’مذہب کےنام پرڈیڑھ لاکھ افراد جمع کرنا مشکل نہیں،اگر تشدد ہوا تو ۔۔۔‘ سینئر صحافی کاشف عباسی نے حکومت کو خبردار کردیا

’مذہب کےنام پرڈیڑھ لاکھ افراد جمع کرنا مشکل نہیں،اگر تشدد ہوا تو ۔۔۔‘ ...
’مذہب کےنام پرڈیڑھ لاکھ افراد جمع کرنا مشکل نہیں،اگر تشدد ہوا تو ۔۔۔‘ سینئر صحافی کاشف عباسی نے حکومت کو خبردار کردیا

  



اسلام  آباد(ڈیلی پاکستان  آن لائن)معروف اینکر،تجزیہ کاراورسینئر صحافی کاشف عباسی نےکہاہےکہ مذہب کےنام پرڈیڑھ لاکھ افراد جمع کرنا مشکل نہیں ہے،اگر حکومت نے آزادی مارچ جلسہ کے شرکا کے خلاف تشدد کا راستہ اختیار کیا تو یہ اپوزیشن کے حق میں جائے گا جو حکومت کی بڑی غلطی ہو گی۔

نجی ٹی وی  ’’ہم نیوز‘‘ کے پروگرام میں سینئر صحافی اور تجزیہ کار کاشف عباسی نے کہا کہ مذہب کےنام پرڈیڑھ لاکھ افراد جمع کرنا مشکل نہیں ہے،مذہبی جماعت کے احتجاج اورسیاسی جماعت کے احتجاج میں بہت فرق ہوتا ہے،مذہب کی بنیاد پر فیصلے نہیں ہونے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹے میں ایک تبدیلی آئی ہے,مولانا فضل الرحمان اب ڈی چوک جانے کی بھی بات کررہے ہیں، اگر حکومت نے تشدد کا راستہ اختیار کیا تو یہ حزب اختلاف کے حق میں جائے گا جو حکومت کی غلطی ہو گی لیکن اگر مولانا فضل الرحمان ڈی چوک گئےتو ان کا احتجاج کمزور ہو سکتا ہے اور حکومت پھرکوئی  سخت اقدام بھی کر سکتی ہے۔انہوں نےکہاکہمولانا فضل الرحمان کےجلسے سےحکومت جائے گی نہیں لیکن اسےپریشان ضرورہونا چاہے،مولانا فضل الرحمان کو اگلے لائحہ عمل کے لیے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی بہت ضرورت ہے۔کاشف عباسی نے کہا کہہماری سیاست میں منافقت موجود ہے، جب بھی کوئی نئی حکومت آتی ہے تو اپوزیشن جماعتیں   ایک سال بعد ہی حکومت گرانے میدان میں آ جاتی ہیں جس کی کوئی بڑی وجہ بھی نہیں ہوتی،اس ملک میں اور انتخابی معاملات میں مسائل موجود ہیں جو ہر انتخابات میں ہی ہوتے ہیں لیکن کیا ہر بار ایسا ہی ہوتا رہے گا؟یہ حکومت کو مزید کمزور کر دے گا۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد


loading...