روس پر پابندیاں نرم کرنے کا ارادہ نہیں ، یورپی یونین

روس پر پابندیاں نرم کرنے کا ارادہ نہیں ، یورپی یونین

  

 بر سلز (آن لائن)یورپی یونین نے اعلان کیا ہے کہ روس پر عائد اقتصادی پابندیوں میں فوری طور پر نرمی نہیں کی جائے گی۔ یورپی یونین نے مشرقی یوکرائن میں فائر بندی معاہدے کو دانستہ طور پر نظر انداز کرنے کی وجہ سے یہ فیصلہ کیا۔یورپی یونین کی ترجمان مایا کوجیکانسک نے اپنے ایک بیا ن میں کہا کہ رکن ریاستوں نے پانچ ستمبر کو ماسکو اور کیف کے مابین ہونے والے فائر بندی کے معاہدے میں پیش رفت تو دیکھی ہے تاہم انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس معاہدے کو مکمل پر نافذ ہونا چاہیے اور فریقین کو اس کی تمام شقوں پر عمل کرنے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے تاکہ پابندیوں کو نرم کرنے کے بارے میں فیصلہ کیا جا سکے۔ ترجمان کے مطابق مشرقی یوکرائن میں باغی امن معاہدے کی پاسداری نہیں کر رہے اور روس مبینہ طور پر ا±ن کی پشت پناہی کر رہا ہے۔یورپی یونین کے لیے روسی ایلچی ولادی میر شزہوف نے خبر رساں ادارے انٹر فیکس سے باتیں کرتے ہوئے کہا، ” ہم انتظار کر رہے ہیں کہ ہمارے ساتھی اور کیا اقدامات اٹھاتے ہیں مگر ان کا ابھی تک کا رویہ روس کو متاثر کرنے میں کامیاب نہیں ہوا ہے۔“ مشرقی یوکرائن میں امن معاہدے کے مطابق تیس کلومیٹر چوڑا ایک بفر زون قائم کیا جائے گا تاکہ مزید خونریزی کو روکا جا سکے۔ اندازوں کے مطابق مشرقی یوکرائن میں گزشتہ پانچ ماہ سے جاری بحران میں اب تک تین ہزار دو سو سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس دوران روسی فوج کی جانب سے اس معاہدے پر مکمل طور پر عمل درآمد کے لیے باغیوں کو رضامند کرنے کی چند کوششیں ابھی تک ناکامی کا شکار ہی ہوئی ہیں۔دوسری جانب یوکرائن کی فوج نے بتایا ہے کہ باغی گروپوں نے ڈونیٹسک کے متنازعہ ہوائی اڈے پر قبضے کے لیے ٹینکوں کی مدد سے ایک بڑی کارروائی شروع کی ہے۔ اس دوران گولہ باری بھی کی گئی، جس کی زد میں آ کر نو فوجی اور پانچ عام شہری ہلاک ہو گئے تھے۔یورپی یونین کی جانب سے روس پر پابندیاں برقرار رکھنے کا فیصلہ مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے ا±س اعلان سے کچھ دیر قبل سامنے آیا،جس میں نیٹو نے ماسکو پر الزام عائد کیا ہے کہ کئی سو روسی فوجی مشرقی یوکرائن میں جاری کارروائیوں میں ابھی تک حصہ لے رہے ہیں۔ نیٹو نے منگل کے روز ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ کئی سو روسی فوجی، جن میں خصوصی افواج کے اہلکار بھی شامل ہیں ابھی تک یوکرائن میں ہیں۔ نیٹو کے بقول روسی فوج کے بہت سے فوجی یوکرائن سے نکل گئے ہیں لیکن ان کی ایک کثیر تعداد ابھی تک وہاں موجود ہے۔ اس تناظر میں ماسکو حکام نے کہا کہ اس نے کسی بھی روسی فوجی کو مشرقی یوکرائن جانے کے احکامات نہیں دیے۔

مزید :

عالمی منظر -