تسلسل

تسلسل
تسلسل

  

بلاول کی معافی ،قابل ِ معافی ہے، مگر یہ معافی پاکستان کی بدقسمت سیاست کے مکروہ ذہن کا ایک کج رو تسلسل ہی ہے۔جواںسال بلاول کو ایک تباہ حال جماعت کو سنبھالنا ہے اور یہ کام کسی کرشمے سے ہی ممکن ہو سکتا ہے۔سندھ پیپلز پارٹی کا بوجھ اُٹھاتے اُٹھاتے اب ڈھ پڑنے کے قریب ہے۔ پیپلز پارٹی کا پورا سیاسی معروضہ منفی طریقے سے تشکیل پاتا ہے۔

   لکھنے والوں کا ایک ٹھٹ ایسا بھی ہے، جو بلاول کی معافی سے اُن کی سیاست میں آمد کا اعلان کر رہا ہے، مگر بلاول کی سیاست میں آمد کو ایک عرصہ بیت چکا ہے۔ وہ اپنی جماعت کے چیئر مین ہیں اور اُن کے والد شریک چیئرمین ہیں۔ وہ عملاً ایک مدت سے اپنی جماعت کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کی نشستوں کی صدارت کرتے ہیں۔ جماعتی جلسوں سے خطاب کرتے ہیں۔یہاں تک کہ سندھ حکومت کے اجلاسوں کی صدارت بھی فرماتے ہیں، جس میں قائم علی شاہ اکثر اپنے آلہ ¿ سماعت کو کھولنا بھی بھول جاتے ہیں۔پھر بلاول کی سیاست میں آمد اُن کی معافی سے کیسے ہو گئی۔ دراصل بلاول کا سیاست میں تحّرک اب تک کوئی خاص ارتعاش پیدا نہیں کر سکا، لہٰذا بلاول کو نئے حالات میں ایک نئے معروضے کے ساتھ میدان میں دھکیلا گیا ہے۔ یہ اُن کی سیاست میں معافی سے قابل ِ عزت آمد نہیں۔ بلکہ اب تک کی زرداری سیاست پر ”مٹی پاو¿“ کا نفسیاتی ماحول پیدا کرنے کی نئے سرے سے کوشش ہے۔مکرّر عرض ہے کہ جواں سال بلاول کی سیاست میں کوئی نئی آمد نہیں ہو رہی۔ وہ بہت پہلے سے سیاست میں موجود ہیں۔سوال یہ ہے کہ معافی کے فریب خوردہ ماحول میں اُن کی نئی آمد کے شادیانے کیوں بجائے جارہے ہیں؟

دراصل سندھ پیپلز پارٹی کے متبادل کی ایک سچی پیاس میں مبتلا ہے۔عام انتخابات سے قبل مسلم لیگ نون کے لئے سندھ میں ایک چاہت پیدا ہوئی تھی۔ مگر میاں نواز شریف نے خود کو ایک خاص نقطہ ¿ نظر کی تحویل میں دے رکھا تھا۔ یہ نقطہ ¿ نظر دراصل عسکری بالادستی سے نجات کا تھا ۔ میاں نواز شریف اپنی یہ رائے مستحکم کر چکے ہیں کہ سیاسی جماعتوں کی باہمی لڑائی کا فائدہ فوج اُٹھاتی ہے اور فوج کو اُن کے آئینی کردار تک محدود رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ سیاسی جماعتوں کو تصادم سے گریز کرنا چاہئے۔ اس طرزِ فکر نے ایک سیاسی جماعت کے طور پر اُن کے کردارکو محدود کردیا ۔ اور پیپلز پارٹی نے میاں نواز شریف کے اس نقطہ ¿ نظر کو اپنی سیاست کے لئے خوب خوب استعمال کیا۔ یہ حوالہ تو ہر کوئی دیتا ہے کہ میاں نواز شریف کالا کوٹ زیب تن کرکے ”میمو گیٹ“ اسکینڈل میں خود عدالت جاپہنچے تھے، مگر یہ امر فراموش کر دیا جاتا ہے کہ اُنہوں نے کسی بھی بحران کو ایک حد سے آگے مہمیز نہیں ہونے دیا اور سیاست کو حکومت کے خاتمے کا عنوان بننے نہیں دیا۔ لکھنے والے فراموش کر بیٹھے ہیں کہ تب حزبِ اختلاف کے جائز کردار سے بھی وہ اتنا گریز کرتے رہے کہ اُنہیں ”فرینڈلی اپوزیشن“ کی پھبتی درست طور پر سننی پڑی۔دراصل فوج کے لئے اقتدار میں راہ ہموار کرنا یا اُن کا سیاست میں کوئی کردار تسلیم کرنا ایک الگ بات ہے اور کسی حکومت کے غلط اقدامات کو جائز سیاسی طریقوں سے روکنا ایک الگ معاملہ ہے۔

