اردو شاعری اور اقبال

اردو شاعری اور اقبال
اردو شاعری اور اقبال

  

جس طرح ہر چیز کی کئی قسمیں ہوتی ہیں اسی طرح شاعروں کی بھی  ہیں۔ جیسا  ہم جانتے ہیں کہ کچھ تو بائیں بازو کے شاعر ہیں جبکہ کچھ دائیں بازو کے شاعر ہوتے ہیں کچھ شاعر بازووں کے بغیر ہی ہوتے ہیں جو صرف "پیر" ہی مارتے ہیں اور پھر شعری تکنیک سے میدان مار لیتے ہیں۔ چند شاعر ہاتھ پیر دونوں مارتے ہیں اور ہاتھ پیر تڑوا بیٹھتے ہیں  پھر بیٹھ کر خوب نثری نظمیں لکھتے ہیں یہ بھی نثر اور نظم کا خوبصورت امتزاج ہے۔ خوبصورتی شاعری کا بنیادی موضوع ہے۔ خیر شاعری کام ہے مرصع ساز کا۔ اینٹ سے اینٹ جوڑنا پڑتی ہے اور اوپر سے فن کے سیمنٹ سے پلستر کرکے موسیقیت کا رنگ روغن لگانا بھی شرط ہے۔ ایسے تو نہیں کہ سامعین ایک ایک شعر پر سر دھننا شروع ہوجاتے ہیں۔ ہر عمل کا ردعمل ہوتا ہے۔ شاعر کے سر کھپانے سے قاری سر دھنتا ہے، جس سے ہر دور کے لوگ برابر متاثر ہوتے ہیں 

شعر ہے دراصل وہی حسرت

 سنتے ہی دل میں جو اتر جائے

تحریک اردو ادب کے طالبعلم اس بات سے آگاہ ہیں کہ ہندوستان کے معروف شاعر ولی دکنی کو کئی سال تک اردو ادب کا پہلا شاعر مانا جاتا رہا پھر امیر خسرو کے حق میں قرعہ فال نکلا اور اب سعد سلیمان مسعود کو اردو ادب کا پہلا شاعر مانا جاتا ہے۔ کہتے ہیں کہ ولی دکنی دکن کے اہم شاعروں میں شمار کئے جاتے تھے اور وہ ایک دفعہ دہلی تشریف لائے۔ دہلی ہمیشہ سے ہی علم و ادب کا مرکز رہا ہے اور وہاں انہوں نے اپنے یہ اشعار سنائے

تم مکھ ستی کھولو نقاب آہستہ آہستہ

 وہاں ان کی ملاقات ایک بزرگ شاعر سعد اللہ گلشن سے ہوگئی اور انہوں نے ولی دکنی کو مشورہ دیا کہ اگر آپ اردو شاعری کرنا چاہتے ہیں تو  فارسی زبان کے استاد شعرا سے استفادہ کریں جو کہ ازاں بعد انہوں نے کیا اور انہوں نے شاعری کا میدان مار لیا ویسے بھی شاعری میں طنز و مزاح اور حسن و جمال کے تیرمارنا پڑتے ہیں تیروں تیروں میں فرق ہوتا ہے جیسے جنگی تیروں سے بندہ زخمی ہوتا ہے بلکہ مر بھی سکتا ہے اسی طرح طنز و مزاح اور حسن و جمال کے تیروں سے محض بندہ بے عزت ہوتا ہے ۔محبوب اور شاعری کا بھی چولی دامن کا ساتھ ہے اگر محبوب کو زندگی کے لباس سے ملبوس کر دیا جائے تو بامقصد شاعری تخلیق ہوجاتی ہے

ہر چند ہو مشاہدہ حق کی گفتگو

بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر

اردو ادب کا دامن یوں تو بے شمار چوٹی کے شاعروں سے مزین ہے مگر اسداللہ غالب اور علامہ محمد اقبال سب پر غالب ہیں شاید انہوں نے فارسی کے استاد شعرا سے استفادہ کیا ہے یہی وجہ ہے کہ ان کا فارسی کا کلام بھی ادبی لحاظ سے منفرد ہے۔ خیر میں آج خصوصا بات علامہ محمد اقبال پر کرنا چاہتا ہوں۔ وہ 9نومبر 1877 کو سیالکوٹ میں شیخ نور محمد کے گھر پیدا ہوئے اور 21 اپریل 1938 کو لاہور میں وصال فرمایا ان کی نماز جنازہ مولانا غلام مرشد نے پڑھائی اور بادشاہی مسجد کی سیڑھیوں کے پاس ان کا مزار ہے وہ ہمارے قومی شاعر تو ہیں ہی وہ نظریہ پاکستان کے  خالق بھی ہیں۔ فلسفیوں کی صف میں بھی ان کا قد بڑا ہی نمایاں ہے۔ بیشمار فارسی اور اردو کتابوں کے مصنف ہیں جن میں "اسرار خودی"، "بال جبرئیل"، "بانگ درا"، "ضرب کلیم"، "زبور عجم"، "جاوید نامہ" شامل ہیں۔ مسلم لیگ کے پلیٹ فارم پر نمودار ہوئے تواس سیاسی جماعت کا قبلہ درست کر گئے اور پھر یہی جماعت پاکستان کی خالق  جماعت بھی بن گئی۔ ایسے ہی تو  قیام پاکستان کے موقعہ پر قائد اعظم محمد علی جناح نے نہیں فرمایا تھا کہ کاش آج علامہ اقبال زندہ ہوتے تو یہ دیکھ کر خوش ہوتے کہ ان کا خواب آج شرمندہ تعبیر ہو گیا ہے۔ اس طرح ان کے کئی تعارف ہیں۔ آج بات ان کی شاعری کے حوالے سے کی جائیگی یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ شاعر بڑے ہی حساس ہوتے ہیں علامہ اقبال کا زمانہ ہر لحاظ سے بڑا ہی اہم تھا۔ انگریز مغلوں کی حکومت ختم کر کے ہندوستان پر مکمل طور پر قابض ہو چکے تھے۔ ہندو آزادی ضرور چاہتے تھے لیکن درحقیقت ہندو راج قائم کرنے کے لئے مسلسل ہاتھ پاوں مار رہے تھے۔

