تحریک انصاف مڈٹرم الیکشن نہیں ‘خیبر پی کے عوام سے معافی مانگے:زاہد خان

تحریک انصاف مڈٹرم الیکشن نہیں ‘خیبر پی کے عوام سے معافی مانگے:زاہد خان

  

لاہور(سٹاف رپورٹر)عوامی نیشنل پارٹی اورجماعت اسلامی نے کہا ہے کہ حکومت کو سنجیدگی سے سیاسی بحران کو حل کرنے کے لئے آگے بڑھنا ہوگا ، مڈٹرم الیکشن مسائل کا حل نہیں ۔نظام کو درست کرنے کی ضرورت ہے اس کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کو کردار ادا کرنا چاہیے لیکن اس سوچ کو ختم کرنا چاہیے کہ تختہ الٹ کر نظام بدلا جائے غیر آئینی طریقے سے حکومت کو گھر بھیجنے کی مخالفت کریں گے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ”پاکستان “سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما اور سینیٹر زاہد خان نے کہا ہے کہ عمران خان خیبر پختونخواہ سے راہ افرار اختیار کرنے کے لئے مڈٹرم الیکشن کا مطالبہ کررہے ہیں انہوں نے خیبر پختونخواہ عوام کو جو وعد ے کرکے ووٹ لئے تھے اب انہیں پورا کریں اور ادھر ادھر بھاگنے کی بجائے وہاں پر ڈلیور کریں ےہ تاریخ میں پہلی بار ہوا ہو گا کہ خیبر پختونخواہ عوام بارشوں کی تباہی سے ہلاک ہو رہے تھے تو ان کا وزیراعلی اسلام آباد میں دانس کررہا تھا مڈٹرم الیکشن مسائل کا حل نہیں ہے اگر وہ عوام کو ڈلیور نہیں کر سکتے تو پھر عوام کو سہانے خواب دکھانا بند کردیں اور خیبر پختونخواہ عوام سے معافی مانگیں ۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کچھ لوگوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں جس کا احساس انہیں وقت گزرنے کے بعد ہوگا اور یہ پھر روتے کے روتے رہ جائیں گے ۔عمران خان کو چاہیے کہ وہ نیا پاکستان بنانے سے پہلے نیا خیبر پختونخواہ ہی بنادیں جب سے تحریک انصاف نے خیبر پختونخواہ میں حکومت سنبھالی ہے وہاں کوئی مثبت تو نہیں منفی تبدیلی ضرورآئی ہے ہسپتالوں میں علاج و معالجہ کی بنیادی سہولیات کی فراہمی تک رکی ہوئی ہے ۔تعلیمی اداروں کی بھی یہ ہی صورتحال ہے ابھی تک وہ یکساں تعلیمی نظام نہیں لا سکے جس کے بڑے دعوے کئے تھے ۔جماعت اسلامی کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل فرید پراچہ نے کہا کہ مڈٹرم الیکشن کی سنجیدگی سے تجویز آئی تو پھر جماعت اسلامی کی مرکزی مجلس شوری میں فیصلہ کیا جائے گا کہ آیا اس کی حمایت کرنی چاہیے یا مخالفت ،انہوں نے کہا کہ حکومت کو غیر آئینی طریقے سے ہٹایا گیا تو اس کی مخالفت کریں گے اس اقدام سے احتجاج کرنے والوں کو بھی فائد ہ نہیں ہوگا ۔ہمیں یہ بھی سوچنا ہے کہ اگر الیکشن ہوتے ہیں تو کس نظام کے تحت ، اگر 2013ءکے انتخابی نظام کے تحت الیکشن ہونے ہیں تو پھر ان الیکشن کا کیا فائدہ ۔لہذا نظام درست کرکے الیکشن ہونگے تو پھر بہتر ہے نظام میں پائی جانے والی خرابیوں کو دور کرنا بہت ضروری ہے۔

مزید :

صفحہ آخر -