عمران کے لئے چند مشورے

عمران کے لئے چند مشورے
عمران کے لئے چند مشورے

  

پہلے ”اہل قلم“ کو دانشور سمجھا جاتا تھا، وہ بھی کسی کسی کو، نیوز چینل جو صرف تصویری خبر نامہ کے طور پر وجود میں آیا تھا، اب باقاعدہ ”دانش گاہ“ کا روپ دھار چکا ہے الا ماشا اللہ، ہر اینکر اپنی اپنی جگہ دانشور ہے۔ زبان سے ایسی ایسی جھاگ نکالتے ہیں کہ سامنے بیٹھے ہوئے مہمان کے کپڑے تک بھیگ جاتے ہیں۔ چند اینکرز دانشور تو زبان سے جھاگ نکالتے نکالتے ہاتھ پاﺅں کے کرتب بھی دکھانا شروع کر دیتے ہیں۔خواہش ان کی یہ ہوتی ہے کہ پروگرام میں شریک مہمان صرف اور صرف ان الزامات اور باتوں کی تائید کریں، جو وہ فرما رہے ہیں، پروگراموں میں شریک مہمان بھی ان ہی جیسے ہوتے ہیں، بلاتے انہیں اس تاکید کے ساتھ ہیں کہ آپ نے ”خارجہ پالیسی“ پر بات کرنی ہے، جونہی پروگرام شروع ہوتا ہے اینکر اپنا رُخ ”دھرنے“ کی طرف موڑ لیتے ہیں۔ اب خارجہ پالیسی کے حوالے سے آئے ہوئے مہمان کے حواس گم ہو جاتے ہیں، وہ پریشان ہو جاتے ہیں کہ بلایا تو خارجہ پالیسی پر بات کرنے کو تھا اب پکڑنے یہ ”بلی“ بیٹھ گئے ہیں، سو پروگرام کے اختتام تک پوری کوشش کے باوجود ”بلی“ نہیں پکڑی جاتی۔

چند اینکر ایسے ہیں، جو بہت متوازن اور عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوے پروگرام ترتیب دیتے ہیں اور پھر مہمان کے ساتھ منتخب موضوع پر سوال و جواب کا سلسلہ شروع کرتے ہیں، پروگرام کے آخر تک ناظرین پروگرام سے کچھ نہ کچھ حاصل بھی کر لیتے ہیں، مگر زبان کے ساتھ ہاتھ پاﺅں استعمال کرنے والوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ سنجیدہ پروگراموں کی کوئی اہمیت نہیں بن سکی۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کی اکثریت کو ابھی تک یہ بات معلوم نہیں ہو سکی، کہ موجودہ بحران کا حل کیا ہے، جلسوں اور دھرنوں کے فوائد کیا ہیں اور نقصانات کا سلسلہ کہاں تک پھیلا ہوا ہے۔

وزیراعظم محمد نواز شریف جب اقوام متحدہ کے سفر پر نکلنے کی تیاری کر رہے تھے، تو اُس وقت تمام دانشور اور ”اینکر“ خاموش تھے، مگر جونہی ان کے طیارے نے اڑان بھری....دانشوروں اور اینکرز نے طوفان اٹھا لیا کہ ملک کے حالات خراب ہیں۔ ان حالات میں محمد نواز شریف کو غیر ملکی سفر نہیں کرنا چاہئے تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کسی دانشور یا اینکر نے عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کو یہ مشورہ نہیں دیا کہ وہ اس موقع پر محمد نواز شریف پر تنقید کرنے کی بجائے انہیں پورے مینڈیٹ کے ساتھ اقوام متحدہ روانہ کریں تاکہ دنیا کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ ہمارے سیاسی اختلاف صرف ملک کے اندر ہیں۔ ملک سے باہر ہمارا وزیراعظم ہی ہمارا رہنما اور نمائندہ ہے، مگر ایسا کسی نے بھی نہ سوچا اور نہ لکھا، بلکہ کیمرے کی آنکھ ان چند ”گو نوازگو“ کے نعرے لگانے والے لوگوں پر لگا دی، جو وہاں مظاہرہ کر رہے تھے، گو کہ اس طرح کے مظاہرے وہاں ایک ”روٹین“ کا معاملہ ہے، جس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔

وزیراعظم کی ہوٹل کے حوالے سے بھی ”کلاس“ لی گئی ہے کہ وہ بہت مہنگا تھا، اتنے اخراجات کی کیا ضرورت تھی، ایک غریب اور مقروض ملک کے وزیراعظم کو ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا.... مجھے یقین ہے کہ نواز شریف اگر ”بائی روڈ“ اقوام متحدہ جاتے، وہاں کسی ہوٹل کی بجائے فٹ پاتھ پر رہائش رکھتے، اقوام متحدہ کی اسمبلی سے اردو خطاب کرتے تو یہی لوگ تبصرہ فرماتے، وزیراعظم محمد نواز شریف نے ”بائی روڈ“ سفر کر کے، فٹ پاتھ پر رہائش رکھ کے اور اقوام متحدہ کی اسمبلی سے اردو میں خطاب کر کے ملک و قوم کا سر شرم سے جھکا دیا ہے،غالباً یہ بھی کہا جاتا کہ وزیراعظم نے اردو کی محبت میں قومی زبان میں خطاب نہیں کیا، بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ انہیں انگریزی نہیں آتی، ایک سابق بیورو کریٹ سے تو ہم نے خود سُنا کہ وزیراعظم کو لکھی ہوئی تقریر نہیں پڑھنی چاہئے تھی، تقریر کا اصل لطف تو ”مُنہ زبانی“ ہے۔ اب محمد نواز شریف کرے تو کیا کرے، ”بیچارے کے ساتھ کوئی ایک مصیبت ہے“ ان قلم کاروں اور اینکروں کی وہی بات ہے کہ....”آٹا گھندی ہلدی کیوں ایں؟

اس وقت عمران خان کے لاہور کے جلسے کی بہت واہ واہ ہو رہی ہے، بلاشبہ یہ بہت بڑا جلسہ تھا، عوام کی ایک معقول تعداد موجود تھی، جلسے کے شرکاءمیں، بچے، بوڑھے، جوان، مرد، عورتیں شامل تھیں،فیملیاں بھی تھیں، ممی ڈیڈی کلاس کے بھنگڑے تھے اور برگر کلاس کی آنیاں جانیاں دیکھنے والی تھیں، جوش و خروش بھی تھا.... اس حوالے سے پنجاب حکومت کی بھی تعریف ہونی چاہئے، جس نے جلسے کے حوالے سے کسی بھی قسم کی رکاوٹ ڈالنے کی کوئی کوشش نہیں کی، حکومت پنجاب نے جس طرح تحریک انصاف کو ”فری ہینڈ“ دیا ہوا تھا، تحریک انصاف اگر چاہتی تو لاہور کے ہر محلے سے درجنوں چھوٹے چھوٹے جلوس نکالتے ہوئے جلسے کو مزید یادگار بنا سکتی تھی، مگر اُس نے اِس طرف کوئی توجہ نہیں دی۔ اس پر سوالیہ نشان موجود ہے اس کا جواب تحریک انصاف اور پنجاب حکوت پر چھوڑتے ہوئے ہم عمران کی طرف سے اپنے صوبائی صدر علیم خان کی تعریف کا ذکر بھی کرنا چاہتے ہیں۔ پارٹی ورکروں اور کارکنوں کی تعریف سے پارٹی مضبوط ہوتی ہے۔ رہنماﺅں اور کارکنوں کے جوش و جذبے میں بھی اضافہ ہوتا ہے اور عمران خان کی طرح ہر سیاسی پارٹی کے لیڈر کو چاہئے کہ وہ اپنے کارکنوں کو شاباش ضرور دیا کریں، مگر عمران خان کو چاہئے تھا کہ وہ گلوکار ابرار الحق، شفقت امانت علی خان اور جلسہ گاہ میں دیگر گلوکاروں کی بھی تعریف کرتے۔ یہ وہ گلوکار ہیں کہ جن کے نام پر30،40ہزار لوگ اکٹھے کرنا کوئی بہت بڑی بات نہیں ہے۔ ان فنکاروں کے ساتھ عوام بہت پیار کرتے ہیںاور کہیں بھی ان کے شوز ہوں تو لوگ ایک ایک ہزار سے لے کر5000 روپے تک کے ٹکٹ خرید کر بھی ان کے شو دیکھتے ہیں۔ اب ظاہر ہے کہ مینار پاکستان کے جلسے میں اگر لاکھوں لوگ تھے تو ان میں چند لاکھ لوگ تو ان گلوکاروں کے لئے بھی آئے ہوں گے کہ نہیں؟

