عمران خان صاحب باز آ جائیں ، کہیں اصلی شیروں کے صبر کا پیمانہ لبریز نہ ہو جائے:شہباز شریف

عمران خان صاحب باز آ جائیں ، کہیں اصلی شیروں کے صبر کا پیمانہ لبریز نہ ہو ...

  

لاہور(پ ر) وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف نے حافظ آباد کی تحصیل پنڈی بھٹیاں،سرگودھا کے علاقے شاہ پور ،منڈی بہاؤالدین کی تحصیل پھالیہ ،گوجرانوالہ کی تحصیل وزیر آباداورسیالکوٹ کی تحصیل سمڑیال کے سیلاب متاثرہ علاقوں کا10 گھنٹے تک دورہ کیا ۔متاثرین سیلاب کیلئے قائم مالی امداد کی ادائیگی کے سینٹرز میں انتظامات کا جائزہ لیااورمتاثرین میں پہلی قسط کے طورپر 25،25ہزار روپے نقد تقسیم کیے۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر سیلاب متاثرین ،عوامی اجتماع اورجلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ متاثرین سیلاب کے گھروں کو پہنچنے والے نقصان کی پہلی قسط کے طور پر 25 ہزار روپے کی مالی امداد کی تقسیم کا آغاز کر دیا ہے اور تمام حق داروں کو ان کا حق دیا جائے گا جبکہ سروے کی بنیاد پر املاک اور فصلوں کے نقصانات کا تخمینہ لگا کر دوسری قسط کی ادائیگی 20 اکتوبر سے شروع کی جائے گی۔ پنجاب حکومت نے وعدے کے مطابق عید الاضحی سے قبل امدادی رقوم کی تقسیم کا کام شروع کردیا ہے اورانشاء اللہ ہماری پوری کوشش ہے کہ پہلی قسط کی تقسیم کا کام عید الاضحی سے قبل مکمل کیا جائے ۔مسلم لیگ (ن ) وعدے نبھانے والی جماعت ہے۔ انہوں نے کہاکہ حالیہ سیلاب1973ء کے بعد سب سے بڑا سیلاب تھا،جس نے بہت تباہی مچائی ہے، میں نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے مسلسل دورے کیے اورصبح کے وقت سیلاب زدہ علاقوں کے دورے کرتارہا جبکہ رات کو اجلاس کر کے صورتحال کو مزید بہتر بنانے کیلئے کام کیا اوراب بھی ادائیگی کے عمل کی خود نگرانی کررہا ہوں تاکہ کوئی حقدار اپنے حق سے محروم نہ رہے اگر کوئی حقداراپنے حق سے محروم رہ گیا تو دنیا اورآخرت میں ذمہ داری ہم سب پر ہوگی۔انہوں نے کہا کہ حکومت پہلی قسط کے طورپر ان تمام گھروں کے سربراہوں کو بلاامتیاز 25،25ہزارروپے مالی امداد دے رہی ہے جبکہ دوسری قسط کی ادائیگی سروے کی بنیاد پر گھروں ،املاک،فصلوں اور مویشیوں کو ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لگاکر 20 اکتوبر سے کی جائے گی اوراکتوبر کے آخرتک دوسری قسط کی ادائیگی بھی مکمل کریں گے۔وزیراعلیٰ نے دھرنے والوں کو 24، 24گھنٹے دکھانے پر میڈیا سے نرم الفاظ میں دوستانہ شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا کسی نے کنٹینرز والوں سے یہ سوال کیاکہ آپ سیلاب زدہ علاقوں میں کیوں نہیں جاتے ۔دھرنوں کے باعث اربوں ڈالر کے چین کے تعاون سے پاکستان میں لگنے والے بجلی سمیت دیگر منصوبے کھٹائی میں پڑے ہیں،اس سے بڑی ملک دشمنی کیا ہوسکتی ہے ۔دھرنے والوں نے اس ملک و قوم کے ساتھ جوسلوک کیا ہے کوئی دشمن میں ایسا نہیں کرتا۔انہوں نے کہا کہ سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصان پر بہت افسوس ہوا ہے۔ متاثرین کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے گا۔ حکومت متاثرین سیلاب کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ مصیبت زدہ بہن بھائیوں کی مدد کرنے والے دین اور دنیا دونوں کما رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے پنڈی بھٹیاں کے دورے کے دوران گاڑیوں کی بڑی تعداد پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کمشنر گوجرانوالہ ڈویژن، ڈی سی او حافظ آباد اور انتظامیہ کی سرزنش کی اور کہا کہ یہ شادی بیاہ کی تقریب نہیں کہ آپ گاڑیوں پر لاؤ لشکر لے کر آئے ہیں۔ آپ سب کو ایک کوسٹر یا وین میں آنا چاہیئے تھا، علیحدہ علیحدہ گاڑیوں کی قطعاً ضرورت نہیں۔ انہو ں نے کہا کہ اگر میں چھوٹی گاڑی میں بیٹھ کر آ سکتا ہوں تو آپ کیوں نہیں آ سکتے۔ وزیراعلیٰ نے پنڈی بھٹیاں کے بعد سرگودھا کے علاقے شاہ پورکا دورہ کیا اور سیلاب متاثرین کو امدادی رقوم کی ادائیگی کے سینٹر پر انتظامات کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر ضلعی انتظامیہ نے بریفنگ دی۔ وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف نے شاہ پور میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیلاب زدہ علاقوں میں کامیاب ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن میں انتظامیہ، پاک افواج، ریسکیو 1122، عوامی نمائندوں اور متعلقہ اداروں نے شاندار کام کیا ہے۔پہلی مرتبہ جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین کو 16، 16 لاکھ روپے جبکہ زخمی ہونے والوں کو ایک ایک لاکھ روپے مالی امداد دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب متاثرین کو مالی امداد کی ادائیگی کے عمل کی خود نگرانی کر رہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ سب جانتے ہیں کہ ہمارے جلسوں میں شرپسند کون بھیجتا ہے۔ عمران خان صاحب! اس کام سے باز آ جائیں،اس کا نتیجہ تباہی کے سوا کچھ نہیں نکلے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کو روک رکھا ہے، ایسا نہ ہو کہ نواز شریف کے شیروں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جائے۔وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف نے تحصیل پھالیہ کے دورہ کے دوران متاثرین سیلاب کو ادا کی جانے والی امدادی قوم کے انتظامات کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ جب تک آخری متاثرہ فرد اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں ہو جاتا میں سیلاب متاثرین کے ساتھ کھڑا رہوں گا۔ امدادی رقوم کی تقسیم اور آپ کی بحالی کے کام کی نگرانی کیلئے متاثرہ علاقوں میں آتا جاتا رہوں گا ۔ انہوں نے سینٹر میں ادائیگی کے طریقہ کا معائنہ کیا اور متاثرین اور سینٹر میں فرائض ادا کرنے والے عملے سے ملاقات کی۔وزیراعلیٰ نے وزیرآباد میں سیلاب متاثرین کومالی امدادکی تقسیم کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ سیلاب ستمبر میں آیا ہے اورانشاء اللہ اکتوبر میں خوشحالی کا انقلاب آئے گا،ہم متاثرہ خاندانوں کو کھاد اوربیج بھی دیں گے۔مستقبل میں سیلاب کے نقصانات کو کم سے کم کرنے کے حوالے سے موثرحکمت عملی اپنانا ہوگی ،اس ضمن میں قومی سطح پر کمیٹی تشکیل دی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے بیراجوں کی فنی خامیوں کو دورکرنے کے حوالے سے کمیٹی قائم کردی ہے۔انہوں نے بتایا کہ سیلاب سے 6لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں اور20لاکھ ایکڑاراضی کو نقصان پہنچا ہے۔انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کا ذریعہ معاش متاثرہواانہیں بھی امداد دی جائے گی۔وزیراعلیٰ نے سمڑیال میں سیلاب متاثرین میں امدادی رقوم کی تقسیم کے کام کی نگرانی کی اور سیلاب زدگان کو پہلی قسط کے طورپر 25،25ہزارروپے کی مالی امداد بھی دی۔

مزید :

صفحہ اول -