شاہد آفریدی نے ون ڈے انٹر نیشنل سے ریٹائر منٹ کے امکان کو مسترد کردیا

شاہد آفریدی نے ون ڈے انٹر نیشنل سے ریٹائر منٹ کے امکان کو مسترد کردیا

  

 کراچی (این این آئی)ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے کپتان شاہد آفریدی نے آئندہ سال ورلڈ کپ کے بعد ون ڈے انٹر نیشنل سے ریٹائر منٹ کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہاہے کہ ایک بھی دن ٹیم پر بوجھ نہیں بنوں گا ¾نہ سلیکشن کمیٹی کو موقع دوں گا ¾جس دن سمجھا کہ کرکٹ ختم ہوگئی ہے باعزت ریٹائر منٹ کا ترجیح دوں گا ¾یونس خان کے ساتھ بورڈ اور ٹیم انتظامیہ کو بیٹھ کر معاملات طے کرنے چاہئیں ایک انٹرویو میں انہوں نے کرکٹرز کو مشورہ دیا کہ وہ کھیلتے وقت اپنی فارم اور فٹنس کو دیکھتے ہوئے ریٹائرمنٹ کو ذہن میں ضرور رکھیں۔دنیا میں عزت سے بڑھ کر کوئی اور بات نہیں ہے۔یونس خان کے ساتھ بورڈ اور ٹیم انتظامیہ کو بیٹھ کر معاملات طے کرنے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ بعض لوگ ون ڈے کرکٹ سے میری ریٹائرمنٹ کی قیاس آرائیاں کررہے ہیں۔

آئندہ سال ورلڈ کپ کے بعد ون ڈے کرکٹ چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں فی الحال ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ساتھ ساتھ کھیلنا چاہتا ہوں۔ 34سالہ شاہد آفریدی2010میں ٹیسٹ کرکٹ چھوڑ چکے ہیں ۔شاہد آفریدی نے کہا کہ میرا2016تک اپنے آپ کو فٹ رکھ کر کھیلنے کا پلان ہے اور عروج پر کرکٹ کو الوادع کہنا چاہتا ہوں۔ میری ٹیم انتظامیہ سے جو بات چیت ہوئی ہے اس کے مطابق اگلے چار سے پانچ ٹی ٹوئنٹی میچوں کے بعد ٹی ٹوئینٹی ورلڈ کپ کے لئے کمبی نیشن بنایا جائے گا۔چوں کہ ٹی ٹوئنٹی سیریز نہیں ہوتی ایک یا دو میچ ہوتے ہیں۔اس لئے ہم نے طے کیا ہے کہ چار پانچ میچوں میں ڈومیسٹک کرکٹ کے ٹاپ پرفارمرز کو موقع دیں گے۔ہار جیت سے فرق نہیں پڑتا۔ان میچوں کے بعد ہم ورلڈٹی ٹوئنٹی کے لئے اپنی ٹیم کو تیار کر لیں گے۔جو لڑکے منتخب ہوں گے انہیں ایک دو میچ نہیں لمبا چانس دیں گے۔آسٹریلیا کے خلاف کارکردگی کے بارے میں شاہد آفریدی نے کہا کہ سنیئر کھلاڑی ہونے کے ناتے سے مجھ سے توقعات زیادہ وابستہ ہیں۔اس لئے مجھے کارکردگی دکھانا ہوگی۔پاکستان کے پاس موجودہ ٹیم میں نہ بریڈ مین ہیں،نہ لارا اور نہ ویوین رچرڈز،اس لئے سینئرز کو آگے آکر کارکردگی دکھانا ہوگی تاہم سینئرز کے ساتھ ساتھ جونیئرز کو بھی کردار ادا کرنا ہوگا۔موجودہ ٹیم میں کئی جونیئر کافی عرصے سے ٹیم کے ساتھ ہیں۔ جونیئرز کو منہ میں بوتل دے کر دودھ نہیں پلا یا جاسکتا انہیں گراﺅنڈ میں پرفارم کرنا ہوگا۔شاہد آفریدی نے کہا کہ پاکستان ٹیم کو ورلڈ کپ سے پہلے جیت کی اشد ضرورت ہے ٹیم میں اسپارک پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ٹیم انتظامیہ اور کپتان کو کھلاڑیوں کو واضح پیغام دینا ہوگا۔

مزید :

کھیل اور کھلاڑی -