تیزگام ایکسپریس ایک اور بڑے حادثے سے بال بال بچ گئی

تیزگام ایکسپریس ایک اور بڑے حادثے سے بال بال بچ گئی
تیزگام ایکسپریس ایک اور بڑے حادثے سے بال بال بچ گئی

  



ملتان(ڈیلی پاکستان آن لائن)تیز گام ایکسپریس ایک اور بڑے حادثے سے بال بال بچ گئی،پٹرولنگ عملے نے بروقت متعلقہ حکام کو آگاہ کرکے بڑا حادثہ ہونے سے بچا لیا۔

نجی چینل دنیا نیوز کے مطابق ملتان کے علاقے سبحان پور کے قریب ٹریک کے نٹ بولٹ کھلے ہوئے تھے،پٹرولنگ عملے نے دوران پٹرولنگ ٹریک کے نٹ بولٹ کھلے دیکھے تو فوراً متعلقہ حکام کو آگاہ کیا،جنہوں نے بروقت ایکشن لیتے ہوئے تیز گام ایکسپریس کو کریکر فائر کر کے روک لیا،پٹری کی مرمت کے بعد ٹریک کو کلیئر کیا گیا جس کے بعد تیز گام مسافرو ں کو لیکر روالپنڈی کےلئے روانہ ہوگئی۔

یادرہے کہ چند روز قبل بھی تیزگام میں چلتے ہوئے آگ بھڑک اٹھی تھی اور بتایا گیا تھا کہ  رحیم یار خان کے قریب تلواری سٹیشن پر تیز گام ایکسپریس میں آتشزدگی کے باعث 85 افرادجاں بحق اور100سے زائدزخمی ہو گئے۔ ضلع بھر کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔ افسوسناک واقعہ ٹانوری سٹیشن کے قریب اس وقت پیش آیا جب کراچی سے لاہور جانے والی تیز گام میں اچانک آگ بھڑک اٹھی دیکھتے ہی دیکھتے آگ نے بوگی نمبر 3، 4 اور 5 کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، تینوں بوگیوں پر رائیونڈ تبلیغی اجتماع پر جانے والے افراد سفر کر رہے تھے۔ آگ پھیلتے ہی بوگیوں میں سوار افراد نے تیز رفتار ٹرین سے چھلانگیں لگانی شروع کر دیں جس سے متعدد مسافروں کی ٹانگیں اور بازو ٹوٹ گئے۔

حادثے کی اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔ ریسکیو 1122 نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پایا اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا۔ دور افتادہ مقام پر حادثہ پیش آنے کی وجہ سے جھلسنے والے افراد کو بہاولپور اور رحیم یار خان منتقل کرنے میں مشکلات پیش آئیں۔

ڈی سی او کے مطابق 2 بوگیاں امیر حسین اینڈ جماعت کے نام سے بک تھیں، متاثرہ تینوں بوگیوں میں 207 مسافر سوار تھے، ایک بوگی میں 77، دوسری میں 76 مسافر سوار تھے، متاثرہ تیسری بزنس کلاس کی بوگی میں 54 مسافر سوار تھے، زیادہ تر مسافر حیدرآباد سے سوار ہوئے۔ 42 زخمیوں کو مختلف ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا، 18 لاشیں ناقابل شناخت ہیں۔

رحیم یارخان شیخ زید ہسپتال میں منتقل کیے جانے والے 17 زخمیوں میں میر پور خاص(سندھ) کارہائشی34 سالہ طاہریوسف‘ 30سالہ محمدعمران‘ 26سالہ یاسر یعقوب‘ 30سالہ عاقب یاسین‘ 33سالہ آفتاب اسلم‘47سالہ محمدیاسین‘ 22سالہ امان اللہ‘ 30سالہ ناصرعلی‘ 40سالہ رستم‘ 30سالہ محمدعرفان‘ 30سالہ محمد قربان‘ کراچی کا28سالہ سفیرحسن‘40سالہ محمدعمران‘ عمرکوٹ کا25سالہ محمد علی‘59 سالہ محمد سرور‘50سالہ محمد اور 63سالہ محمداقبال شامل ہیں جبکہ دیگر زخمی مسافروں کو پاک فوج کے ہیلی کاپٹر اورایمبولینسز کے ذریعے بہاولپور وکٹوریہ ہسپتال اور ملتان نشتر ہسپتال منتقل کردیاگیا۔ انتظامیہ کی جانب سے ضلع بھر کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی‘ پولیس اورضلعی انتظامیہ کی جانب سے ٹرین میں موجود دیگرمسافروں کو کھانا‘ پانی اور مختلف مشروبات بھی فراہم کی گئیں۔