میاں نواز شریف نے تب یہ فرق واضح کرنے کا سنہری موقع ضائع کردیا ،جس نے اِن دونوں جماعتوں کے خلاف اقتدار کے لئے باری لگانے کا غلط یا صحیح تاثر پروان چڑھایا۔کسی بھی ابہام کے بغیر یہ مان لینا چاہئے کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے پاس اس معاملے کی وضاحت کا کوئی سیاسی معروضہ نہیں تھا ۔ یہاں یہ پہلو بھی واضح ہو جانا چاہئے کہ سیاسی اقتدار کو ہمیشہ حاشیہ بردار رکھنے کے شوقین طاقت ور غیر سیاسی عناصر نے میموگیٹ سے پہلے ہی یہ بھانپ لیا تھا کہ اِن دونوں جماعتوں کو اب ایک دوسرے کے مخالف پہلے کی طرح صف آرا نہیں رکھا جاسکتا۔ یہ اب ایک نہایت محدود پیمانے کے کھیل میں عارضی طور پر تو تختہ ¿ مشق بنائے جاسکتے ہیں، مگر مستقل نہیں۔ یہ تسلیم نہ کرنا زیادتی ہوگی کہ زرداری کے پانچ سالہ اقتدار کو برداشت کرنے کی سیاسی روایت ڈال کر سیاسی جماعتوں نے اپنے سیاسی تحمل کا غیر معمولی مظاہر ہ کیا تھا۔ اقتدار جب سرکتا ہوا کسی کے پاس آرہا ہو اور وہ سیاسی برداشت کا مظاہرہ کرے ، یہ پاکستان کی سیاست میںایک اجنبی رویہ تھا۔تب ہی غیر سیاسی قوتوں نے یہ بھانپ لیا تھا کہ اب اقتدار کو ڈانوا ڈول کرنے اور رکھنے کے لئے نئے ”فشاری گروہ“ درکار ہیں۔عمران خان کا 30 اکتوبر 2011ءکو لاہور میں جلسہ اِسی نئی کشمکش کی صورت گری کا شاخسانہ تھا ۔ جسے دھرنے کے نایافت مقاصد نے گہنا دیا تھا۔

عمران ایک بڑی قوت کے طور پر سریر آرائے اقتدار ہونے کی سیاسی حیثیت حاصل کرنے کے لئے زمینی حقیقتوں سے کوئی علاقہ نہیں رکھتے، مگر وہ پاکستان میںاقتدار کی کشمکش میں کسی کا پلڑا اٹھانے اور جھکانے کی حرکیات پر گرفت رکھنے کی صلاحیت کچھ قوتوں سے حاصل کر چکے ہیں۔ یہ قوت یافت نہیں عطا ہے۔ اور اُن کی سیاسی سرگرمیاں اِسی عطائی محور کے آس پاس رہیںگی۔عمران کے دھرنے اپنے اصل مقاصد تو حاصل نہیں کرسکے، مگر عمران کی وہ قوت بھی دھرنوں سے گہنا رہی تھی، جسے بچانا غیر سیاسی قوتوں کا اصل مقصود ہے، چنانچہ عمران کی اصل قدروقیمت کو 30 اکتوبر 2011ءکی نفسیاتی سطح پر لے جانے کا فیصلہ ہوا اور اس کے لئے پہلے کراچی کا انتخاب ہوا۔

