فن کاروں سے بے اعتنائی

 فن کاروں سے بے اعتنائی
 فن کاروں سے بے اعتنائی

  

دونوں نام جنرل ایوب خان کیلئے اجنبی تھے مگر وہ نہرو کے سامنے صرف مسکراتے رہے جہاز میں بیٹھتے ہی ایوب خان نے بھٹو سے پوچھا یہ سلامت علی خان اور نزاکت علی خان شام چوراسی والے کون ہیں ……..؟

بھٹو نے دونوں کا تعارف کرایا اور بتایا کہ دونوں بھائی لمحہ موجود میں کلاسیکل گائیکی کے تان سین ہیں ہندوستان کے شہر شام چوراسی سے تعلق رکھتے ہیں قیام پاکستان کے بعد ہجرت کر کے یہاں آ گئے پہلے کچھ عرصہ ملتان اور  آج کل لاہور کے علاقے سمن آباد میں رہتے ہیں ایوب خان نے بھٹو سے کہا انہیں کسی دن ایوان صدر میں بلائیں بس پھر کیا تھا بھٹو لاہور کے علاقے سمن آباد پہنچ گئے اور ایوان صدر میں فن موسیقی کی محفل کا دعوت نامہ دیا ایوب خان نے اس موقعہ پر چند ایسے لوگوں کو بھی محفل میں شرکت کا حکم دیا جو کلاسیکل موسیقی کے اسرار و رموز سے واقفیت رکھتے ہوں سو ایسے چند لوگ بھی محفل میں بٹھا دیے گیے اسی محفل میں نواب کالا باغ نے اچانک داد دینا شروع کی تو ماہرین موسیقی حیران رہ گئے کہ یہ کون سا موقع تھا داد دینے کا مگر بعد میں معلوم ہوا کہ نواب صاحب کی آنکھ لگ گئی تھی اور اچانک آنکھ کھلنے پر انہیں ایسا لگا کہ جیسے وقت داد ہوا چاہتا ہے اس محفل میں ایوب خان اور دونوں بھائیوں کے درمیان خاصی بے تکلفی بھی ہوگئی اور ایوب خان نے دونوں بھائیوں سے کہا آپ واقعی بے مثال فنکار ہیں مگر میں ہزارے کا پٹھان ہوں مجھے کلاسیکی موسیقی کی کچھ سمجھ بوجھ نہیں ہے البتہ خواجہ فرید کی کوئی کافی سنائیں تو میں بھی کچھ داد دینے والا بنوں دونوں بھائی خواجہ فرید کی کافیاں بھی کمال گاتے تھے ایوب خان خواجہ کے رنگ میں کیا دونوں بھائیوں کے انگ میں بھی رنگے گئے نام دانستہ نہیں لکھ رہا

کس نے بتایا مگر شام چوراسی خاندان کے ایک ذمہ دار فرد نے بتایا کہ ایوب خان کا دونوں بھائیوں کو اہمیت دینا بھٹو کو اچھا نہ لگا اور پھر انہوں نے دونوں بھائیوں کے فنی سفر کو سرکاری اداروں کے ذریعے آگے بڑھنے پر غیر اعلانیہ پابندی لگا دی خدا جانے اس بات میں کتنی صداقت ہے مگر یہ حقیقت ہے کہ اسی دور میں حکومتی سطح پر  فن موسیقی سے وابستہ لوگوں کے لیے آسانیوں کے دروازے کھلے  انعامات اور ایوارڈ کے سلسلے شروع ہونے اور بھٹو نے تو بہت زیادہ کام کیا  مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ ہمارے ملک میں زمانہ امن یا جنگ فنکاروں کے فن سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے آپ کسی طور پر بھی ملکہ ترنم نور جہاں مہدی حسن مسعود رانا شوکت علی امانت علی خان اور لاتعداد فنکاروں کے گاے ہوئے ملی نغمے فراموش نہیں کر سکتے آج بھی ان نعموں کے بغیر قوم میں ترنگ پیدا نہیں ہوتی آج بھی یہ نغمے سن کے قوم وطن کیلئے جان ہتھیلی پر رکھنے کیلئے جوش میں آجاتی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ قوم کا بچہ بوڑھا جوان سپاہی بن کے محاذ پہ کھڑا ہے مگر بدقسمتی کی بات ہے ملک میں فن اور فنکاروں کے سرکاری ادارے تباہ وبرباد ہوچکے ہیں پاکستان ٹیلی ویڑن اور ریڈیو پاکستان دو ایسے ادارے ہیں جو فنکاروں کیلئے آمدن کے سب سے بڑے ذرائع تھے فلم انڈسٹری نے بھی  فنکاروں کے لیے بہت آسانیاں پیدا کیں فنکاروں نے بھی اس کے ذریعے جہاں اپنے بچوں کے لیے روٹی رزق کمایا وہاں پاکستان کے کلچر کو بھی دنیا بھر میں نمایاں کیا مگر اب ہر ادارہ تالہ بندی کا شکار ہے حکومتی سرپرستی نہ ہونے کی وجہ سے یہ ادارے شدید قسم کے مالی بحران کا شکار ہیں جس سے فنکار برادری خاصی پریشان ہے سابق وزیراعظم نواز شریف نے ان اداروں کے لئے حکومتی سرپرستی کی پی ٹی وی کے اس وقت کے چیرمین عطاء  الحق قاسمی نے پی ٹی وی کے بہت سے نئے پروگرامز شروع کراے جس سے سکرین ایک بار پھر جگمگا اٹھی اور فنکاروں کے چہرے کھل اٹھے شہباز شریف نے فن کاروں کی ویلفیئر کے لئے ایک فنڈ قایم کیا۔فنکار ویلفیئر فنڈ کے ذریعے امداد کا ایک اچھا سلسلہ شروع کیا۔