واضح رہے کہ ٹرین کی بوگیوں آگ لگنے پر متعدد مسافروں نے چلتی ٹرین سے جان بچانے کی خاطر چھلانگیں لگادیں، تیز رفتاری کے نتیجہ میں چھلانگ لگانے والے متعدد افراد بھی جاں بحق اور زخمی ہوئے،ریسکیو حکام کے مطابق سرچنگ کے دوران بوگی سے 2 گیس سلنڈر ملے ہیں۔ متاثرہ بوگیوں میں زیادہ تر تبلیغی جماعت کے افراد تھے، زیادہ تر افراد کا تعلق حیدرآباد اور میرپور خاص سے تھا۔

وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید کا کہنا ہے کہ گاڑی میں آگ گیس کا چولہا پھٹنے سے لگی جس نے تین بوگیوں کو اپنی لپیٹ میں لیا، تحقیقات کریں گے مسافر سلنڈر لیکر کون سے سٹیشن سے چڑھے۔ محکمہ ریلوے نے معلومات کیلئے ہیلپ لائن 03008060780 جاری کر دی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج کے جوان مقامی انتظامیہ کیساتھ مل کر امدادی کارروائیاں میں مصروف ہیں، آرمی ایوی ایشن کا ہیلی کاپٹر ز نے بھی ریسکیو آپریشن میں حصہ لیا، پاک فوج کے ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکس بھی امدادی کارروائیوں میں مصروف رہے۔

دوسری طرف عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ کوئی سلنڈر نہیں پھٹا نہ ہی کسی سلنڈر پھٹنے کی آواز سنی، رات سے ہی بوگی نمبر 12 میں جلنے کی بو آ رہی تھی، سپارکنگ سے متعلق انتظامیہ کو آگاہ کیا لیکن کچھ نہ کیا گیا، چلتی ٹرین سے چھلانگیں لگا کر جان بچائی۔

ایک اور عینی شاہد نے ویڈیو بیان میں کہا کہ آگ ٹرین کے اے سی سلیپر میں شارٹ کٹ کے باعث لگی جبکہ ٹرین کی چین بھی کام نہیں کر رہی تھی،عینی شاہد نے مزید کہا کہ ریلوے حکام کی جانب سے مسافروں پر ذمہ داری ڈالی جا رہی ہے اور یہ پروپگنڈہ کیا جا رہا ہے کہ سلنڈر دھماکے سے آگ لگی ہے،ٹرین میں بیٹھنے سے پہلے سلنڈروں سے گیس نکال دی گئی تھی جبکہ ٹرین کے پنکھا تک بھی خراب تھے۔

شیخ رشید نے کہا ہے کہ تبلیغی جماعت کو گیس سلنڈر لے جانے سے نہ روکنا ہماری غلطی ہے، غفلت کے مرتکب افراد کو سزا دی جائے گی، میرا استعفیٰ کوئی مسئلہ نہیں، اس پر اتوار کو جواب دوں گا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا آرمی چیف کا شکر گزار ہوں، فوری ایئر ایمبولینس فراہم کی،، امید ہے وزیراعظم پیکج سے بھی متاثرین کو امداد ملے گی، گارڈ نے چولہا جلانے سے روکا تھا، گارڈ کے جانے کے بعد انہوں نے دوبارہ چولہا جلایا۔

