پونچھ راولاکوٹ راہ ملن بس سروس سے کل33مسافروں نے سفر کیا

پونچھ راولاکوٹ راہ ملن بس سروس سے کل33مسافروں نے سفر کیا

  

 سری نگر(کے پی آئی)پونچھ اورراﺅلا کوٹ ہفتہ وارراہ بس سروس سے 56مسافر حدِ متارکہ کے آر پار گئے ۔ پونچھ سے راولاکوٹ روانہ ہونے والی بس سے کل33مسافروں نے سفر کیا جن میں 2افراد اپنے رشتہ داروں سے ملاقات کر نے کے لئے گئے جبکہ31آزاد کشمیر کے باشندے تھے جو یہاں اپنے رشتہ داروں سے ملنے کے بعد واپس لوٹ گئے ۔پونچھ سپورٹس سٹیڈیم سے راولاکوٹ کے لئے بس مسافروں کوا ن کے سینکڑوں رشتہ داروں نے بدیدہ ترالوداع کہا ۔آزادکشمیر کی تحصیل باغ کے شبیہ الحسن کوچھ،جو پونچھ میں اپنے رشتہ داروں سے ملنے کے بعد واپس جا رہے تھے۔

نے ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے یہاں ایک ماہ قیام کے دوران سیلاب کی تباہ کاریوں کواپنی آنکھوں سے دیکھا جو وہ کبھی بھلا نہیں سکیں گے۔انہوں نے کہاکہ جب پونچھ ایک ہفتہ تک پوری دنیا سے کٹ گیاتو انہیں بھی بڑی مشکلات پیش آئیں اور ان کارابطہ گھر والوں سے کٹ گیاتھا۔انہوں نے کہا کہ انہیں حدِ متارکہ کی دونوں طرف کوئی خاص فرق نظر نہیں آیا۔ان کاکہنا تھا کہ ٹیلی فون رابطے بھی بحال ہو نے چاہئیں تاکہ منقسم خاندانوں کے لو گ ایک دوسرے کے سکھ دکھ میں شریک ہو سکیں ۔محمد اسلم نامی ایک اور مسافر کا کہنا تھا کہ ان کی جائے پیدائش ضلع راجوری میں بدھل کے کنڈی علاقہ ہے لیکن انکے والدین ہجرت کر کے حدِ متارکہ کے پار چلے گئے ۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت وہ کافی کمسن تھے اس لئے کچھ یاد نہیں لیکن 50برس بعد جب وہ انہوں نے کہا کہ اس وقت وہ کم سن تھے اس لئے انھیں کچھ یاد نہیں لیکن وہ پچاس برس کے بعد اپنے آبائی گاﺅں گئے تو انھیں ایسا محسوس ہوا کہ نہیں اپنی ماں کی گود کی سی راحت ملی ہے ۔ انہوں نے کہا جہاں انہیں خوشی ہے کہ انہوں نے اپنے بچھڑے ہوئے رشتہ داروں کو دیکھ لیا ہے وہیں اس بات کا غم بھی ہے کہ شاید ا نہیںدوبارہ کبھی نہ دیکھ سکوں ۔

مزید :

عالمی منظر -