حضرت پیر سید شبیر حسین شاہ ؒ حافظ آبادی

حضرت پیر سید شبیر حسین شاہ ؒ حافظ آبادی
 حضرت پیر سید شبیر حسین شاہ ؒ حافظ آبادی

  

                                        خطیب الاسلام حضرت پیر سید شبیر حسین شاہؒ حافظ آبادی کی لازوال خطابت کا ڈنکا قریباً 40برس تک نہ صرف ملک کے طول و عرض میں بجتا رہا، بلکہ بیرونی ممالک میں بھی آپؒ کی مسحور کن آواز عشاقانِ رسول کے قلوب کو منور کرتی رہی۔ واقعہ کربلا کے منفرد انداز بیان نے آپ کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ ملک کے پسماندہ اور دور دراز علاقوں کی ایسی کچی جھونپڑیاں، جہاں پر پانی و بجلی جیسی سہولتیں بھی نظر نہ آتیں، وہاں پر بھی آپؒ کی جادو بھری آواز کی خوشبو ماحول کو معطر کرتی دکھائی دی حضرت پیر سید شبیر حسین شاہؒ حافظ آبادی تادمِ زیست مجلس تاجدار ختم نبوت پاکستان کے مرکزی امیر اور جمعیت علمائے پاکستان کے سینئر نائب صدر رہے۔ واقعہ کربلا کوا ٓپؒ نے ایسے پُر سوز انداز میں پیش کیا جس سے دُنیا بھر میں پھیلے فرزندان توحید کی آنکھوں سے آنسوﺅں کا نہ تھمنے والا ایک سیلاب شروع ہوا۔ جو قیامت تک لاکھوں کروڑوں انسانوں کو نواسہ رسول کے غم اور محبت اہل بیت میں تڑپاتا رہے گا۔

 پیر سید شبیر حسین شاہؒ حافظ آبادی 6جنوری 1948ءکو گوجرانوالہ کے قصبہ منڈیالہ تیگہ میں آفتاب ولایت پیر سید نواب علی شاہؒ کے ہاں پیدا ہوئے۔ سکول کی ابتدائی تعلیم کے بعد آپؒ دارالعلوم سراج العلوم گوجرانوالہ میں داخل ہوئے۔ جس کے بعد آپؒ نے جامعہ محمدیہ رضویہ بھکھی شریف سے درس نظامی کی تکمیل کی۔ ان مدارس میں آپؒ کو بلند پایہ اور نابغہ روزگار اساتذہ سے کسب فیض کے مواقع میسر آئے۔ درس نظامی کی تکمیل کے بعد آپؒ نے خطابت کا باقاعدہ آغاز 1967ءمیں گوجرانوالہ شہر سے کیا۔ پھر آپؒ 1972ءمیں حافظ آباد تشریف لے آئے، جہاں آپ نے مرکزی جامع الفاروق سے عام خطباءو واعظین کے برعکس منفرد انداز میں خطابت اور تبلیغ دین کا آغاز کیا ۔ آپؒ کی سحر انگیز اور مسحور کن آواز کی وجہ سے ہزاروں عاشقان رسول یہاں مستانہ وار آ کر اپنی روحانی پیاس بجھانے لگے۔

پیر سید شبیر شاہؒ حافظ آبادی ایک سچے عاشق ِ رسول اور ہمہ وقت محبت رسول میں کھوئی رہنے والی شخصیت تھے۔ جب بھی محبوب کریم کا تذکرہ ہوتا تو آپؒ کی آنکھوں سے آنسوﺅں کی جھڑی لگ جاتی اور اکثر رقت طاری ہونے کے بعد آپؒ کی ہچکی بند جاتی۔ حضرت پیر سید شبیر حسین شاہؒ حافظ آبادی کو مختلف سلاسل کی جانب سے خلافت بھی عطا کی گئی، لیکن آپؒ نے ملک اور بیرون ملک میں ہزاروں کی تعداد میں مریدین ہونے کے باوجود پیری مریدی کو ذریعہ روزگار نہ بنایا، بلکہ ساری عمر آپؒ نام نہاد ، جاہل اور بزنس کرنے والے پیروں پر ننگی تلوار کی طرح برستے رہے۔

خطیب الاسلام پیر شبیر حسین شاہؒ نے 1974ءکی تحریک ختم نبوت اور 1977ءکی تحریک نظام مصطفے میں بھی مجاہدانہ کردار ادا کیا۔ اس دوران آپؒ کے پاﺅں میں ذرہ بھر میں لغزش نہ آئی۔ آپؒ تادم زیست ملک کی بڑی بڑی خانقاہوں اور اہلسنت کے معروف مدارس کی تقریبات کی رونق بنے رہے۔ ان تقریبات میں جہاں آپؒ کا خطاب ہوتا، ہزاروں، لاکھوں سامعین آپؒ کی راہوں میں کھڑے ہو کر کئی کئی گھنٹے آپؒ کا انتظار کرتے۔ انہوں نے تبلیغ دین اور اشاعت اسلام کے سلسلہ میں امریکہ، یورپ اور مشرق وسطی سمیت درجنوں ممالک کے تبلیغی دورے کئے۔ جہاں آپؒ کی تبلیغ سے متاثر ہو کر کثیر تعداد میں غیر مسلم حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔ امریکہ میں کئی بار آپؒ نے عید میلاد النبی کے جلوس کی قیادت کی۔ ایک بار امریکہ کی ریاست نیو جرسی میں وہاں کے میئر نے آپؒ کی شخصیت اور فن خطابت سے متاثر ہو کر آپؒ کو Key of New Jersy Cityاور تعریفی سرٹیفکیٹ سے نوازا۔

