جو لوگ ملک کی ترقی نہیں چاہتےاللہ تعالی ٰ انہیں ہدایت دے وزیراعظم

جو لوگ ملک کی ترقی نہیں چاہتےاللہ تعالی ٰ انہیں ہدایت دے وزیراعظم

  

    وزیر آباد(اے این این) وزیراعظم نواز شریف نے کہاہے کہ جو لوگ ملک کی ترقی نہیں چاہتے اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت دے، وسائل کم مسائل زیادہ ہیں ، پیسہ آئی ڈی پیز پر خرچ کریں یا سیلاب زدگان پر، بجلی بنائے یا بجلی سستی کرنے پر رقم خرچ کریں، بے گھر ہونے والوں کے دکھوں کا اندازہ لگانا مشکل ہے ،متاثرین کی مکمل بحالی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ وہ بدھ کو وزیر آباد میں سیلاب متاثرین میں امدادی چیک تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے ۔ نوازشریف نے کہا کہ ماضی کی حکومتوں نے سیلاب کی روک تھام کیلئے کوئی توجہ نہیں دی اس حوالے سے اقدامات ضروری ہیں اور مربوط حکمت وضع کرنا ہوگی جبکہ ایسے اقدامات پر کھربوں روپے کی ضرورت ہے تاہم حکومت کا فرض ہے کہ جتنے بھی پیسے ضرورت ہوں ان اقدامات کیلئے خرچ کرے ۔ انہوں نے کہاکہ ایک نیشنل کمیٹی آف فلڈ ضرور قائم ہونی چاہیے جو اس سلسلے میں اقدامات تجویز کرے یقیناً پاکستان کے پاس وسائل کم ہیں تاہم توانائی ، صحت ، تعلیم اور قدرتی آفات سے نمٹنا ہماری ترجیحات میں شامل ہے اللہ تعالیٰ ملک پر رحم فرمائے اور پاکستان کو اتنے وسائل عطافرمائے کہ ہم سارے معاملات پر توجہ دے سکیں اورجہاںجتنی بھی رقوم ضرورت ہو وہاں ہم فراہم کریں۔ انہوں نے کہاکہ مجھے سیلاب متاثرین سے دلی ہمدردی ہے جنہوں نے سیلاب کے باعث گھر بار چھوڑا جبکہ ان کا سازو سامان پانی میں بہہ گیااور مکانات تباہ ہوگئے جب کوئی بے گھر ہوتا ہے تووہی جانتا ہے جس پر گزرتی ہے کسی اور کو مصیبت کا احساس نہیں ہوتا۔ بے گھر ہونے والوں کے دکھوں کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف علاقوں میں سیلاب متاثرین سے ملاقات ہوئی وہ پریشان اور مصیبت میں تھے حکومت نے ان کی بھرپور مدد کی متاثرین کی خدمت کرنے پر میں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور ان کی ٹیم کو شاباش دیتا ہوں انہوں نے متاثرین کیلئے جانفشانی سے کام کیا وہ خود متاثرہ علاقوں میں گئے میڈیکل کیمپ قائم کیے اور ان کیلئے خوراک کا بندوبست کیا ۔ انہوں نے کہاکہ سیلاب زدگان مصیبت کی اس گھڑی میں خود کو تنہا نہ سمجھیں ان کی مکمل بحالی تک چین سے نہیںبیٹھیں گے حکومت کے پاس وسائل کم اورمسائل زیادہ ہیں لیکن اس کے باوجود پانی اترنے سے پہلے ہی امداد کی فراہمی شروع کر دی گئی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پچھلی حکومتوں نے سیلاب کی روک تھام پر توجہ نہیں دی۔

مزید :

صفحہ اول -