ہندوستان کے مسلمان اقلیت میں ہونے کی وجہ سے انتہائی خوفزدہ اور متفکر تھے۔ غیر مسلم قوتوں کی طرف سے  اسلام پر تابڑ توڑ حملے شروع ہو گئے تھے۔ اسلام مخالف قوتیں فرقہ واریت کی حوصلہ افزائی کر رہی تھیں۔  غلام احمد قادیانی اور غلام احمد پرویز نے ختم نبوت اور احادیث مبارکہ کو نعوذ باللہ متنازعہ بنانے کی ناپاک سازش کردی تھی۔ کارل مارکس کے نظریہ کمیونزم نے بھی دنیا میں استحصال کے خلاف آواز اٹھا کر اپنا ایک مقام بنا لیا تھا وغیرہ وغیرہ۔ یہ وہ منظر تھا جس میں مایوسی اور ناامیدی نے مسلمانوں کا مورال بالکل ہی ڈاون کردیا تھا اور اسلام کی نشاہ ثانیہ بلکہ غلبہ دین کی منزل بہت دور ہو گئی تھی۔ ایسے ماحول میں شاعر جو کہ ارد گرد کے ماحول سے متاثر ہوتا ہے اس کا علامہ محمد اقبال کے روپ میں نمودار ہونا فطری امر تھا علامہ محمد اقبال کی شاعری میں ورائٹی ہے۔ آپ کواس میں حسن و جمال کی جھلک تو ملے گی ہی آپ ان کی شاعری میں معیشت، سیاست، مذہب، تصوف، سوشل ازم۔ بین الاقوامیت، عشق، فقر، استغنا، فلسفہ، تاریخ،جمہوریت، ملوکیت، زمان و مکان جیسے بیشمار موضوعات دیکھیں گے۔ علامہ اقبال سے پہلے غزل کے دامن میں صرف حسن اور عشق کے پھول  تھے  علامہ نے اس کے دامن اور اس کی مانگ کو ان گنت موتیوں سے بھردیا اور ادائیگی میں مضامین کو فوقیت دی اور اس سلسلے میں غزل کی تکنیکی حدود کو بھی وسیع کر کے شعر و ادب کی دنیا ئے روایت کے بتوں کو پاش پاش کر دیا اقبال نے ہر اس چیز کے خلاف آواز اٹھائی جو اس کو دنیا کی خوبصورتی میں بے ڈھنگی اور بے ترتیب لگی پھر انہوں نے نہ صرف آواز اٹھائی بلکہ اس مرض کا علاج بھی تجویز کیا۔

اپنے عہد میں ہونے والی بحث و تمحیص میں بھرپور شرکت کی اور دنیا کو اچھوتے اور منفرد خیالات سے بہرہ ور فرمایا۔ مایوس مسلمان کا شکوہ اور پھر جواب شکوہ لکھ کر مورال بلند کیا اور سوچ میں پختگی پیدا کی۔ نوجوانوں کو جھپٹنے اور پلٹنے کا ڈھنگ سکھا کے تسخیر کائنات کے سفر پر روانہ کیا۔ تصور مرد مومن سے انسان میں اس کی باطنی قوت کا شعور پیدا کیا۔ فلسفہ خودی سے مسلمان میں خود اعتمادی،جرات اور پامردی پیدا کرنے کی سعی جمیلہ کی۔ "خضرراہ" اور "طلوع اسلام" جیسی نظمیں تخلیق کر کے بھٹکے ہوئے آہو کوسوئے حرم جانے کا ڈھنگ سکھایا۔ نان جویں اور بازوئے حیدر کا تعلق بتا کر نادار لوگوں کا حوصلہ بلند کیا۔ مولانا روم کے دست حق پرست پر تخیلاتی غائبانہ بیعت کر کے اپنے کلام میں روحانی طاقت پیدا کی اور پھر عقابوں کے نشیمن پر قابض ضاغوں کے تصرف کی نشاندہی کی۔ اسلام اور تصوف میں پائی جانے والی خرافات کے خلاف بھی پرزور آواز اٹھائی۔ بے شمار شہرہ آفاق نظمیں تخلیق کر کے نوجوان نسل کی تعلیم و تربیت کی۔   وہ محض شاعری برائے شاعری نہ کرتے تھے بلکہ ان کو اپنی منزل کا پتہ تھا اور منزل پر پہنچنا ان کا خواب تھا اور یہ خواب 14 اگست 1947 کو شرمندہ تعبیر ہوگیا۔ ان کی تعلیمات آج بھی اصلی حالت میں موجود ہیں اور ہم سب کیلئے دعوت فکر ہے کہ ہر شخص کو ملکی ترقی و استحکام میں اپنے حصے کا کام کرنا ہے۔

زیارت گاہ اہل عزم و ہمت ہے لحد میری

کہ خاک راہ کو میں نے بتایا راز الوندی

مزید :

رائے -کالم -