جموں میںتعمیرنواوربازآبادکاری کیلئے خطیر رقوم کی ضرورت

جموں میںتعمیرنواوربازآبادکاری کیلئے خطیر رقوم کی ضرورت

  

 جموں(کے پی آئی)صوبہ جموں میں بھاری بارش،پسیاں گرنے اور سیلاب سے بڑے پیمانے پرجانی ومالی نقصان پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس نے سیلاب متاثرین کی بازآبادکاری اور تباہ ڈھانچہ کی تعمیر نوکیلئے مرکز سے خطیررقوم کا مطالبہ کیا ہے۔منصوبہ بندی وزیر اجے سدھوترہ اوردیگر سنیئرلیڈران کے ہمراہ خطہ کے پہاڑی علاقہ جات کاایک ہفتہ طویل دورہ کرنے کے بعد رانا نے ایک بیان میں کہا ہے کہ قدرتی آفت نے پوری ریاست کوہلاکررکھ دیاہے۔خطہ جموں کے مختلف اضلاع میں 15ہزار مکانات مکمل طور تباہ جبکہ 35ہزار مکانات کو جزوی نقصان پہنچ اہے۔ بڑی تعداد میں کھڑی فصلیں، مالی مویشیوں اور سرکاری خدمات کا نقصان ہوا ہے،تقریباخطہ میں 200کے قریب اموات ہوئی ہیں۔اگر چہ عمرسرکار نے بروقت بچاواورریلیف آپریشن شروع کیالیکن ہنگامی بنیادوں پرابھی بہت کچھ کیاجاناباقی ہے،اس کے لئے خطیرمرکزی فنڈز کی ضرورت ہے۔

مکمل طورتباہ ہوئے مکانات کیلئے 45ہزار روپے ابتدائی معاوضہ دینے کی سفارش کرنے پر عمر عبداللہ کی سراہنا کرتے ہوئے رانا نے 5لاکھ روپے مکان کی تعمیر کیلئے دینے کو کہاہے۔انہوں نے پارٹی عہداداران کوخطہ کے پونچھ،راجوری،اودھم پور،ریاسی اور جموں اضلاع میں ہوئے نقصانات کے بارے میں بتایا۔ انہوں نے مصیبت کی گھڑی میں انتظامی کارروائی کی تعریف کی اور کہاکہ وقت آگیا ہے جب حکومت تمام وسائل کو بازآبادکاری اور ریلیف اقدامات میں تیزی لانے پرخرچ کرئے۔انہوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیاکہ وزیر اعلیٰ نے اعلیٰ سطح پر اس معاملہ کو وزیر اعظم کے ساتھ اٹھایاہے۔انہوں نے کہاکہ ورکنگ سیزن محدود ہے اور سرمادور نہیں،اس کیلئے فوری اقدامات اٹھائے جانے کی ضرورت ہے۔

مزید :

عالمی منظر -