موسم حج کا روحانی منظر (1)

موسم حج کا روحانی منظر (1)
 موسم حج کا روحانی منظر (1)
کیپشن:   1 سورس:   

  


بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اسلامی کیلنڈر میں حج کے مہینوں کا ایک منفرد مقام واہتمام ہے۔ حج رکن خامس ہے قرآن و سنت میں اس کے خصوصی احکام اور ان پر انعام لینے کا ذکر کیا گیا ہے۔ حج اطمینا ن قلب اور تسکین روح کے لئے گراں قدر تحفہ ہے،حج توبہ کا موقعہ،مغفرت کا قرینہ، بخشش کی رت، عبادت کا سیزن اور نجام کا موسم ہے اس موسم کا تعلق آب و ہوا سے نہیں بلکہ مزدلفہ و منیٰ سے ہے،یہ موسم بہار اور خزاں کی بنیاد پر نہیں بلکہ ایمان اور اعتقاد کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے،یہ موسم سردی اور گرمی سے عبارت نہیں ،بلکہ احرام اور رمی سے عبارت کا نام ہے، یہ لبیک کی صداؤں رحمت کی گھٹاؤں اور مقبول دعاؤں کا موسم ہے، اللہ تعالیٰ سے ملاقات جنت کی سوغات، اشکوں کی برسات اور عرفات کا موسم ہے، بیت اللہ اور دررسول ﷺ سے ہجر و فراق ہر مسلمان کو تڑپاتاہے،دنیا کا حسین اور رنگین منظر دیکھ لینے کے باوجود انہیں دیکھے بغیر روح تشنگی محسوس کرتی ہے چنانچہ یہاں کی حاضری کی آرزو ہوش سنبھالتے ہی بندے کے ساتھ ہو جاتی ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ آرزو جوان سے جوان ہوتی چلی جاتی ہے پھر زندگی گھٹتی جاتی ہے مگر یہ آرزو بڑھتی جاتی ہے۔

حرمین شریفین کی سر زمین ایسی سر زمین ہے جہاں عشاق سر کے بل چلنے کے لئے تڑپتے رہتے ہیں۔ کیوں نہ ہو ہرمسلمان یہ چاہتا ہے میرے دل کی کھیتی آج بھی جس چشمہ صافی سے سیراب ہو رہی ہے میں ایک بار جا کر اس کی زیارت توکروں، جس آفتاب کی روشنی آج بھی میرے دل کے آنگن میں ہے جس افق سے وہ طلوع ہوا اس افق کا دیدار تو کروں، جن فضاؤں نے حضرت محمد ﷺ کی مقدس و معطر سانسیں ذخیرہ کررکھی ہیں میں بھی وہاں سانس لوں،جن پہاڑوں پر رخ زیبا کے جلوے مرتسم ہیں میں ان سے ملاقات تو کروں، جن سنگریزوں نے رسول اکرم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ اجمعین کے قدموں کو چوما ،مَیں ان سے کچھ دیر سرگوشی تو کروں۔ جن گذرگاہوں سے میرے محبوب ﷺ کبھی گذرے تھے تو میں اپنی سوچ کو کچھ دیر وہاں اعتکاف تو بٹھاؤں جن جن وادیوں سے ان کا گذر ہوا تھا وہاں جا کر آپؐ کی خوشبو تو سونگھوں۔

بندہ سالہا سال سے موسم حج کا مشاہدہ کر رہا ہے، مجھے حرمین شریفین کی محبت کے متوالوں کے جذبات عقیدت اور احساسات ارادات کے سمندر کا کوئی کنارہ نظر نہیں آیا۔ یہاں بچے، بوڑھے، مرد، عورت، گورے، کالے، عربی عجمی،امیروغریب اپنے اپنے اندازرکھتے ہیں۔ درکعبہ اور مواجہ شریف کے سامنے سیدھا سادہ اوران پڑھ آدمی جس انداز سے اپنی اپنی عرض پیش کرتے ہیں میں سن کر اور دیکھ کر حیران ہوتا ہوں کہاں کہاں سے کرنیں اٹھتی ہیں اور آفتاب سے آکر چمٹ جاتی ہیں۔گزشتہ سے پیوستہ سال حج کے موقع پر سعودی اخبار عکاظ میں یہ خبر چھپی کہ تاجکستان کے دوحاجی جن کی عمریں ساٹھ سال سے زائد ہیں پیدل چلتے ہوئے مدینہ منورہ پہنچ گئے ہیں۔انہوں نے پانچ ہزار کلو میٹرکاسفرچھ ماہ سے زائدوقت میں طے کیا وہ افغانستان سے ہوتے ہوئے ایران پہنچے وہاں سے متحدہ عرب امارات اورپھر وہاں سے مدینہ شریف پہنچے۔انہوں نے دس افراد کے قافلے میں یہ سفر شروع کیا تھا مگرآٹھ راستے میں ہمت ہارگئے اور دو خوش نصیب پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔ گذشتہ سال کشمیر کا مستانہ سائیکل پر مدینہ شریف پہنچا پھر اس نے فریضہ حج سر انجام دیا۔

