لیبر پارٹی نے برطانوی بینکنگ نظام پر نصب العین واضح کردیا

لیبر پارٹی نے برطانوی بینکنگ نظام پر نصب العین واضح کردیا
لیبر پارٹی نے برطانوی بینکنگ نظام پر نصب العین واضح کردیا

  

لندن (بیورورپورٹ) برطانیہ کی لیبر پارٹی کے لیڈر ایڈ ملی بینڈ نے کہا ہے کہ بنکوں نے اپنے ریٹیل اور سرمایہ کاری کے شعبوں کو الگ الگ نہ کیا تو مستقبل کی لیبر حکومت انہیں دو حصوں میں توڑ دے گی۔ ملی بینڈ نے کہاکہ روایتی برٹش بینکنگ کی جانب سے واپسی کی ضرورت ہے جس میں بنک بین الاقوامی مارکیٹوں کی نہیں بلکہ صارفین کی خدمت کرتے تھے۔ دوسری جانب ٹریژری کا کہنا ہے کہ بینکار ی نظام میں غیر معمولی اصلاحات کی جارہی ہیں۔گزشتہ سال مالیاتی بحران کے پس منظر میں سامنے آنے والی بینکنگ پر وائیکرز رپورٹ میں سفارش کی گئی تھی کہ بینکوں کو دو حصوں میں تقسیم کردیا جائے گا اور ہائی سٹریٹ سائیڈ کو خطرناک سرمایہ کاری سائیڈ سے الگ کردیا جائے گا ۔مخلوط حکومت پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ سرجان وائیکرز کی سفارشات پر 2019 ءمیں عمل درآمد کیا جائے گا لیکن لیبر پارٹی کا کہنا ہے کہ اگر اس نے 2015 ءکے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرلی اور بڑی تبدیلیاں نہ ہوئیں تو وہ اس سلسلے میں قانون سازی کرے گی ۔ ایسے میں جب لیبر پارٹی کانفرنس مانچسٹر میں شروع ہوچکی ہے، ایڈملی بینڈ نے کہا کہ وہ برطانیہ کو ایسا ملک دیکھنا چاہتے ہیں جہاں ایک چھوٹا بزنس اور ایک تنہا فرد جب اپنے ہائی سٹریٹ بینک میں جائے تو اس کا خیال ہو کہ بینک ان کے لئے کام کر رہا ہے اور ان کی رقم کے ساتھ بین الاقوامی مارکیٹ میں جوا نہیں کھیل رہا ۔انہوں نے کہا کہ وہ بینکرز بونسوں پر ٹیکس لگا کر 2 ارب پونڈ جمع کرنے کی حمایت کرتے ہیں تاکہ اس رقم سے نوجوانوں کے لئے روزگار اور رہائش فراہم کی جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ لیبر پارٹی کانفرنس کا نعرہ ری بلڈنگ برطانیہ ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -