حکومت کی تبدیلی تو نظر آتی ہے ، نئے الیکشن نظرنہیں آ رہے : پرویز مشرف

حکومت کی تبدیلی تو نظر آتی ہے ، نئے الیکشن نظرنہیں آ رہے : پرویز مشرف

  

    کراچی(اے این این)آل پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ وسابق صدر جنرل( ر) پرویز مشرف نے کہا ہے کہ قومی حکومت بنے یا ٹیکنو کریٹ سیٹ اپ ، مجھے پاکستان میں حکومت تبدیل ہوتے تو نظر آ رہی ہے مگر نئے انتخابات ہوتے نظر نہیں آ رہے، میرا طاہر القادری سے کوئی تعلق نہیں ایسی باتیں بچگانہ ہیں، دھرنے والے حق پر ہیں، میری ہمدردیاں ان کے ساتھ ہیں، نواز شریف ملک کو ترقی دیں تو ان کی بھی حمایت کروں گا، وطن واپسی پر اندازہ ہوا کہ سیکورٹی اور قانونی خطرات میری سوچ سے زیادہ تھے ، مجھے زندگی بھر کیلئے الیکشن سے نا اہل قرار دینا غیر آئینی ہے جسے عدالت میں چیلنج کروں گا، میں نے عوام کو ترقی دی اور غداری کا مقدمہ بنا دیا گیا، تبدیلی لائے بغیر ملک کا مستقبل تاریک رہے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی کے مقامی ہوٹل میں آل پاکستان مسلم لیگ کے چوتھے یوم تاسیس کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ پرویز مشرف نے کہا کہ جب میں ملک سے باہر تھا تو پاکستان میں امن و امان کی خراب صورتحال پر تشویش تھی اور مجھے یہ بھی یقین تھا کہ پاکستان وسائل اور صلاحیتوں سے مالا مال ہے۔ یہ ملک اپنے پاﺅں پر کھڑا ہوسکتا ہے اور ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکتا ہے۔ میرے دل میں پاکستان کیلئے کچھ کرنے کا جذبہ تھا۔ میں پاکستان کے سیاسی کلچر میں تبدیلی لانا چاہتا تھا اور جمہوری نظام کے اندر رہ کر آگے بڑھنا چاہتا تھا اسی لئے میں نے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے بعد تیسری سیاسی قوت بنانے کی کوشش کی ۔90 کی دہائی میں ان دونوں جماعتوں کو تین بار حکومت چلانے کا موقع ملا لیکن یہ تینوں بار ناکام رہیں اس لئے میں نے سوچا کہ ہم خیال لوگوں اور جماعتوں سے مل کر سیاسی فورس بنائی جائے کیونکہ ملک کی ترقی کیلئے سیاسی کلچر میں تبدیلی ناگزیر تھی ۔ اسی سوچ کی بنیاد پر میں نے آل پاکستان مسلم لیگ کی اکتوبر2010ءمیں بنیاد رکھی اور اس جماعت کو پورے ملک میں پھیلانے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہاکہ میں جانتا ہوں کہ جب تک میں خود قیادت نہ کروں پارٹی میں جان نہیں ڈالی جاسکتی اسی لئے میں نے وطن واپسی کافیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے بتایا گیا تھا کہ پاکستان میں میری جان کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے ۔ میں دہشت گردوں کے خطرے کے ساتھ ساتھ جوڈیشل ایکٹیو ازم سے بھی آگاہ تھا، مقدمات کا بھی پتہ تھا اس کے باوجود وطن واپسی کا فیصلہ کیا۔ یہ ساری باتیں مجھے آج یاد آرہی ہیں۔ مجھے وطن واپسی پر احساس ہوا کہ یہاں میرے لئے سیکورٹی اور قانونی خطرات میری سوچ سے زیادہ ہیں، مجھے الیکشن سے زندگی بھر کیلئے نا اہل قرار دیا گیا یہ افسوس کی بات اور غیر آئینی ہے اس فیصلے کو چیلنج کرینگے اور امید ہے کہ انصاف ملے گا۔ وطن واپسی پر مجھے مقدمات میں الجھا دیا گیا اور آرٹیکل 6 کے تحت غداری کا مقدمہ بنا دیا گیا میں نے اس ملک کیلئے جنگیں لڑیں، ایکشن دیکھا اس دھرتی کیلئے اپنا خون اور جان دینے کو تیار رہتا ہوں۔ میں نے ملک کو ترقی اور عوام کو خوشحالی دی دنیا میں پاکستان کا نام اوررتبہ بلند کیا۔ انہوں نے کہاکہ الیکشن کے بعد میرے سارے شکوک و شبہات درست نکلے۔2013ءکے بعد کوئی تبدیلی نہیں آئی وہی نظام، وہی لوگ اور وہی تباہی جاری ہے۔ پانچ سال میں بھی صورتحال تبدیل نہیںہوسکتی مرکزی حکومت کا مسائل پر قابو نہیں، معیشت تباہی کی طرف جارہی ہے ، دہشت گردی میں اضافہ ہوا ہے ، سیاسی محاذ آرائی اور دھرنے جاری ہیں، حکومت نام کی کوئی چیز نظر نہیں آرہی ملک کو بجلی ، گیس اور پانی کے بحران کا سامنا ہے عوام بدحال ترین ہوگئے ہیں کوئی ترقیاتی منصوبہ شروع نہیں کیا جاسکا، میٹرو بس کو لوگ کوس رہے ہیں ہر شخص اس کے خلاف ہے، غریبوں کیلئے عدل و انصاف نہیں اس لئے دھرنے ہورہے ہیں، عوام کو اپنے آئینی حقوق کیلئے دھرنوں کی طرف جانا پڑا اس لئے تبدیلی کے بغیر ملک کا مستقبل تاریک ہے

مشرف

مزید :

صفحہ اول -