کراچی میں ایک جلسہ کامیاب کرنا کسی بھی سیاسی جماعت کے لئے کبھی بھی ناممکن نہیں رہا، مگر عمران خان نے کوئی خطرہ نہیں مول لیا اور بظاہر خودکو ایم کیو ایم کی حریف جماعت کے طور پر پیش کرنے والی اس جماعت نے ایک کامیاب حکمتِ عملی کے طور پر ایم کیو ایم سے ”معاملات“ طے کئے۔ شاہ محمود قریشی نے جلسے سے قبل لندن میں ایم کیو ایم کے قائد سے گفتگو کی اور پھر ایک کامیاب جلسے کی راہ خود بخود ہموار ہوناشروع ہوگئی،مگر پی ٹی آئی کی طرف سے یہ پوری حکمت عملی نہیں ہے۔ دراصل ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی دونوں ہی اندرونِ سندھ پیپلز پارٹی کی پتلی صورتِ حال سے آگاہ ہیںاور دونوں ہی جماعتیں اس سے فائدہ اُٹھانا چاہتی ہیں۔ مگر ایم کیو ایم براہِ راست یہ کام نہیں کرسکتی۔ پی ٹی آئی اس کام کے لئے نہایت موزوں ہے۔یہ پھر ایک غلط فہمی ہوگی کہ کوئی اِسے تحریکِ انصاف کے انقلابی ایجنڈے کی کامیابی سمجھے۔ یہ دراصل پیپلز پارٹی سے بیزاری کے بعد سندھ کو دستیاب واحد سیاسی راستا ہوگا، جو مسلم لیگ نون نے اپنے غلط سیاسی تجزئے سے خود اپنے لئے بند کیا ہے۔

 پیپلز پارٹی اس صورتِ حال سے بخوبی آگاہ ہے کہ اُس کے ناراض عناصر کس طرح تحریک ِ انصاف کے لئے پر تول رہے ہیں ۔ ہالہ کی ایک سیاسی شخصیت سمیت پیپلزپارٹی کے بہت سے رہنماو¿ں کو شاہ محمود قریشی کے ذریعے سندھ میں راغب کیا جارہا ہے اور ملتان کے بعد سندھ میں تحریک ِ انصاف ایک بڑے جلسے کی تیاریاں کر رہی ہیں جو ممکنہ طور پر اُن ہی اثرات کا حامل ہو سکتا ہے، جو 30 اکتوبر 2011ءکے لاہور جلسے کے بعد تحریک ِ انصاف کے لئے ثابت ہوا تھا، جس نے بہت سے انتخابی چہروں کو اس جماعت میں لاپٹخا تھا۔ تحریکِ انصاف کا لاہور کا حالیہ جلسہ اُسے نفسیاتی طور پر سہار اتو دے سکتا ہے مگر سیاسی طورپر مزید کوئی فائدہ نہیں۔اِسی لئے تحریکِ انصاف سندھ میں ایک ایسے ہی جلسے کی تیاریوں میں مصروف ہے جو اُس کے لئے 30 اکتوبر2011ءکے لاہور جلسے والے نتائج کا حامل ہو۔ پیپلز پارٹی اِسی چیلنج کا مقابلہ کر رہی ہے۔ جواں سال بلاول کی معافی کا نقطہ ¿ تناطر بھی یہی ہے۔ اِسی لئے بلاول کی معافی ،قابلِ معافی ہے، مگر یہ معافی پاکستان کی بدقسمت سیاست کے مکروہ ذہن کا ایک کج رو تسلسل ہی ہے۔

مزید :

کالم -