پاکستان سیمی فائنل میں پہنچ گیا اور ’شریکاں نوں اگ ‘ لگ گئی ۔۔۔

پاکستان سیمی فائنل میں پہنچ گیا اور ’شریکاں نوں اگ ‘ لگ گئی ۔۔۔
پاکستان سیمی فائنل میں پہنچ گیا اور ’شریکاں نوں اگ ‘ لگ گئی ۔۔۔

  

محمد نواز طاہر (گلوبل پِنڈ ) پاکستان اور بھارت میں کئی گہرے رشتے ہیں جن میں ختم نہ ہونے والی ” دشمنی“ سرفہرست، کرکٹ میچوں کی جنگ دوسرے نمبر پر جبکہ دونوں ملکوں کے عوام میں پرانی رشتہ داریاں تیسری پوزیشن پر ہیں۔ کئی رشتے دار تیسری چوتھی نسل میں مل رہے ہیں جبکہ کچھ یہ ارمان دل میں لئے دنیا سے رخصت ہو گئے۔ کرکٹ واحد رشتہ ہے جس پر کبھی آنچ نہیں آئی، بھارتی ٹیلی ویژن چینل اور فلمیں بھرپور کوشش کے باوجود کرکٹ جیسا مقام حاصل نہ کر سکیں، اس طرح پاکستان اور بھارت مستقل ” شریک“ ہیں اور ” شریکا“ دونوں ملکوں میں ویسے بھی اہم کردار اور اہمیت کا حامل ہے، خصوصی طور پر ”شریکا“ منفی تصور رکھتا ہے حالانکہ اس سے قریبی خونی رشتہ بھی کوئی نہیں ہوتا۔ پچھلے ہفتہ یعنی ستمبر بھی اس ” شریکے“ کی ”جنگ“ کے ساتھ ختم ہوا جس میں ایک شریک نے دو شریکوں میں محبت کی بڑھتی ہوئی پینگوں کے دوراندوسرے سے ہار گیا ، اب کامیابی بھارت کو ہوئی جس پر دوسرے فریق کی طرف سے کوئی قابل ذکر ردعمل سامنے نہیں آیا۔ ایسے لگتا تھا کہ©’ کھیر‘ ہضم ہو گئی اور اگلے میدان کی تیاری ہے کیونکہ پاکستان کے پاس اس میدان میں کھڑے رہنے کا ایک موقع موجود تھا اور بھارت شکست کی صورت میں باہر ہو جاتا۔اس میچ کو شکست کے باوجود سپورٹس مین سپرٹ کے ساتھ’ دوستی کی فتح ‘قرار دیا گیا۔ اب دنیا ان ” شریکوں“ کی جنگ کی اگلی ممکنہ جنگ کی منتظر تھی جو اسی صورت میں ممکن تھا کہ دونوں سیمی فائنل کیلئے کوالیفائی کریں اور اگلے میچ جیت کر فائنل میں ” عالمی“ جنگ کیلئے میدان میں اتریں لیکن حالات نے دونوں کو ایسے دوراہے پر لا کھڑا کیا کہ ان میں سے کوئی ایک بچ سکتا تھا ۔ اس مرحلے پر ایک طرف کھیل کے ساتھ” اللہ اللہ“ تودوسری جانب ”رام رام “شروع ہو گیا۔ اللہ اللہ کر کے پاکستان نے آسٹریلیا کو چٹ کر دیا۔ دوسری جانب” رام رام‘ کام کرنے والے رام رام ہی کرتے رہے اور بھارت جنوبی افریقہ کوچت کو کر کے بھیٹورنا منٹ سے باہر ہو گیا۔ اللہ اللہ اور رام رام کی جیت تو ہو گئی مگر ”شریکوں“ کی’ جنگ‘ نہ ہو سکی۔ اس طرح اقوام متحدہ کی عالمی امن کی کوششیں دنیا کے ہر خطے میں ناکامی کے بعد آخر کار کولمبو کے سٹیڈیم میں کامیاب ہو گئیں۔ اب ایک شریکوں کا ایک دھڑا لال پیلا اور آگ بگولا ہے۔۔۔۔ رام رام کرنے والے’ دھونیاں دُکھا ‘ رہے ہیں اور آنسو بھی بہا رہے ہیں ، اس دھویں سے ہر طرف آگ لگی ہوئی ہے ۔اسے کہتے ہیں ”شریکاں نوں اگ لگ گئی“۔۔۔ کرکٹ کے شائقین کا کہنا مگر ایک بات کا بھارت کو یہ تو بہر حال ادارک کرنا ہو گا کہ ہم نے تو یہاں ’آخری جنگ‘ لڑنے کیلئے دوستی بھی خوب نبھائی تھی ۔ ۔ ۔ ۔

مزید :

بلاگ -