حج امت مسلمہ کی اجتماعیت کا آئینہ دار ہے، فرزندان توحید ورسالت کا یہ سالانہ انٹرنیشنل اجتماع میں مسلمانوں میں جذبہء و اخوت پیدا کرتا ہے۔کائنات کے کونے کونے میں بسنے والی انسانی آبادیوں میں کھلنے والے اسلام کے پھول،اپنے جدا جدا جغرافیہ و ماحول،رنگ و نسل خدوخال،طبائع و مزاج اور چال ڈھال کے ہمراہ ایک اللہ اور ایک رسول ﷺ کا کلمہ الاپتے ہوئے جب کعبہ کے گرد گلدستہ بناتے ہیں تو ماحول میں عجیب رنگ بھر جاتا ہے طاغوت کے شکنجے میں جکڑے ہوئے اور سازشوں کے جال میں گھرے ہوئے مسلمانوں کی مایوسی دور ہوتی ہے۔

حج کا اجتماع خاتم النبین حضرت محمدﷺ کی ختم نبوت کے فیض، قرآن مجید کے اعجاز و اسلام کے جامع دین کابین ثبوت ہے۔ عرفات کے میدان میں کرۂ ارض پہ بسنے والے انسانوں کا جس انداز کا نمائندہ اجتماع ہوتا ہے دنیا کا کوئی مذہب اور کوئی طاقت اس کا نمونہ پیش نہیں کرسکتی۔ اس سال بھی عرفات کی وادی میں 180ملکوں سے تعلق رکھنے والے تقریباً تین ملین انسان 80 زبانوں میں اسلام کی صداقت کے نعرے لگا رہے تھے۔ ایسی انسانی بستی آباد کرناکسی کے بس میں نہیں، ان انسانوں کے خوف خدا اور شوق بخشش میں دھڑکتے دلوں،چیختے لہجوں اور ٹپکتے آنسو کی مثال کون پیش کر سکتا ہے۔ میں نے عرفات میں پھوٹ پھوت کر روتے ہوئے لوگوں کو دیکھا،لگ رہا تھا کہ اشکوں کا سیل رواں معصیت کے داغ مٹادے گا، لوگوں میں رنگ ونسل، عمر وجنس، سٹیٹس اور مرتبہ کا تفاوت تھا مگر مانگ سب کی ایک رائے تھی۔

حج ایک عبادت بھی ہے اور روحانی انقلاب اورحضوری کا تربیتی کورس بھی ہے، حج اول سے آخر تک تبدیلی کا نام ہے مسکن اور محلہ کی تبدیلی،ملک کی تبدیلی اور لباس اورعادت کی ،معمولات اور حرکات و سکنات کی تبدیلی،ایک میدان سے دوسرے میدان کی طرف تبدیلی، اپنے مالوف گھر، شہر اور وطن کو چھوڑا۔ اور پھر سلے ہوئے کپڑے پہننے کا عادی تھا وہ چھوڑ کر احرام باندھ لیا، سرڈھانپنے کا طریقہ اپنایا ہوا تھا وہ چھوڑ دیا اسے ایسا ماحول فراہم کر دیا گیا ہے جدھر بھی سوچے تو نتیجہ یاد خدا کی صورت میں نکلے۔ جب اسے اچانک خیال آئے کہاں ہے میرا گھر، میں منی کے خیموں میں کیوں ہوں؟کہاں ہے میرا بیڈ روم ؟میں مزدلفہ میں کھلے آسمان کے نیچے سڑک پر کیوں لیٹ گیا ہوں؟کہاں ہے میرا عمامہ؟ میں ننگے سر کیوں ہوں؟بدن میلا کچیلا کیوں ہے؟میری خوشبو کہاں ہے؟میں بڑھے بال کیوں نہیں کاٹ سکتا؟عرفات سے مزدلفہ جاتے ہوئے مغرب کا وقت گذر رہا ہے میں نماز کیوں نہیں پڑھ سکتا ؟سوچ پھر جاکے رکتی ہے کہ لَبَّیْکَ اَلّٰھُمَّ لَّبَیْکَ ۔(جاری ہے)

مزید :

کالم -