خطیب الاسلام اگرچہ 1972ءسے ہی جے یو پی سے وابستہ چلے آ رہے تھے، لیکن آپؒ نے 1988 میں پہلی بار حافظ آباد کے حلقہ پی پی 79سے پاکستان عوامی اتحاد کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا۔ اس کے بعد آپؒ نے 2بار جے یو پی کے کوٹے سے مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر شیر کے نشان کے ساتھ الیکشن لڑے۔ آپؒ نے 1993ءکے انتخابات میں میاں محمد نواز شریف کی درخواست پر ان کے ساتھ کئی انتخابی جلسوںمیں بھی حصہ لیا۔ ملک میں جب خودکش حملوں کے ذریعے معصوم اور بے گناہ لوگوں کو ہلاکتوں کا نشانہ بنایا جانے لگا تو آپؒ نے 2009ءمیں کنونشن سنٹر اسلام آباد میں چیئرمین سنی اتحاد کونسل صاحبزادہ حاجی محمد فضل کریم کی قیادت میں علماءو مشائخ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے نہ صرف خودکش حملوں کو حرام قرار دیا بلکہ کالعدم تنظیموں کے خلاف کریک ڈاﺅن کا اس جارحانہ انداز میں مطالبہ کیا کہ آپؒ کو دہشتگردوں کی جانب سے سنگین نتائج کی دھمکیاں ملتی رہیں۔ لیکن آپؒ ان دھمکیوں سے کبھی مرغوب نہ ہوئے۔

پیر سید شبیر حسین شاہؒ کو مطالعے کا وسیع ذوق و شوق تھا۔ آپؒ کے دارالمطالعہ میں ہزاروں کی تعداد میں نایاب کتب موجود ہیں۔ اسی مطالعے کا نتیجہ تھا کہ آپؒ نے قرآن پاک کی تفسیر کے ساتھ ساتھ شرح بخاری شریف سمیت کئی کتب تحریر کیں۔ ملک کی بڑی بڑی خانقاہوں کے سجادہ نشین اور پیرانِ عظام خطیب الاسلام کا نہ صرف دلی احترام کرتے،بلکہ ان کی شخصیت پر ناز بھی کرتے۔ اہلسنت کا کوئی مرکزی اسٹیج ایسا نہ ہوتا، جہاں پر آپؒ کو مدعو نہ کیا جاتا ۔ وفات سے کچھ ماہ قبل آپؒ نے محدث اعظم پاکستان کے فیصل آباد میں منعقدہ سالانہ عرس پاک کے موقع پر خطاب کے دوران فرمایا کہ اس سٹیج پر یہ میری آخری تقریر ہے۔ پھر رحلت سے پہلے فرمانے لگے کہ جب مجھے موت آئے گی تو گلیاں بازار بند ہو جائیں گے۔ ہر سو میرے انتقال کا شور مچ جائے گا۔ میرے جنازہ کو کندھا تو کجا جو ہاتھ بھی لگا لے گا، وہ غنیمت سمجھے اور ساتھ یہ شعر پڑھنے لگے:

اکھاں جدوں میٹیاںزمانہ سانوں روئے گا

اپناتے اپنا بیگانہ سانوں روئے گا

دُنیائے خطابت کا یہ عظیم درخشندہ ستارہ جب 6اکتوبر 2010ءکو اپنے لاکھوں عقیدت مندوں کو داغ مفارقت دے کر راہی ملک عدم ہوا۔ جب آپؒ کا جنازہ اٹھا تو انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر ہر سُو دکھائی دے رہا تھا۔ آپؒ کی نماز جنازہ میں لاکھوں افراد کے علاوہ ملک کے مقتدر علماءو مشائخ عظام کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ آپؒ کو 7اکتوبر کو نماز عصر سے قبل مرکزی جامع الفاروق میں تدفین کی گئی۔ جہاں آپؒ کا مزار پُر انوار آج بھی زیارت اور فیوض و برکات کا باعث بنا ہوا ہے۔ خطیب الاسلام حضرت پیر سید شبیر حسین شاہؒ کے تیسرے سالانہ عرس پاک کی 2روزہ تقریبات 3اکتوبر کو شروع ہو رہی ہیں جو 4اکتوبر تک جاری رہیں گی۔   ٭

مزید : کالم