قمرزمان کائرہ کی دھاندلی کی تحقیقات کیلئے کمیشن قائم کرنےکی تجویز

قمرزمان کائرہ کی دھاندلی کی تحقیقات کیلئے کمیشن قائم کرنےکی تجویز

  

لاہور( نمائندہ خصوصی) پیپلز پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات قمرزمان کائرہ نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی دھاندلی کو بنیاد بنا کر حکومت گرانے کی کسی بھی سازش کاحصہ نہیں بنے گی حکومت کا رویہ جمہوریت کو کمزور کررہا ہے ہمیں دہشت گردی کے مائنڈسیٹ کا خاتمہ کرنا ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں جمہوریت کی عمر ساڑھے دس سال ہے باقی عرصہ غیر جمہوری اور آمریت کی نمائندوں کی حکومتیں رہیں اور اس وقت جو بحث چل رہی ہے وہ یہ ہے کہ نظام بدلنا چاہیے دنیا میں کوئی ایسا معاشرہ نہیں جہاں ایک دن میں نظام تبدیل ہوگئے ہوں یا حکومتوں نے پرفارم کرنا شروع کردیا ہو۔انہوں نے کہا کہ الیکشن میں مس مینجمنٹ ہوئی ہے اب تو رپورٹیںبھی سامنے آنے لگ گئیں ہیں تو اس صورتحال میں ایک کمیشن کے ذریعے الیکشن دھاندلی کی تحقیق کی جائے اور اگر تحقیق میں دھاندلی ثابت ہوجاتی ہے تو پھر وزیر اعظم سے استعفی مانگنے کی بھی ضرورت بھی نہیں ہے وہ خود مستعفی ہوجائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا طاہرالقادری اور عمران خان کے مطالبے پر واضح موقف ہے اور موجودہ مسئلہ کا صرف ایک ہی حل ہے وہ صرف مذاکرات ہیںلیکن حکومت نے ابھی دھاندلی کی تحقیقات کا ابھی ارادہ بھی نہیں باندھا ۔قمر زمان کائرہ نے کہا کہ طاہرالقادری کے ساتھ ظلم ہوا ہے ان اس بندوں پر سدھی گولیاں چلائی گئیں ان میں سے پندرہ تو مر گئے تھے اور باقی نوے کو بھی ماری گئیں وہ ان کی خوش قسمتی ہے کہ وہ بچ گئے تو تحقیق کی جانی چاہیے تھی کہ پولیس کے حکم دینے والوں کے پیچھے کون تھے انہوں نے کہا کہ میں عمران خان کو مشورہ دیتا ہوں کہ آپ ایک پاپولر پارٹی کے چیئر مین ہیں انہیں سیاسی جماعتوں پر اعتراض کا حق ہے لیکن مناسب الفاظ کا استعمال کریں سیاست میں مفاہمت اور مناسب تنقید ہوتی ہے 1973کاآئین اور اٹھارویں ترمیم بھی سیاستدانوں نے اتفاق رائے سے منظور کی ہے ۔انہوں نے کہا کہ خان صاحب معاہدے خفیہ ہوتے ہیں جبکہ ہمارا میثاق جمہوریت عوامی معاہد ہ تھا جو دو بڑی جماعتوں کے درمیان تھا اور اس میں بھی سیاسی جماعتوں نے ساتھ دیا اور یہ پبلک دستاویز ہے محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنے ساتھ زیادتیوں کے باوجو د چارٹر آف ڈیموکریسی پر دستخط کردیے اور اس کے تقریبا ً82فیصد پر عملدرآمد ہوچکا ہے اور باقی اب موجودہ حکومت کی ذمہ داری ہے ۔انہوں نے کہا کہ گورنمنٹ کی خواہش ہے کہ وہ موجودہ حالت میں دھرنادینے والی جماعتوں کو تھکا دے لیکن گورنمنٹ کو اپنے پاوں پرکلہاڑ یاں مارنے کا خود شوق ہے گورنمنٹ کی ذمہ داری ہے کہ ان دھرنوں کو ختم کروائیں اگر دھرنے ختم نہیں ہونگے تو یہ بڑھیں گے جو ملک کےلئے نقصان دہ ہیں ۔انہوںنے کہا کہ وزیر اعظم کمیٹی کو با اختیار کریں کیونکہ گورنمنٹ کو خطرہ ٹلا ہے ختم نہیں ہوا ۔انہوں نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ آصف زردار ی نے بلوچ عوام سے معافی مانگی پیپلز پارٹی کسی سے خوفزدہ نہیں ،ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کچھ مفاد پرست لوگ ہونگے جو چھوڑ کر جانا چاہتے ہوں گے ۔انہوں نے کہا کہ خورشید شاہ کی مڈٹرم الیکشن کے بیان پر کردار کشی کی جارہی ہے انہوں نے اس کی تردید بھی کی اور اب پھر ہم نے تردید کر دی ہے ۔

مزید :

صفحہ آخر -