت ہے اسکےلیے تمام مذاہب کے افراد کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے اور انکے درمیان مکالمہ کروانے کی بھی اشد ضرورت ہے تاکہ انتہا پسندی سے منسوب کرکے کوئی پالیسی مرتب کی تو یہ نہ صرف دنیا بلکہ امریکہ کےمفاد میں بھی نہیں ہوگا اور اقوام عالم مذہب رنگ نسل اور قومیت کی بنیاد پر تقسیم درتقسیم ہوتی جائے گی ۔

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’dailypak1k@gmail.com‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید : بلاگ


loading...