آزادی مارچ کو دھرنے میں بدلنے پر اپوزیشن میں اختلافات، مولانا کے سوال پر بلاول اور شہبازشریف نے کیا جواب دیا؟ اندر کی خبرآگئی

آزادی مارچ کو دھرنے میں بدلنے پر اپوزیشن میں اختلافات، مولانا کے سوال پر ...
آزادی مارچ کو دھرنے میں بدلنے پر اپوزیشن میں اختلافات، مولانا کے سوال پر بلاول اور شہبازشریف نے کیا جواب دیا؟ اندر کی خبرآگئی

  



اسلام آباد (نعیم مصطفی سے) جمعیت علمائے اسلام (ف)کے آزادی مارچ کے قائد مولانا فضل الرحمن کی جانب سے جہاں منظم اداروں کو 2 روز کی مہلت دی گئی ہے، وہاں آزادی مارچ کے شرکاءکی ڈی چوک تک روانگی اور دھرنا دیئے جانے کےلئے اپوزیشن رہنماﺅں نے بھی مشاورت کےلئے دو روز طلب کرلئے۔

مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اور پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری نے فی الفورآزادی مارچ کو ڈی چوک پرلے جانے کی تجویزسے اتفاق نہ کیا جس پر مولانا فضل الرحمن نے مزید غورو غوض کےلئے2روز کا وقت دیدیا۔ جی نائن پارک میں آزادی مارچ کے جلسہ سے خطاب کے بعد میاں شہباز شریف اور بلاول بھٹو سٹیج سے نیچے آئے تو مولانا فضل الرحمن نے ان سے دریافت کیا ہمارا آج کا شو کیسا رہا جس پر دونوں اپوزیشن رہنماﺅں نے جے یو آئی سربراہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ آپ اورکارکنوں نے کمال کر دکھایا۔

اس پر مولانا فضل الرحمن نے میاں شہباز شریف اور بلاول بھٹو کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب کچھ آپ کے تعاون کی بدولت ہے اس موقع پر وہ یوں گویا ہوئے کہ آزادی مارچ کو ڈی چوک تک لے جانے کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے اور کیا ہمارے کارکن وہاں جاکر دھرنا بھی دے سکتے ہیں۔ اس پر میاں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ میں آپ کی اس تجویز سے اتفاق نہیں کرتا، ہمیں ڈی چوک پر دھرنا نہیں دینا چاہئے۔

مولانا فضل الرحمن نے یہی سوال پیپلز پارٹی کے سربراہ سے کیا تو بلاول بھٹو کا جواب تھا کہ میں بھی میاں شہباز شریف کی بات سے اتفاق کرتا ہوں ہمیں اپنا احتجاج اسی انداز میں جاری رکھنا چاہئے جس پر مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ہم ڈی چوک تک جانے اور دھرنے دینے پر مزید مشاورت کریں گے اور آئندہ دو روز تک اس حوالے سے مزید غور و فکر کیا جائے گا یہ بھی طے ہوا کہ اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کا اجلاس بھی ایک دو روز میں بلایا جائے گا۔

اس موقع پر روزنامہ پاکستان کے اصرار پر جے یو آئی(ف) کے ایک سرکردہ رہنما نے کہا کہ ہم توایک ڈیڑھ ماہ تک اسلام آباد میں قیام کے تمام تر انتظامات کرکے آئے ہیں۔ ہمارے پاس قیام و طعام کا پورا بندوست ہے اور اپنے گھر والوں کو بھی مطلع کیا ہے کہ ہم پی ٹی آئی حکومت کو ختم کرکے ہی واپس آئیں گے۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد


loading...