12 مردوں پر گینگ ریپ کا الزام لگانے والی لڑکی کی افسوسناک کہانی

12 مردوں پر گینگ ریپ کا الزام لگانے والی لڑکی کی افسوسناک کہانی
12 مردوں پر گینگ ریپ کا الزام لگانے والی لڑکی کی افسوسناک کہانی

  



لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) ایک برطانوی لڑکی سیاحت کے لیے قبرص گئی جہاں 12اسرائیلی مردوں نے اسے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بناڈالا لیکن پولیس نے الٹا اس لڑکی کو ہی مجرم قرار دے دیا۔ میل آن لائن کے مطابق یہ 19سالہ لڑکی اپنے ساتھ ہونے والی اس بربریت کے بعد پولیس کے پاس گئی جس نے تفتیش کے بعد یہ کہہ دیا کہ لڑکی نے ان مردوں پر جنسی زیادتی کا جھوٹا الزام لگایا ہے اور جھوٹا الزام لگانے کے الزام میں اسی کے خلاف مقدمہ درج کرکے اسے قبرص کے شہر لارنیکا کی ایک عدالت میں پیش کر دیا تاہم عدالت میں ماہرین نفسیات اور ڈاکٹروں نے بتایا ہے کہ لڑکی نے جھوٹ نہیں بولا تھا بلکہ وہ اس واقعے کے بعد شدید ڈپریشن اور ذہنی خلفشار کا شکار ہو چکی ہے۔

عدالت میں بتایا گیا کہ لڑکی کی ذہنی حالت ایسی ہو چکی ہے اور وہ اتنی خوفزدہ ہے کہ وہ تین تین دن تک سو نہیں پاتی۔ اس کے ذہن میں وہی آوازیں گونجتی رہتی ہیں اور اسے ایسا لگتا ہے جیسے ابھی اس کے کمرے میں بہت سارے مرد گھس آئیں گے اور اسے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بناڈالیں گے۔ عدالت میں بیان دینے والی ڈاکٹر کرسٹین ٹیزرڈ کا کہنا تھا کہ ”متاثرہ لڑکی پہلے ہی ڈپریشن کی ادویات لے رہی تھی۔ اس پر اس کے ساتھ یہ واقعہ ہو گیااور اب اس کی ذہنی حالت انتہائی ناگفتہ بہ ہے۔

واضح رہے کہ لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے والے اسرائیلی مردوں کی عمریں 15سے 22سال کے درمیان تھیں۔انہیں پہلے پولیس نے گرفتار کیا اور پھر بے گناہ قرار دے کر چھوڑ دیا اور لڑکی کے خلاف جھوٹا الزام لگانے اور دھوکا دینے جیسے الزامات کے تحت مقدمہ درج کرکے عدالت میں پیش کردیا۔ ان الزامات کے تحت لڑکی کو ایک سال تک قید کی سزا ہو سکتی تھی، تاہم برطانوی پریشر گروپ جسٹس ابروڈ (Justice Abroad)کے مداخلت کرنے پر لڑکی کا طبی معائنہ کیا گیا جس میں حقیقت سامنے آ گئی۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /برطانیہ


loading...