شیخ رشید بہت جذباتی تھے، انہوں نے کہا کہ انہوں نے آج تک اتنا بڑا جلسہ کبھی نہیں دیکھا اور مزید فرمایا کہ شائد زندگی میں وہ پھر کبھی ایسا جلسہ دیکھ پائیں، اب اگر مینارِ پاکستان کے جلسے کی اہمیت کو برقرار رکھنا ہے تو پھر شیخ رشید کی رائے کے احترام میں کہنا پڑے گا ”آمین“۔ عمران خان نے اپنے جلسوں میں گلوکاروں کو شریک کر کے بہت اچھا کیا ہے۔ اس حوالے سے ایک فائدہ تو یہ ہوا ہے کہ جلسے میں لوگوں کی شرکت بڑھ جاتی ہے، وہ لیڈروں کی تقریروں کے ساتھ ساتھ گلوکاروں کے گیت بھی”انجوائے“ کرتے ہیں۔ جلسے میں رونق بھی بنی رہتی ہے۔ بیروز گاری، مہنگائی، لوڈشیڈنگ، بدامنی اور دیگر مسائل کی وجہ سے پریشان لوگ چند گھنٹوں کے لئے ہی سہی، کچھ نہ کچھ ریلکس تو کرتے ہیں۔ عمران خان کو چاہئے کہ وہ اس حوالے سے ایک لسٹ تیار کریں، تاکہ انہیں ہر علاقے کے لوگوں کے پسندیدہ گلوکاروں کے بارے میں علم ہو، مثلاً میانوالی کے جلسے کے لئے انہیںلمحہ موجود کے سب سے بڑے سرائیکی گلوکار شفاءاللہ خان روکھڑی، ان کے اپنے محلے کے لوک گلوکار، ایوب خان نیازی اور میانوالی کے معروف کامیڈین مشتاق رانا کو بھی دعوت دینا چاہئے۔

 مشتاق رانا تو اتنا پاپولر ہے کہ 10، 20 ہزار لوگ تو اس کے نام پر ہی اکٹھے ہو جائیں گے، اِسی طرح بھکر میں جلسے کے سلسلے میں احمد نوید چھینہ، ان کے جلسے کے لئے کارآمد ثابت ہو سکتے ہیں۔ ملتان، مظفر گڑھ میں کوثر جاپانی اور اعجاز راہی بھی بہت مددگار ثابت ہو سکتے ہیں، وہ لاہور سے اگر گلوکار ملکو کو بھی اپنے ساتھ لے جائیں تو سونے پر سہاگے والا کام ہو جائے گا۔ پنجاب میں جلسوں کے حوالے سے جو چند گلوکار میرے علم میں تھے ان کے نام مَیں نے لکھ دیئے ہیں۔ خیبرپختونخوا کے بارے میں وہاں کے وزیراعلیٰ کافی ہیں وہ نہ صرف گلوکاروں کے نام پیش کر سکتے ہیں، بلکہ اچھے اچھے ”ڈانسرز“ لڑکے بھی مہیا کر سکتے ہیں۔ بلوچستان کے بارے میں، مَیں زیادہ نہیں جانتا، اندرون سندھ کے حوالے سے عابدہ پروین اور صنم ماروی کافی ہیں، مگر اب عمران خان کو ذاتی طور پر بھی کچھ کرنا چاہئے، کیونکہ جلسے کے اختتام پر لوگوں کو گلوکاروں کے گیتوں کے بول تو یاد ہوتے ہیں، مگر یہ یاد نہیں رہتا کہ ان کے لیڈر نے نئی بات کیا کہی ہے۔ مثال کے طور پر لاہور میں بھی وہ 18سال کے قصے سناتے رہے، پھر عوام کو یہ بھی نہیں سمجھا سکے ، کہ اب انہوں نے ”گو نواز گو“ کا نعرہ لگانا ہے ”یاگو نظام گو“ کا ویسے مجھے جہاں تک سمجھ آئی ہے۔ مطلب اب یہ ہے کہ عمران خان نواز شریف کے استعفیٰ کے مطالبے سے دستبردار ہو گئے ہیں۔

مزید :

کالم -