لاک ڈاﺅن، ہائی ویز کی بندش، اپوزیشن کے پارلیمان سے اجتماعی استعفے، رہبر کمیٹی نے تجاویز کا اعلان کردیا

لاک ڈاﺅن، ہائی ویز کی بندش، اپوزیشن کے پارلیمان سے اجتماعی استعفے، رہبر ...
لاک ڈاﺅن، ہائی ویز کی بندش، اپوزیشن کے پارلیمان سے اجتماعی استعفے، رہبر کمیٹی نے تجاویز کا اعلان کردیا

  



اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے سربراہ اکرم درانی کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کے استعفیٰ کے مطالبے پر قائم ہیں اور اگر اس پر بات نہیں ہوتی تو رابطوں کا کوئی فائدہ نہیں ہے، اپوزیشن کی جانب سے آئندہ کے لائحہ عمل کیلئے لاک ڈاﺅن، استعفیٰ ، شٹر ڈاﺅن ہڑتال ، ہائی ویز کے ذریعے پورے ملک کو بلاک کرنے ، کسی ایک تاریخ کو پورے ملک میں ضلع کی سطح پراحتجاج کے آپشن کی تجاویز ہیں، ڈی چوک پر جانا زیر غور نہیں ہے۔

اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے سربراہ اکرم درانی نے رہبر کمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رہبر کمیٹی کے اجلاس میں مختلف تجاویز پیش ہوئی ہیں، سب لوگ اپنی اپنی جماعتوں کے پاس یہ تجاویز لے کر جائیں گے جس کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔ اجلاس میں لاک ڈاﺅن، استعفیٰ ، شٹر ڈاﺅن ہڑتال اور ہائی ویز کے ذریعے پورے ملک کو بلاک کرنے کے آپشن زیر غورآئے، کسی ایک تاریخ کو پورے ملک میں ضلع کی سطح پراحتجاج کیا جاسکتا ہے، ڈی چوک پر جانا زیر غور نہیں ہے۔

ایک سوال کے جواب میں اکرم درانی نے واضح کیا کہ استعفوں کے آپشن سے مراد تمام صوبائی اور قومی اسمبلی سے اپوزیشن جماعتوں کے استعفے ہیں، رہبر کمیٹی میں شامل 9 جماعتوں کے ارکان پارلیمان اجتماعی طور پر استعفے دے سکتے ہیں۔

جے یو آئی رہنما اکرم درانی نے کہا کہ وزیر اعظم کے استعفیٰ اور نئے انتخابات پر تمام جماعتیں متفق ہیں، استعفیٰ پر کوئی بات نہیں کرنی تو رابطوں کا کوئی فائدہ نہیں ہے، ہماری پہلی شرط ہی وزیر اعظم کا استعفیٰ ہے اور فوج کے بغیر نئے انتخابات کرائے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ غیر جمہوری قوتوں نے غیر آئینی اقدام کیا تو مزاحمت کریں گے، اگر موجودہ صورتحال سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کی گئی تو تمام سیاسی جماعتیں مل کر بھرپور مزاحمت کریں گے۔

اکرم درانی نے کہا کہ ہم ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کے ساتھ ہونے والے معاہدے پر قائم ہیں لیکن حکومت اس سے بھاگ گئی ہے۔

مزید : Breaking News /اہم خبریں /قومی


loading...