شیخ رشید کا کہنا تھا سب سے کم ٹرین حادثے میرے دور میں ہوئے ہیں، وزیراعظم نے انکوائری کا حکم دیا ہے، تبلیغی جماعت کے لوگ چولہا اور راشن ساتھ لے جاتے ہیں۔قبل ازیں شیخ رشید نے سانحہ تیز گام کے جاں بحق افراد کے لواحقین کیلئے 15 لاکھ جبکہ زخمیوں کے لئے 5 لاکھ روپے امداد کا اعلان کیا۔وزیراعظم عمران خان نے ٹرین ا?تشزدگی کی انکوائری کا حکم دے دیا۔

وزیراعظم عمران خان نے رحیم یار خان کے قریب تلواری سٹیشن پر تیز گام ایکسپریس کی 3 بوگیوں میں آگ لگنے کے واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے واقعہ کی وجوہات اور ذمہ داروں کے تعین کے لئے فوری طور پر انکوائری مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

ادھر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہبازشریف، چیرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو، مولانا فضل الرحمن،چودھری شجاعت حسین، چودھری پرویز الہٰی،رکن قومی اسمبلی مونس الہٰی، راجہ ظفر الحق،سینیٹر شیری رحمان،علامہ ساجد نقوی نے تیزگام ایکسپریس حادثے میں جانی نقصان پر دلی دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تبلیغی جماعت اور دیگر مسافروں کو حادثے پر بہت رنج ہے،اللہ تعالی مرحومین کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطافرمائے اور لواحقین کو صبرجمیل دے۔

جمعرات کو شہبازشریف نے تیزگام ایکسپریس حادثے میں جانی نقصان پر دلی دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔انھوں نے کہاکہ تبلیغی جماعت اور دیگر مسافروں کو حادثے پر بہت رنج ہے،حادثے میں متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی ہے۔بلاول بھٹو نے لیاقت پور ٹرین حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کے ورثا سے تعزیت کرتے ہوئے انتہائی افسوس کا اظہار کیا، انہوں نے کہا کہ وزیر ریلوے شیخ رشید اپنی کوتاہی کا ذمہ دار مسافروں کو بنانا چھوڑیں، ان کے دور وزارت میں سب سے زیادہ حادثات ہوئے ہیں۔ وزیراعظم الیکشن سے قبل کیا گیا وعدہ نبھائیں۔

بلاول بھٹو نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ واقعے کی انکوائری تک وزیر ریلوے کو عہدے سے معطل کر دیا جائے۔ امریکی سفارتخانے نے رحیم یار خان میں تیزگام حادثے میں قیمتی جانوں کے نقصان پر اظہار افسوس کرتے ہوئے متاثرہ افراد سے ہمدردی کا اظہار کیاہے. پاکستان میں تعینات امریکہ, برطانیہ, فرانس, اٹلی, ناروے, ڈنمارک, پولینڈ اور یورپی یونین کے سفیروں نے ریل گاڑی میں آگ لگنے کی وجہ قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے.

سوشل میڈیا پر امریکی ناظم الامور. فرانس, جرمنی, ناروے اور دیگر ممالک کے سفیروں نے جان بحق ہونے والوں کی بلندی درجات اور اہل خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا کے پیغامات جاری کئے ہیں اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا وزیر داخلہ اعجاز احمد شاہ نے کراچی سے پنڈی آنے والی تیز گام ایکسپریس کو پیش آنے والے حادثے پر افسوس کا اظہارِ کرتے ہوئے کہاہے کہ قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر دلی دکھ ہے۔ ایک بیان میں وزیر داخلہ نے اس حادثے کے نتیجے میں جاں بحق ہونیوالوں کے لئے دعائے مغفرت اور لواحقین کے لئے صبر جمیل کی دعا کی ہے۔

انہوں نے کہاکہ حادثے میں زخمی ہونے والوں کی جلد صحت یابی کے لیئے دعا گو ہیں۔سپیکر اسد قیصر اور ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری نے ٹرین حادثے میں ہونے والے جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے تیز گام ٹرین میں آگ لگنے کے واقعہ پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیاہے۔

سینیٹر سراج الحق نے شہدا کے لیے بلندی ئدرجات اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی ہے۔

مزید : قومی /علاقائی /پنجاب /ملتان


loading...