ان کے جانے کے بعد عمران خان اقتدار میں آئے جن کے بارے میں خیال تھا کہ یہ ایک لبرل آدمی ہیں اور شوکت خانم ہسپتال فنڈ کی مہم میں چھوٹے سے چھوٹے اور بڑے سے بڑے فنکار نے ان کا بہت ساتھ دیا جن میں نصرت فتح علی خان مرحوم دلدار پرویز بھٹی مرحوم اور شوکت علی نے نمایاں خدمات پیش کیں عطاء  اللہ عیسی خیلوی نے بھی چند شو کئے امید تھی کہ ان کے آنے سے فنکار ویلفیئر فنڈ میں اضافہ کیا جائے گا اور فنکاروں کو ہر ماہ باقاعدہ امداد ملتی رہے گی مگر دوسالہ دور حکومت میں یہ امداد بھی تقریباً بند ہی ہے کورونا کے مشکل ایام میں چند فنکاروں کو بیس بیس ہزارروپے دیے گیے مگر سات مہینے ہونے کو آئے ہیں کسی کو ایک آنہ نہیں ملا بلکہ ہر تین ماہ بعد اعلان کیا جاتا ہے کہ فنکار نئے سرے سے درخواست دیں تاکہ امداد دی جائے اور پھر تین چار ماہ بعد امداد دینے کے بجائے پھر درخواستیں طلب کی جاتی ہیں اس حوالے سے فنکار برادری میں یہ لطیفہ مشہور ہوچکا ہے کہ حکومت ہر تین ماہ کے بعد درخواستوں کا صرف اس لئے کہتی ہے  تاکہ اندازہ لگایا جا سکے کہ کتنے فنکار مرکھپ گئے ہیں۔

فنڈ کے معاملے کی صورت حال تو اپنی جگہ مگر جس طرح کی لاپرواہی اور بے نیازی وفاقی اور پنجاب حکومت نے دکھائی ایسی کبھی کسی حکومت نے نہیں دکھائی شوکت علی پنجاب کے بڑے گلوکار ہیں ملک میں اورملک سے باہر لاکھوں لوگ ان کے مداح ہیں انہوں نے میاں محمد بخش کا کلام ہی نہیں  ملک کے لیے بھی لاتعداد ملی نغمے گائے، خود عمران خان شوکت خانم ہسپتال کے لئے اندرون ملک اور بین الاقوامی سطح پر اپنی خدمات پیش کیں، مگر جگر کی پیچیدہ بیماری میں مبتلا اس عظیم فنکار کے لئے وفاقی یا پنجاب حکومت نے کوئی مدد نہ کی یہ تو بھلا ہو پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری کا جنہوں نے پنجاب کے اس عظیم گلوکار کو کراچی بلایا اور ان کا علاج شروع کرایا کافی دنوں بعد چیف آف آرمی سٹاف نے شوکت علی کو سی ایم ایچ میں داخل کروانے کا حکم دیا جہاں ان کا علاج ہورہا ہے مگر پنجاب حکومت اور وفاقی حکومت نے ابھی تک اس عظیم فنکار کے لئے ایک پھولوں کا ایک گلدستہ بھجوانا بھی ضروری نہ سمجھا جو  افسوس کی بات ہے جس پر پوری فنکار برادری افسردہ ہے گزارش مجھے یہ کرنی ہے کہ حکومت پنجاب اور وفاق فنکاروں کے ساتھ نرم دلی کا مظاہرہ کریں ان کے لیے امداد کا بندوبست نہیں کرسکتے تو نہ کریں لیکن کم از کم ثقافتی اداروں کو تو فنڈ مہیا کریں تاکہ فنکار برادری بھی اپنے بال بچوں کا رزق کمانے کے قابل بنے۔

مزید :

رائے -کالم -